Humien Yaad Ho Keh Na Yaad Ho (Part 4)- Hassan Nisar

22

1260

ء۔ مملوک سلطان بیبرس ایل خانی منگولوں کو شکست دیتا ہے اور شامی ساحلوں پر بہت سے قلعے برباد کر دیتا ہے۔1273ء۔ جلال الدین رومی وفات پاتے ہیں۔1288ء۔ عثمان غازی بازنطینی سرحد پر اناطولیہ میں عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھتا ہے۔1326-59ء۔ عثمان کا بیٹا ارخان برصہ کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد عثمانی ریاست مستحکم کرتا ہے۔1334-53ء۔ غرناطہ کا بادشاہ یوسف الحمرا کی بنیاد رکھتا ہے جس کی تکمیل بیٹے کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ 1369-1405ء۔امیر تیمور عثمانی سلطان بایزید یلدرم کو شکست دیتا ہے اور دوسری طرف دہلی بھی فتح کر لیتا ہے تاہم اس کی وفات کے بعد اس کی عظیم سلطنت بکھر جاتی ہے۔1389ء۔ عثمانی سنبھل کر کوسوو کے میدان میں سربوں کو شکست دے کر بلقان فتح کر لیتے ہیں جس کے بعد اقتدار کو اناطولیہ تک وسعت دیتے ہیں۔ 1406ء۔ ابن خلدون دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ 1421-51ء۔سلطان مراد اول ہنگری اور مغرب کے خلاف کامیاب یلغار کرتا ہے۔ 1453ء۔سلطان محمد (دوم) الفاتح ناقابل شکست قسطنطنیہ فتح کر لیتا ہے اور اسے عثمانی سلطنت کا دارالخلافہ قرار دیتا ہے، جسے آج ہم استنبول کہتے ہیں۔1492ء۔غرناطہ پر کیتھولک بادشاہ فرڈیننڈ اور ازابیلا فتح حاصل کرتے ہیں۔ 1502-24ء۔صفوی صوفی سلسلہ کا سربراہ اسماعیل ایران فتح کر کے صفوی بادشاہت کی بنیاد رکھتا ہے۔ شیعت ایران کا سرکاری مذہب قرار پاتی ہے اور سنی عقائد کو دبانے کی کوششوں کے نتیجہ میں عثمانی سلطنت میں شیعوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں۔1510ء۔اسماعیل سنی ازبکوں کو خراسان سے نکال دیتا ہے۔ 1513ء۔پرتگیز تاجر جنوبی چین پہنچتے ہیں۔ 1514ء۔سلطان سلیم اول شاہ اسماعیل صفوی کو شکست دیتا ہے جس سے عثمانی علاقہ میں مغرب کی جانب صفویوں کی یلغار رک جاتی ہے۔ 1517ء۔عثمانی ،مملوکوں کو شکست دے کر مصر اور شام پر فتح حاصل کرتے ہیں۔ 1520-66ء۔ سلمان القانونی جسے اہل مغرب سلمان عالیشان کہتے ہیں عثمانی سلطنت کو مزید وسعت دیتا ہے اورعظیم ادارے قائم کرتا ہے۔ 1522ء۔عثمانی رہوڈز فتح کر لیتے ہیں۔ 1524-74ء۔ طہماسپ اول ایران کا دوسرا صفوی بادشاہ وہاں شیعی غلبہ کو مستحکم کرتا ہے اور اس کا دربار علوم و فنون خصوصاً مصوری کا مرکز بنتا ہے۔1526ء۔شاعر، ادیب اور جنگجو ظہیر الدین بابر ہندوستان میں مغلیہ خاندان کی بنیاد رکھتا ہے۔ 1529ء۔عثمانی ویانا کا محاصرہ کرتے ہیں۔ 1542ء۔پرتگیز پہلی یورپی تجارتی سلطنت قائم کرتے ہیں۔1543ء۔عثمانی ہنگری پر قبضہ کر لیتے ہیں۔1560-1605ء۔ جلال الدین اکبر مغل ہندوستان کا بادشاہ بنتا ہے اور مغل سلطنت عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ اکبر جنوبی ہندوستان کے علاقے بھی فتح کر لیتا ہے۔1570ء۔عثمانی قبرص فتح کر لیتے ہیں۔ 1578ء۔عثمانیوں کا عظیم معمار سنان پاشا انتقال کر جاتا ہے۔ 1580ء۔ پرتگیزی ہندستان میں کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ 1588-1629ء۔ شاہ عباس اول اصفہان میں ایک عظیم الشان دربار تشکیل دیتے ہوئے صفوی سلطنت پر حکومت کرتا ہے۔ وہ عثمانیوں کو آذربائجان اور عراق سے اکھاڑ دیتا ہے۔ 1590ء۔ڈچ ہندوستان میں تجارت شروع کرتے ہیں۔1601ء۔ڈچ پرتگیزی قلعوں پر قبضے کرنے لگتے ہیں۔1625ء۔احمد سرہندیؒ کی وفات1627-58ء۔شاہجہان مغل سلطنت پر حکومت کرتا اور تاج محل تعمیر کرواتا ہے۔ 1656ء۔عثمانی وزراء عثمانی سلطنت کے زوال کو روک دیتے ہیں۔1658-1707ء۔ آخری بڑا مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر حکمرانی کرتا ہے۔1669ء۔عثمانی کریٹ کو وینس سے حاصل کر لیتے ہیں۔1681ء۔عثمانی روس کو کیف دے دیتے ہیں۔1683ء۔عثمانی ویانا کے دوسرے محاصرے میں ناکام رہتے ہیں۔ 1699ء۔ عثمانیوں کی پہلی بڑی پسپائی کہ ایک معاہدہ کے تحت انہیں ہنگری کو آسٹریا کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔1707-12ء۔مغل سلطنت اپنے جنوبی اور مشرقی حصے کھو بیٹھتی ہے۔ 1715ء۔آسٹریائی اور پروشیائی بادشاہتیں وجود میں آتی ہیں۔ 1718-30ء۔عثمانی سلطنت کا سلطان احمد سوئم سلطنت کو بجا طور پر مغربیت سے ہم آہنگ کرنے کے لئے پہلی مرتبہ اصلاح کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ینی چریوں کی بغاوت کے باعث یہ اصلاحات ناکام رہتی ہیں۔ 1722ء۔افغان باغی اصفہان پر حملہ کر کے اشرافیہ کا قتل عام کرتے ہیں۔1726ء۔نادرشاہ عارضی طور پر ایرانی شیعہ سلطنت کی عسکری قوت بحال کرتا ہے۔1739ء۔نادر شاہ دہلی فتح کرتا ہے اور ہندوستان میں موثر مغل حکمرانی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیتا ہے۔(جاری)