Hamare Khawaboun Ki Tabeer Kaun Batae Ga – Yasir Pirzada

12

سنجیدہ اور خشک مضامین میں اکثر ہمیں اِس قسم کے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بیسویں صدی کا جدید ذہن بےچینی اور اضطراب کا شکار ہے، مادیت نے ماڈرن آدمی کی مت مار دی ہے، انسان کا سکون چھن چکا ہے، راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور جدید آدمی اب فقط مصنوعی خوشی کے سہارے جی رہا ہے۔ ایسے مضامین چونکہ بھاری بھرکم دانشوروں کے قلم سے پھوٹتے ہیں سو خاصے بارعب لگتے ہیں، بندہ اِن ثقیل باتوں کے بوجھ تلے ہی دب جاتا ہے۔

اگلے روز ایسے ہی ایک ہمدم دیرینہ سے گفتگو ہو رہی تھی جو جدیدیت کے سخت ناقد ہیں اور نجانے کیوں مجھے جدید انسان سمجھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ مضطرب نہیں رہتے، کیا آپ سچی خوشی کے متلاشی نہیں، کیا آپ کو رات کو سکون کی نیند آتی ہے؟

میں نے کہا الحمدللہ ایسی کوئی بات نہیں، نہ ہی میں مضطرب ہوں اور نہ بے چین، زندگی سے خاصا مطمئن اور شاد ہوں، اور رہی بات نیند کی تو ہمیشہ سے ہی مجھے ایسی گہری نیند آتی ہے کہ بیدار ہونا عذاب لگتا ہے۔

میری بات سُن کر وہ مضطرب ہو گئے، پھر کہنے لگے اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کہ آج کل موبائل فون کون سا اچھا آ رہا ہے، آپ کو تو پتا ہے میں ہمیشہ جدید ماڈل استعمال کرتا ہوں۔ میں نے جواب دیا حضرت آپ ماڈل کے چکر میں نہ پڑیں، ویسے بھی بندہ عشق شدی ترک ’ماڈل‘ کن جامی۔ مصرع کے داد دیے بغیر انہوں نے فون بند کر دیا۔

سچی بات ہے کہ نیند کبھی بھی میرا مسئلہ نہیں رہا، البتہ کچھ عرصے سے میں نے ایک نیا کام شروع کیا ہے کہ نیند کے دوران اپنے خوابوں کو یاد کر کے اُن کی تفصیل لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک دو مرتبہ تو جی کڑا کر کے میں نے یہ مشق کر لی مگر اُس کے بعد ہمت نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ خواب ڈراؤنے نہیں، فقط ناقابل اشاعت ہیں۔

ڈراؤنے خواب تو مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ ایسے خواب کے بعد جب بندہ بیدار ہوتا ہے تو شکر کرتا ہے کہ یہ صرف خواب تھا، حقیقت نہیں۔ آنجہانی سگمنڈ فرائیڈ کہتے ہیں کہ خواب ہماری ناآسودہ خواہشات کا مظہر ہوتے ہیں، جن خواہشات کو ہم شعوری طور پر غلط، غیر اخلاقی یا گناہ سمجھتے ہیں وہ ہمارے لاشعور میں محفوظ رہتی ہیں اور پھر خوابوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔

’’خوابوں کی تعبیر‘‘ میں وہ لکھتا ہے کہ خواب کے دوران ہمارا ذہن بالکل مختلف طریقے سے کام کرتا ہے، ایک بیدار ذہن شعوری طور پر عموماً کسی بڑے واقعے کو یاد رکھتا ہے جبکہ خواب میں ہمارا لاشعور اُس واقعے سے جڑی جزئیات کو سامنے لاتا ہے۔ خواب بظاہر بےجوڑ، مضحکہ خیز اور بیہودہ لگتے ہیں مگر درحقیقت اُن میں کچھ نہ کچھ ربط ہوتا ہے۔

کوئی بھی خواب ایسا نہیں ہوتا جس میں خواب دیکھنے والا خود شامل نہ ہو۔ سب سے دلچسپ بات فرائیڈ نے یہ کہی کہ خواب میں دیا گیا پیغام دراصل پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ خواب میں لا شعور اُس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے جس کو انسان نے شعوری طور پر دبایا ہوتا ہے۔

