Hybrid Nizam – Imtiaz Alam

11

ایک صفحہ پہ ہونے کی برکات سے فیض پانے والے ہوں، یا پھر ایک صفحہ کے پھٹنے کی ممکنہ سوغات پہ رالیں ٹپکانے والے ، ہیں تو سب کے سب ہائبرڈ نظام (دوغلے، دو سِروں والے) کے چٹے بٹے۔ ایسے میں بی بی جمہوریت کی عصمت دری تو ہوگی ہی ہوگی۔ گزشتہ بدھ کو ’مجلس شوریٰ‘ کا جو مشترکہ اجلاس اسٹیج کیا گیا، اس میں 33 قانونی مسودوں کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کوئی اندازہ تھا کہ کس بل کے حق میں کیوں ووٹ دے رہے ہیں اور نہ ہی بِھنائی ہوئی حزب اختلاف کو پتہ تھا کہ انتخابی اصلاحات کے دو مسودوں کے سوا وہ دیگر بلوں کی مختلف شقوں کی مخالفت میں کیوں ووٹ دے رہے ہیں؟ کوئی بل مشتہر ہوا، نہ مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کی چھلنی سے گزر کر ایوان میں آیا۔ قانون سازی کی تاریخ میں اگر کوئی ریکارڈ رقم ہوا تو بس اتنا کہ پارلیمنٹ نے بطور قانون ساز ادارہ اجتماعی خودکشی کرلی۔ رائے عامہ کا خیال، نہ پارلیمانی کثرت و شراکت کا بھرم، پارلیمانی روایات کی پاسداری، نہ وفاق کے ایوان بالا (سینیٹ) کا کوئی کردار بچا۔ کرشمہ سازی تھی تو پس پشت پتلیوں کی ڈوریاں کھینچنے والے مداریوں کی کہ گزشتہ سوموار کی رات نمبر گیم ایسی بدلی کہ بدھ کو مشترکہ اجلاس سُدھ ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی رات دن صفحہ پھٹنے والوں کے خواب چکنا چور ہوئے اور پارلیمان سے باہر دور بیٹھے میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان اس پتلی تماشے کو حقارت سے دیکھا کیے۔ جادوئی چھڑی سے وجود میں آنے والی مقننہ سے پارلیمنٹ میں انقلابی کایا پلٹ کی اُمید رکھنے والوں کی حالت زار پہ کوئی پھبتی کسے بھی تو کیا؟ ابھی صف ماتم لپٹی بھی نہیں تھی کہ ایوان بالا میں نیم مردہ اکثریت کو ایک نہیں کئی بلوں پر شکست ہوگئی جس میں احتساب کا ترمیمی ایکٹ بھی پلک جھپکتے پاس ہوگیا بھلا سینیٹر شیری رحمان کیسے ہی سڑے ہوئے تبرے بھیجا کریں۔

کوئی تاریخ رقم ہوئی بھی ہے تو وہ یہ کہ حق رائے دہی یا حق خود اختیاری کے رعایا کے ہاتھوں آزادانہ استعمال کی خطرناک بیماری سے بھی جان چھڑالی گئی ہے۔ اب مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ووٹ کی قسمت طے ہوگی۔ ووٹر کی نشاندہی انگوٹھے کے نشان سے نادرا کرے گا اور ووٹ کا بٹن دبانے والی مشین کا سافٹ ویئر بھی غیر مرئی ہاتھوں میں ہوگا۔ ووٹ ڈالا کیسے جائے گا، کھاتے میں کس کے نکلے گا اور اس کا پرنٹ آئوٹ بھی تو وہی ہوگا جو پروگرام طے کیا گیا ہوگا؟ خوب مقابلہ رہے گا اندرونی و بیرونی ہیکروں میں۔ آٹھ نو لاکھ مشینیں کیسے اور کہاں سے آئیں گی۔ کیسے سنبھالی اور استعمال کی جائیں گی اور وائی فائی کا انتظام بلا تعطل ملک کے طول و عرض میں کیسے برقرار رکھا جائے گا؟ منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بلا سے۔یہ سر درد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہوگا جس نے تو پہلے سے ہی ہاتھ کھڑے کردیے ہیں۔ بزلہ سنج آصف زرداری نے خوب پتے کی بات کی ہے کہ EVM لگائے گا کوئی، پھل کھائے گا کوئی۔ اگلے انتخابات کو جدید ٹیکنالوجی سے محفوظ کر لینے کے بعد، اب سال ڈیڑھ سال مردم شماری ہوگی، جس کی بنیاد پر نادرا انتخابی فہرستیں مرتب کرنے میں آزاد ہوگا۔ لہٰذا نہ صرف بروقت انتخابات کا انتظام ہی نہیں کرلیاگیا، بلکہ ’’مثبت نتائج‘‘ کو بھی یقینی بنا لیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر اوورسیز پاکستانیوں کے 90 لاکھ آئی ووٹوں سے پوری کرلی گئی ہے جس میں دہری شہریت والے بھی شامل ہیں اور وہ 45 لاکھ بھی ہیں جو خلیجی ممالک میں عربی کفیل اور اس کے اقامے کے کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں۔

