Imaam e Mayousi | Yasir Pirzada

42

Imaam e Mayousi | Yasir Pirzada latest column in Jang Akhbar

ہماری بحثیں کیا ہیں؟ ہمارے مسائل کیا ہیں؟ ہمارے دانشور کیا لکھتے ہیں؟ ہمارے اخبارات میں کیا چھپتا ہے؟ ہمارے چینلز پر کیا دکھایا جاتا ہے؟ ہمارے مذہبی پیشواؤں کا مطمح نظر کیا ہے؟ ہماری جامعات میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟ ہمارے استاد کیا کہتے ہیں؟ ہمارے مبلغ کیا پرچار کرتے ہیں؟ ہمارے لیڈران کا وژن کیا ہے؟ ہمارے طلبہ کی کیا منزل ہے ؟ہماری مڈل کلاس کیا سوچتی ہے؟ ہماری اشرافیہ کا برتاؤ کیسا ہے ؟ہمارے پڑھے لکھے طبقے کا اخلاقی معیار کیا ہے ؟
کچھ سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اخبار اٹھائیں اور مذہبی مسائل والا صفحہ تلاش کرکے پڑھنا شروع کریں۔ ’’کیا عورت کا مسجد میں جانا جائز ہے؟ فجر کی اذان کے بعد میرے منہ میں کھانے کے ذرات رہ گئے، کیا روزہ مکروہ ہو جائے گا؟ جوتے پہن کر کسی کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟ میری ایک لڑکی سے منگنی ہوئی تھی، اسے میں نے کسی اور لڑکے کے ساتھ کینٹین میں دیکھ لیا اور دل میں کہا میں نے طلاق دی، تو کیا طلاق ہو جائے گی ؟میں نے ایک گاڑی خریدی، اس کے کاغذات ابھی میرے نام نہیں ہوئے، کیا میں اس پر زکوٰۃ ادا کروں گا؟ کیا بھائی کی سالی سے نکاح جائز ہے؟ عورت حجاب میں کتنے بال کھلے رکھ سکتی ہے؟‘‘یہ ہیں ہمارے مسائل۔ چینلز کا حال مزید مضحکہ خیز ہے۔ افطاری کے وقت کسی بھی تفریحی چینل کو ٹیون کریں اور ملاحظہ فرمائیں لوگو ں کا بھکاری پن۔ بچے، بوڑھے، مرد، عورتیں….. چند ہزار کے تحفے کی خاطر بیہودہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کے لئے آمادہ بلکہ بے تاب نظر آئیں گے۔ حجاب اوڑھی ہوئی عورتیں موٹر سائیکل پرغیر مرد کے پیچھے بیٹھ کر سیلفیاں بنواتی نظر آئیں گی کہ اس کے بدلے انہیں موٹرسائیکل ملے گی اور اچھی خاصی بارعب شخصیت کے مرد حضرات آن کیمرہ گھٹنوں میں غبارہ اور منہ میں گلاب جامن ٹھونس کر اٹھک بیٹھک کریں گے تاکہ وہ کوئی موبائل فون جیت سکیں۔ کیا ہم ایک بھکاری قوم ہیں؟ اشرافیہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ بھکاری نہیں، کہہ سکتی ہے کہ یہ لوئر مڈل کلاس کے لوگ ہیں جو اپنی خواہشیں پوری کرنے کے لئے اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں….. اشرافیہ کا مگر اپنا کردار کیا ہے؟ کچھ عرصہ پہلے لاہور میں ایک شاندار شاپنگ مال کا افتتاح ہوا، آپ اس شاپنگ مال میں جائیں تو یوں لگتا ہے جیسے یورپ کے کسی ملک میں گھوم رہے ہوں، وہی بین الاقوامی برینڈ، وہی اعلیٰ معیار، بیسمنٹ میں وسیع پارکنگ….. مگر اس شاپنگ مال کی پہلی منزل پر کھڑے ہو کر اگر آپ باہر نگاہ ڈالیں تو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر آپ کو نظر آئیں گے اور یہ جگہ مال سے چند فٹ کے فاصلے پر ہے، اربوں روپے کا شاپنگ مال تعمیر کرنے والا یہ ارب پتی پاکستان کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہے مگر اس نے یہ زحمت نہیں کی کہ مزید چند روپے لگا کر اس کے ارد گرد کی زمین سے کچرا اٹھوا دے، اس پر درخت لگا کر شاداب بنا دے، ماحول کو خوشگوار بنانے میں اپنا کوئی حصہ ڈال دے….. نہیں….. یہ اشرافیہ کا حال ہے۔ مبلغ کہہ سکتے ہیں کہ وہ معاشرے میں اچھائی کی ترغیب دیتے ہیں، نیکی کی طرف لوگوں کو مائل کرتے ہیں، دین کے احکامات کی پیروی کی تلقین کرتے ہیں….. اور کیا چاہئے….. بظاہر یہ کس قدر خوش کُن باتیں ہیں، انہیں سے متاثر ہو کر کروڑوں لوگوں نے نعتوں کو بطور رنگ ٹون موبائل فون میں محفوظ کر رکھا ہے، ایک دوسرے کو پورا پورا قرآن ہم وٹس ایپ پر بھیجتے ہیں، احادیث مبارکہ سے فیض یاب کر رہے ہیں، عمرے کے ٹکٹ کٹوا رہے ہیں، حج درخواستیں دے رہے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے پورا معاشرہ دن رات نیکیوں میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔ مبلغ کے پرچار میں کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ضرور ہے کیونکہ نعتوں کی رنگ ٹون والے یتیم کی جائیداد پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں، آیتیں وٹس ایپ کرنے والے ڈنکے کی چوٹ پر ٹیکس چوری کرتے ہیں، عمرے پہ جانے والے ملاوٹ کرنے کو گناہ ہی نہیں سمجھتے اور حج کا قصد کرنے والوں کو ہمارے مبلغین بتاتے ہیں کہ جب حج کر آؤ گے تو یو ں گناہوں سے پاک ہو گے جیسے کوئی نومولود، ہو گئی چھٹی، اب چاہے سمگلنگ کرو یا وعدہ خلافی، کوئی مسئلہ نہیں، ہر جمعرات ایک دیگ داتا صاحب دے آؤ اور چندہ اُس مسجد کے مولوی کو جس نے حج کے بدلے تمام گناہوں سے معافی کا فتویٰ دیا ہے ۔۔۔اللہ اللہ خیر سلاّ۔
بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تعلیم ہی تمام مسائل کا حال ہے سو پڑھے لکھے لوگوں سے امید رکھنی چاہئے، چلئے انہیں بھی آزما لیں۔ یہ ایک سفارت خانے کی عمارت ہے، یورپ کے ویزے کے حصول کی ایک طویل قطار ہے، زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ بلکہ اعلیٰ ڈگریوں کے حامل ہیں، پھر ایسا کیوں ہے کہ غیرملکی سفارت خانہ ہمارے تمام کاغذات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ویزے کے ہر امیدوار کے بارے میں ان کی یہ رائے کیوں ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے تاوقتیکہ وہ خود کو سچا اور اپنے کاغذات کو مستند ثابت نہ کردے؟ جواب ہم سب کو معلوم ہے ۔جعلی بینک اسٹیٹمنٹ سے لے کر جھوٹی ایف آئی آر تک ہم سب کچھ بنوا سکتے ہیں، تعلیم اس میں آڑے نہیں آتی، غیرملکی سفارت خانے کے نزدیک ہم ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں لہٰذا وہ ہمارے ایک ایک کاغذ کی اپنے طور پر تصدیق کرواتی ہیں اور اس کام کے لئے انہوں نے باقاعدہ ماہرین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ غیرملکیوں سے کیا گلہ اپنے ملک میں نادرا کے دفتر میں چلے جائیں، وہ آپ کی اصل دستاویزات کی بھی متعلقہ محکموں سے تصدیق کرواتے ہیں کیونکہ اکثر پڑھے لکھوں کے کاغذ جعلی نکلتے ہیں۔ یہ وہی پڑھے لکھے ہیں جو بظاہر دن رات اس ملک کی بہتری کے لئے کڑھتے ہیں، نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں اور اپنے مخالف نقطہ ٔ نظر رکھنے والے کے بارے میں مغلظات بکتے ہیں، تعلیم سے یہ اتنا بھی نہیں سیکھ پائے کہ دلیل کے جواب میں جب گالی آئے تو اس کا مطلب ہے کہ دلیل کا جواب نہیں، مقدمہ ہارا جا چکا ہے۔ اخلاقی زوال کے شکار اس پڑھے لکھے طبقے سے کیا امید رکھی جائے !
آج میں نے ’’امام مایوسی‘‘ بن کر معاشر ے کی تصویر کا ایک ہی رُخ پیش کیا ہے، اسی لئے آپ کو یہ تصویر مکروہ لگے گی ۔ کسی بھی تصویر کا ایک رُخ نہیں ہوتا۔ یہ قوم بھکاری نہیں، دل کھول کر صدقہ و خیرات بھی دیتی ہے، ریاکار مبلغ ہی نہیں اس معاشرے میں حقیقی نیک اور صالح افراد بھی بستے ہیں اور اخلاقی زوال کا شکار پڑھے لکھے ہی نہیں بلکہ ہمارے پاس اعلیٰ اخلاقی کردار کے غیرتعلیم یافتہ لوگ بھی موجود ہیں جو راہ چلتے اجنبیوں کی مدد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ امام مایوسی بن کر کالم لکھنے کا مقصد اس قوم کے مستقبل سے مایوس ہونا نہیں، فقط فکر مندی کا اظہار ہے۔ جس قوم کے والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کے مستقبل میں ’’سرمایہ کاری‘‘ کریں، اس کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوا جا سکتا۔