اپنے پیغام کو مخفی رکھنے کے لیے ہمارا لاشعور خواب میں ہماری دبی ہوئی خواہشات کو بعض اوقات ایک بالکل متضاد انداز میں دکھا کر شعور تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی بالکل تجریدی انداز میں اُس کا اظہار کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خوابوں کو بےسر و پا اور لایعنی کہہ کر سر سے جھٹک دیتے ہیں۔

فرائیڈ کہتا ہے کہ زیادہ تر خوابوں کی تفصیل ہمیں یاد نہیں رہتی اور ہم بیدار ہوتے ہی بھول جاتے ہیں کیونکہ ہمارا شعور بیداری کی حالت میں واپس آتے ہی ذہن کا اختیار سنبھال لیتا ہے اور اپنی سلطنت سے لاشعور کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں خوابوں کی تفصیل فراموش کرا دیتا ہے۔

فرائیڈ کی ایڈی پس کمپلکس کی تھیوری سے بھی ہم واقف ہیں، بقول فرائیڈ انسانی نفسیات میں سارا چکر چونکہ جنس کا ہے سو خوابوں کی تعبیر بھی جنسی خواہشات میں مضمر ہے، اِن سے مفر ممکن نہیں، حتیٰ کہ دودھ پیتے بچے میں بھی جنسی رجحانات ہوتے ہیں۔ گو کہ فرائیڈ کی کتاب کو شروع شروع میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی مگر بعد ازاں فرائیڈ کے اِن افکار نے تہلکہ مچا دیا تھا، اسی لیے اسے جدید دنیا کا جینئس کہا جاتا ہے۔

تاہم اس کے وارستہ طبع ہم عصروں میں سے کارل ینگ اور الفریڈ ایڈلر نے فرائیڈ کے اِن نظریات سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام نفسیاتی مسائل جنسی خواہشاتی کو دبانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تینوں نفسیات دان جو ایک زمانے میں ویانا میں اکٹھے تھے اور ویانا کی سائیکو اینالیٹک سوسائٹی کے روح رواں تھے، بعد ازاں اپنے اختلافات کے باعث علیحدہ ہوگئے۔

فرائیڈ کی خوابوں کی تشریح پر دیگر نفسیات دانوں نے بھی تنقید کی ہے، ایک امریکی ماہر نفسیات جان بی واٹسن نے سینکڑوں دودھ پیتے بچوںکا طویل عرصے تک مشاہدہ کیا اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ اُن میں کسی بھی قسم کا جنسی رجحان نہیں پایا جاتا۔

اسی طرح کچھ اور تحقیقات بھی ہوئیں جن میں اِس بات پر تفصیلاً بحث کی گئی کہ آیا خوابوں کا کوئی مطلب ہوتا ہے یا خواب محض نیند کے دوران ذہن کی لایعنی اچھل کود کا نام ہیں۔ میں کوئی نفسیات دان تو نہیں کہ اِس بارے میں کوئی رائے دے سکوں لیکن ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں، لہٰذا فدوی کی رائے میں جدید طبی آلات کی مدد سے یہ معمہ بھی جلد ہو جائے گا (یا شاید ہو چکا ہو) آج کل انسانی دماغ کو اسکین کر کے اُس کا نہ صرف مشاہدہ کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا دماغ مختلف اوقات میں کیسے کام کرتا ہے۔

ہمارے فیصلے کرنے کے پیچھے کون سے ذہنی عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور کیا اپنے فیصلے کرنے میں ہم واقعی خود مختار ہیں، اپنی مرضی سے خواب دیکھتے ہیں یا پھر یہ صرف ہمارا واہمہ ہے۔ جدید سائنس نے مختلف تجربات کرکے اِس بات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ انسان کے پاس فیصلے کرنے کا آزادانہ اختیار ہے یا نہیں!

سائنس کو تو اِس ضمن میں ابھی کچھ شبہ ہے مگر مملکت خدادا دپاکستان کے ساکنان کو اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن کا اختیار سلب کر لیا گیا ہے، ہم تو خواب بھی اپنی مرضی سے نہیں دیکھ سکتے، تعبیر کیا بتائیں گے!