In form, Abbas is determined to return to the national team

12

حمد عباس عمدہ فارم کی بدولت قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پْرعزم ہیں، پیسر کا کہنا ہے کہ ہیٹ ٹرک کا خواب پورا ہوگیا، وکٹیں ملتی رہیں تو بولر کی رفتار اور مورال میں فرق نہیں پڑتا،ون ڈے فارمیٹ میں مواقع دینا مینجمنٹ کی صوابدید ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائیٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ‘‘کرکٹ کارنر ود سلیم خالق ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عباس نے کہاکہ کاؤنٹی کرکٹ میں توقع سے بڑھ کر اچھا آغاز ہوگیا، ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ نہیں ہورہی،فارم میں واپسی کیلیے نیٹ کے بجائے میچ پریکٹس اہمیت کی حامل ہے۔

اس لیے میں انگلینڈ میں پرفارم کرنے کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں،انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے کئی بار 2 گیندوں پر وکٹیں حاصل کیں، اب ہیٹ ٹرک کا خواب بھی پورا ہوگیا،17گیندوں پر 5وکٹیں بھی لیں،اسی فارم کو آئندہ میچز میں بھی برقرار رکھتے ہوئے قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پْر امید ہوں۔ قومی ٹیم سے باہر ہونے پر مایوسی کے سوال پر پیسر نے کہا کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں،مینجمنٹ نے جو بہتر سمجھا وہی فیصلہ کیا لیکن مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، چیف سلیکٹر محمد وسیم کا فون آیا تھا کہ آپ ٹور کیلیے منتخب نہیں ہوئے مگر ہائی پرفارمنس سینٹر میں خامیاں دور کرنے کی کوشش کریں۔
ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بھی مجھ سے بات کی، بولنگ کوچ وقار یونس نے میرے ساتھ بیٹھ کر ویڈیوز دیکھیں،ان کا خیال تھا کہ شاید انجری کے بعد میرے ایکشن میں کوئی فرق پڑا ہوا، مگر پھر سابق کپتان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے،یہ ہوجاتا ہے کہ بولرز کو وکٹیں نہیں ملتیں لیکن ہمت نہ ہارو اور کوشش جاری رکھو، میں محنت کررہا ہوں، عزم یہی ہے کہ ماضی کی طرح ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کروں۔ رفتار کم ہونے کے سوال پر محمد عباس نے کہا کہ میں پہلے بھی 150کلومیٹر کی رفتار سے گیندیں کرنے والا بولر نہیں تھا،دراصل 10یا 12اوورز میں بولر کو وکٹیں مل جائیں تو پیس اور مورال بہتر ہوجاتا ہے۔

پیسر نے کہا کہ میرے ہاتھ میں صرف محنت ہے، کوئی بھی فارمیٹ ہو سو فیصد پرفارم کرنے کی کوشش کرتا ہوں،ون ڈے کرکٹ میں مواقع دینا مینجمنٹ کی صوابدید ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں بیٹنگ میں بھی ٹیم کے کام آنے کی کوشش کرتا ہوں، نائٹ واچ مین کی حیثیت سے کبھی آؤٹ نہیں ہوا