Hum Itney Talented Kion Hai – Hassan Nisar

27

چشم بددور . . . . واقعی یہاں ’’ٹیلنٹ ‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ اس طرح تو زندہ آتش فشاں لاوا نہیں اگلتا جیسے یہ معاشرہ ٹیلنٹ اگلتا ہے۔ ہر بار نیا ’’ٹیلنٹ‘‘ متعارف ہونے یا منظر عام پر آنے کے بعد میں سوچتا ہوں کہ بس بھئی ’’اخیر‘‘ ہوگئی ، انتہائوں کی انتہا ہوگئی اور اب اس سے آگے یہ ’’ٹیلنٹ‘‘ بھلا اور کیا کمال دکھا سکتا ہے، لیکن میں ہر بار بری طرح شرمندہ ہو جاتا ہوں کیونکہ ٹیلنٹ کی فراوانی کوئی ایسا نیا کام دکھا دیتی ہے کہ خود حیرت بھی حیران رہ جاتی ہے۔

’’ٹیلنٹ‘‘ کی نئی واردات بھی لاجواب ہے۔ دنیا کی شاید ہی کوئی کمیونٹی اس کام کا جواب پیش کرسکے۔ ہم سب اس کارنامے پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ لاہور کے علاقہ گجومتہ سے شاہدرہ تک رواں دواں میٹروبس کے سٹیشنز پر موجود تنصیبات بھی چوری ہونے لگی ہیں۔

ہم سا ہو توسامنے آئے۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق 27 کلومیٹر ٹریک پر 27 سٹیشنز پر 64 بسیں چلتی ہیں اور مختلف بس سٹیشنز پر مسلسل چوری کی وارداتیں سامنے آ رہی ہیں۔ بجلی کی تاروں سے لے کر بلب اور بلبوں سے لے کر پنکھے اور سوئچ تک چوری ہو رہے ہیں۔ شالانظر نہ لگے اور یہ ٹیلنٹ یونہی دن دوگنی، رات چوگنی ترقی کرتا رہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس ٹیلنٹ کی وجہ سے بیشتر تنصیبات کام نہیں کررہیں اور میٹروبس سروس کی حالت جمہوریت سے بھی بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ الیکٹریکل انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے جس بھی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا تھا، اس نے اب تک کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا۔

پاکستان میں دو ٹھیکے بہت مشہور ہوئے۔ ایک تو پی ٹی وی پر جناب ضیا محی الدین کے پروگرام میں لگنے والا ٹھیکہ بہت مشہور ہوا، اس سے پہلے کبھی افیون کےٹھیکے ہوتے تھے لیکن سرکاری ٹھیکے سب کو مات دے گئے کہ یہ ٹھیکہ دینے اور لینے والے، دونوں کے پو بارہ ہوتے ہیں اور یہ کام بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاشرہ میں ’’ٹیلنٹ‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ دوسری طرف ٹیلنٹ کی فراوانی کے سبب بھاٹی چوک، شاہدرہ، داتا دربار، ایم اے او کالج والے میٹر وبس سٹیشنز پر نہ صرف برقی زینے بند ہیں بلکہ کئی جگہ ٹکٹنگ بوتھ بھی خراب ہیں اور سکیورٹی گارڈز کے پاس موجود سکینرز بھی اکثر خراب ہیں۔

یہ تو معاملہ ہے لاہور کے ’’ٹیلنٹ‘‘ کا جبکہ کراچی کا ٹیلنٹ لاہور والوں سے سینئر بھی ہے اور سپیریئر بھی کیونکہ کراچی والوں نے تو برسوں پہلے ریلوے ٹریک پر مارکیٹیں تعمیر کرلی تھیں اور تو اور ہمارا دارالحکومت اسلام آباد بھی ماشا اللّٰہ پورا پورا پاکستان بن چکا ہے۔ اک زمانہ تھا جب لوگ کہا کرتے تھے کہ ’’اسلام آباد سے نکلتے ہی پاکستان شروع ہو جاتا ہے‘‘۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان دنوں اسلام آباد بہت خوب صورت، پرسکون اور منظم تھا۔ پھر جیسے جیسے وہاں ’’رونق‘‘ اور ’’آبادی‘‘ بڑھتی گئی تو ’’ٹیلنٹ‘‘ بھی بڑھتا گیا جس کے نتیجہ میں گندگی، غلاظت، تجاوزات، ناجائز قبضے، لاقانونیت، آلودگی، افراتفری اور دھرنے وغیرہ بھی بڑھنے لگے اور آج چشم بددور . . . . اسلام آباد بھی پاکستان میں شامل ہو چکا ہے اور اگر کوئی تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے تو وہ مستقبل قریب میں پوری ہو جائے گی اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے خواب کی تعبیر بھی باقی خوابوں کی تعبیروں کی طرح الٹی ہو جائے گی۔

جیسے جیسے اقتصادی حالت بگڑتی اور آبادی بڑھتی جائے گی، ویسے ویسے ’’ٹیلنٹ‘‘ بھی ضربیں کھاتا جائے گا اور وہ وقت دور نہیں جب ہر طرف ٹیلنٹ ہی ٹیلنٹ ٹھاٹھیں مارتا نظر آئے گا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم لوگ اتنے ’’ٹیلنٹڈ‘‘ کیوں ہیں؟ یہ ہمارے ’’ڈی این اے‘‘ کا کمال ہے؟ کسی پیر فقیر کے تعویذ، گنڈے کی برکت ہے یا حالات اور زمینی حقائق ہی اتنے ہوشربا تھے کہ ہم بتدریج اتنے ’’ٹیلنٹڈ‘‘ ہوتے چلے گئے کہ آج کی مہذب دنیا بھی ہمیں حیرت و حسرت سے دیکھتی ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں میری مدد فرمائیں اور ایسا کرنے سے پہلے یہ چھوٹی سی بات دھیان میں رکھیں کہ پاکستان کی پیدائش کے ساتھ ہی تھوک کے حساب سے ’’جعلی کلیم‘‘ اور ’’جعلی ذاتیں‘‘ بھی پیدا ہوئی تھیں جن کا کسی نے نوٹس نہیں لیا اور پھر سونے پر سہاگہ کچھ یوں ہوا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آبادی میں مختلف قسم کے ’’پرمٹوں‘‘ کا زہر انجکیٹ کردیا گیا جس نے لوگوں کی ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے ’’ٹیلنٹ‘‘ کے دریا بہا دیئے کہ اگر گلیشیئرز زہریلے ہوں تو واقعی ندی نالوں کا پانی بھی زہریلا ہو جاتا ہے، پانی زہریلا ہو تو ’’آبی حیات‘‘ کے لئے زندگی کی بجائے موت کا پیغام بن جاتا ہے۔

SOURCERoznama. Jang