سیاست کے اس بے ڈھبے اور بے مقصد کھیل میں رکھا ہی کیا ہے اور مہنگائی و غریبی سے بے حال عوام کو اس سے کیا غرض وہ تو بس روز مہنگائی کی چکی میں پسے جاتے ہیں جبکہ ریاست اپنی مالی اور مالیاتی خودمختاری آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھنے پہ مجبور ہے۔ جس کا اداراتی انتظام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مملکت سے خود مختاری کے ترمیمی قانون سے کردیا گیا ہے۔ 20فیصد افراط زر اور 8.75 فیصد شرح سود میں کوئی معیشت دان ہمیں تعلق سمجھائے گا تو کیسے۔ اپوزیشن اس پہ چیخی تو بہت لیکن ایک سخت جائزہ پیش کیا بھی ہے تو راندہِ درگاہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے۔ا سٹیٹ بینک کی خود مختاری یقینی بناتے ہوئے یہ کیوں بھلا دیا گیا ہے کہ پالیسی پارلیمنٹ نے طے کرنی ہے یا پھر گورنر اسٹیٹ بینک نے۔ اسی لحظہ یہ خیال دامن گیر ہوا چاہتا ہے کہ بھلا دست نگر معیشتوں، کاسہ گدائی پہ گزر بسر کرنے والوں اور موکل ریاست کے آمرانہ کل پروازوں کے پلے ہے ہی کیا کہ وہ معاشی و سیاسی خود مختاری سے فیض یاب ہوں۔ قانون سازی کی اس دھما چوکڑی میں حیرانی اس پر ہوئی کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے احکامات کی روشنی میں کی گئی قانون سازی پہ آخر کیوں اعتراض کیا گیا یا پھر سینیٹ میں صحافیوں کی سلامتی کے بل کی اپوزیشن نے کیوں مخالفت کی؟

چالو سیاست یہ کالم لکھنے کی بے مزگی اتنی بڑھی کہ دفعتاً ہمارے بھٹکے ہوئے دوست فواد چوہدری کے مذہبی انتہا پسندی کے سامنے ریاست کے ہتھیار ڈالنے کا دبنگ بیان یاد آیا جو صدا بہ صحرا ثابت ہوا۔ خیر سے سعد رضوی کی رہائی پہ تحریک انصاف پنجاب کے صدر انہیں ہار پہنانے سب سے پہلے پہنچے اور حکومت پنجاب نے سرکاری سطح پر مرحوم خادم حسین رضوی کے تین روزہ عرس کا ان کی شایان شان انتظام کیا ہے۔ آخر ریاست مدینہ ثانی میں اور رحمت اللعالمین اتھارٹی کے روح رواں وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے پاکستان کو اسلامی ریاست بننے سے کون روک سکتا ہے؟ تحریک لبیک پاکستان والے تو حرمت رسولؐ کے پروانے ہیں، یہاں تو دہشت گردوں کے سرخیلوں کو اسٹرٹیجک اثاثہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور تحریک طالبان پاکستان کو تحریک طالبان افغانستان کے طفیل پھر سے ’’قومی دھارے‘‘ میں لانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ بھلا 80 ہزار پاکستانیوں، پاک فوج کے جوانوں اور آرمی پبلک اسکول کے نونہالوں کے لواحقین کیسی ہی بد دعائیں دیا کریں۔ گزشتہ کالم میں جب میں نے یہ انتباہ کیا کہ افغان طالبان افغانستان کے ساتھ ساتھ کہیں پاکستان کو بھی نہ ڈبو دیں اور تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں کہیں قائداعظم کا پاکستان بھی امارات اسلامی پاکستان نہ بن جائے تو ایک دوست ریٹائرڈ جنرل نے خفگی سے جواب دیا کہ جو حالات درپیش ہیں تو اگر ایسا ہوتا ہے تو ہو جائے۔ اب کوئی کیا اور کس سے اُمید رکھے؟ یہ سب ہائبرڈ نظام ہی کی تو مہربانیاں ہیں، بھلا ہم بلڈی سویلین کیسے ہی خون کے آنسو بہایا کئیں۔