Iblees Kay Leye Munsafana Samat Ka Haq – Yasir Pirzada

13

آپ نے اکثرامریکی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب کوئی پولیس والا کسی ملزم کو موقع واردات سے گرفتار کرتا ہے تو ہتھکڑیاں پہناتے ہوئے یہ جملے ضرور کہتا ہے ’’تمہیں خاموش رہنے کا حق حاصل ہے، جو کچھ بھی تم اپنے دفاع میں کہو گے اسے عدالت میں تمہارے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تمہیں وکیل کرنے کا حق بھی حاصل ہے، اگر تم وکیل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو سرکار اپنے خرچے پر تمہیں وکیل فراہم کرے گی‘‘۔ اسے Miranda Warningکہا جاتا ہے، اِس کا ماخذ امریکی عدالتِ عظمیٰ کا ایک فیصلہ ہے جس کے تحت پولیس پر یہ لازم ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت ملزم کو اُس کے حقِ دفاع کے متعلق صراحت سے بتائے۔ اِسی طرح فلموں میں یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ پولیس جب کسی شخص کو مقدمے میں تفتیش کے لئے طلب کرتی ہے تو وہ شخص فقط اتنا کہہ دیتا ہے کہ میرے وکیل سے بات کرو اور پولیس اسے مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ اپنا یہ حق استعمال نہ کرے۔ اسی طرح یہ منظر بھی میں نے امریکی فلموں میں ہی دیکھا ہے کہ پولیس جب کسی کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کرتی ہے تو بھی ملزم اپنے وکیل سے تنہائی میں ملاقات کر سکتا ہے اور پولیس اُس میں کوئی مداخلت نہیں کرتی۔ امریکی نظامِ انصاف قابلِ رشک نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام تر خباثت کے باوجود امریکی عدالتی نظام میں ملزم پر چاہے جتنا بھی سنگین الزام کیوں نہ ہو، اُسے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ منصفانہ سماعت کا حق آخر ہے کیا؟

منصفانہ سماعت کے حق کا بظاہرمطلب یہ ہے کہ ملزم کو گرفتار کرکے اُس پر مقدمہ چلایا جائے اور پھر سزا دی جائے لیکن یہ ادھوری تشریح ہے کیونکہ مقدمے تو فسطائی حکومتوں میں بھی چلائے جاتے ہیں۔ ہٹلر اورا سٹالن نے بھی عدالتوں کے تحت ہی ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں، آمرانہ حکومتیں بھی فوری سماعت کے بعد فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا سناتی ہیں، گزرے وقتوں میں بادشاہ بھی کسی کا سر قلم کرنے سے پہلے اُس سے دو چار باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے سماعت کا حق کہا جاتا تھا۔ آج کے دور میں سماعت کے منصفانہ حق کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ جس عدالت کے سامنے مقدمے کی سماعت ہو وہ عدالت قانون کے تحت قائم کی گئی ہو، آزاد اور خود مختار ہو، سماعت کھلے بندوں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کی جائے، ہر شخصعدالت کے سامنے جوابدہ ہو، قانون سب پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے اور ملزم کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا جائے۔ یہ تمام شرائط پوری کرنا آسان کام نہیں مگر مہذب ممالک نے اِس ضمن میں مختلف طریقے وضع کر رکھے ہیں، مثلاً چند یورپی ممالک میں پولیس اور استغاثہ سے علیحدہ ایک محکمہ قائم ہے جس کا کام صرف جرم کے شواہد اکٹھے کرنا ہے، ضروری نہیں کہ یہ شواہد ملزم کے خلاف ہی ہوں، اس محکمے کا کام صرف اِس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا ملزم پر جرم کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یہ محکمہ کسی بھی صورت میں اِس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ ملزم نے جرم کیا یا نہیں بلکہ صرف سفارش کرتا ہے کہ ملزم پر مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اگر مقدمہ عدالت میں چلا جائے تو پھر اِس محکمے کا کام ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایسا کوئی محکمہ نہیں بلکہ یہ کام پولیس کرتی ہے اور عدالت میں چالان پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اُس نے ملزم کو قانون کے مطابق گرفتار کیا لہٰذا اسے پھانسی کی سزا ہی سنائی جائے۔ یہیں سے انصاف کا خون شروع ہوتا ہے۔ نور مقدم کیس میں تمام چینل اور اخبارات یہی کام کر رہے ہیں۔ اگلے روز سب نے یہ خبر نشر کی جسے پڑھ کر میرے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ نور مقدم کو قتل کرنے کے بعد جب ظاہر جعفر نے باپ کو فون کیا تو والد نے کہا کہ ’گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے بندے آ رہے ہیں، جو لاش ٹھکانے لگا کر اسے وہاں سے نکال لیں گے‘۔ اِس خبر کا ماخذ پولیس کا عبوری چالان تھا جو اُس نے عدالت میں پیش کیا، یہ چالان اُس مبینہ بیان کی بنیاد پر بنایا گیا تھا جو ظاہر جعفر نے پولیس کے سامنے دیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی لیکن پڑھنے والے یہ باریکیاں نہیں جانتے۔ اُن کی نظر میں ظاہر کا باپ ابھی سے قتل میں معاونت کا مجرم بن گیا ہے، ممکن ہے وہ واقعی مجرم ہو اور ممکن ہے کہ وہ نہ ہو مگر جب تک منصفانہ سماعت نہیں ہوگی ہم نہیں جان پائیں گے۔ منصفانہ سماعت کے حق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ملزم کے پاس اپیل کا حق ہو اور اپیل کی سماعت بھی انصاف کے انہی اصولوں کے تحت ہونی چاہئے جو بین الاقوامی طور پر مسلمہ ہیں۔ کوئی بھی ایسا ٹرائل، جس میں اپیل کا حق نہیں دیا جاتا یا اِس حق کو حاصل کرنے کے لئےالگ سے ایک مقدمہ کرنا پڑتا ہے، منصفانہ سماعت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا اور ایسے ٹرائل کے نتیجے میں سنائے جانے والے فیصلے قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اِس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہی مقدمہ شروع ہوکر ختم ہو جائے اور اس کے خلاف اپیل بھی نہ کی جا سکے۔

جب بھی کوئی شخص کسی بھیانک یا سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے تفتیش کے نتیجے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے تو معاشرہ کسی عدالت میں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی اُس کی پھانسی کا خواہش مند ہو جاتا ہے اور لوگ اسے سنگسار کرنے کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرے میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور بغیر کسی مقدمے کے تمام ’ثبوت‘ ملزم کے خلاف انصاف کے پلڑے میں رکھ دیے جاتے ہیں، انصاف کے اِس پلڑے کو برابر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مقدمے سے پہلے ہر شخص کو بےگناہ تصور کیا جائے اور پھر منصفانہ سماعت کے نتیجے میں ہی کوئی رائے قائم کی جائے۔ مجرم چاہے زینب کا قاتل عمران ہو، اجمل قصاب ہو، کلبھوشن یادیو ہو یا ظاہر جعفر اور اُس کا خاندان ہو، کسی نے چاہے جتنا بھی شیطانی کام کیوں نہ کیا ہو، منصفانہ سماعت کا حق اُس سےچھینا نہیںجا سکتا، ابلیس کو اگر منصفانہ سماعت مل سکتی ہے تو انسان کو کیوں نہیں!