Hamare Bahir Aur Ander Kia Ho Raha Hai – Hassan Nisar

20

لکھنا تو بالکل ہی کچھ اور تھا لیکن چند اخباری اطلاعات نے ارادہ اور کالم کا رخ تبدیل کر دیا۔ سب سے پہلے تو نئے نکور وزیر اطلاعات کا یہ بیان کہ عوام کی مدد کے بغیر کورونا کا مقابلہ ممکن نہیں ہوگا۔

بلاشبہ یہ ایک سو فیصد درست لیکن سو فیصد ادھورا سٹیٹمنٹ ہے کیونکہ کورونا کیا، انسانی تاریخ کی کوئی حکومت عوام کی مدد کے بغیر کسی شعبہ یا میدان میں کبھی کچھ نہیں کر سکی اور نہ آئندہ کر سکے گی۔ اسی لئے دنیا کی ہر قابل ذکر قیادت نے سب سے پہلے ’’نیشن بلڈنگ‘‘ پر فوکس کیا جسے میں مدتوں سے ’’انسان سازی‘‘ لکھ رہا ہوں کیونکہ آدمیوں کو انسان بنائے بغیر کوئی حکومت کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکتی۔

کوئی کامیابی مل بھی جائے تو وہ جعلی، مصنوعی، وقتی اور عارضی ہو گی۔ ’’انسان سازی‘‘ کا عمل بیحد پیچیدہ، صبر آزما، مشکل اور طویل ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس میں کوئی ’’شارٹ کٹ‘‘ بھی نہیں ہوتا۔

یہ تقریروں، بھاشنوں اور ہتھیلی پہ سرسوں اگانے والے سطحی، اتھلے، عجلت پسندوں کا کام نہیں۔ انگریزی کے ایک لاجواب محاورے کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ- ’’ایک جھاڑی کے پیدا ہونے اور پروان چڑھنے، جوان ہونے کے لئے صرف ایک موسمِ برسات کافی ہوتا ہے جبکہ شاہ بلوط جیسے درخت کی جوانی کیلئے کم از کم ایک سو برساتوں کے برابر مدت درکار ہوتی ہے‘‘۔

ہمارا المیہ یہ کہ ہماری نام نہاد قیادتیں فکری طور پر اس قدر دیوالیہ ہوتی ہیں کہ اس طرح کے محاوروں کو سمجھنے کی استطاعت سے بھی محروم ہوتی ہیں۔ انہیں راتوں رات کوئی نہ کوئی جگاڑ لگانے اور ’’چمتکار‘‘ دکھانے کا جنون ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں نہ خدا ملتا ہے نہ وصال صنم نصیب ہوتا ہے۔

اور یوں ایسی قیادتیں چند سال چند کرتب دکھا کر تاریخ کی دھول میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔دنیا کی عظیم ترین محیر العقول ترین قیادت ہمارے آقاﷺ کی تھی۔ صرف اور صرف 23سال کے مختصر سے عرصہ میں کیسا ناقابل یقین معجزوں کا معجزہ ہے کہ آپؐ نے کم مایہ ترین ذروں کو آفتابوں، ماہتابوں میں تبدیل کر دیا۔

کوئی مسلمان یہ بات کرے تو سمجھ آتی ہے لیکن غور فرمائیے پروفیسر فلپ ہٹی (P. K. HITTI) جیسا عالی دماغ مسیحی مفکر اپنی شہرہ آفاق اور مقبول کتاب ’’HISTORY OF ARABS‘‘ میں کی لکھتا ہے:’’پیغمبر اسلامؐ کی وفات کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے عرب کی بنجر زمین جادو کے ذریعہ عظیم ہیروز کی نرسری میں تبدیل ہو گئی ہو کہ اتنی زیادہ تعداد میں اور اتنی بے شمار خصوصیات کی حامل شخصیات کا کہیں بھی پایا جانا ناممکن سی بات ہے‘‘۔

سبحان اللہ! کاش پروفیسر فلپ اس حقیقت کا حوالہ بھی دے دیتے کہ اس وقت مکہ اور مدینہ کی آبادیاں کروڑوں، لاکھوں میں نہیں صرف ہزاروں میں تھی۔

ہے انسانی تاریخ میں کوئی ایک لیڈر بھی جس نے ایک دو پائے کے لیڈرز بھی پیدا کیے ہوں؟’’ریاست مدینہ‘‘ کا خواب تو بہت ہی خوب صورت ہے لیکن اس کی تعبیر بلکہ تعبیر کا عکس پانے کے لئے بھی طبیعتوں سے لے کر ترجیحات تک بہت کچھ تبدیل کرنا ہوگا جبکہ ادھر کیا گھڑمس ہے؟

ایک طرف کورونا، دوسری طرف کریکس کی ماری لرزاں و ترساں معیشت، تیسری طرف بھارتی پاگل پن کا پاکستان پر حملے کے بہانے ڈھونڈنا کہ خود وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھارت کی پاکستان پر الزام تراشی اور کنٹرول لائن پر فائرنگ بھی اسی مقصد کے لئے ہے اور چوتھی طرف-

حکومت اور اپوزیشن تو چھوڑیں، حکومت کے اپنے اتحادی شجاعت حسین اور پرویز الٰہی ’’نیب‘‘ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دینے اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ- ’’تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتی فیصلے بھی آ چکے اور انہیں 19سال پرانی بند کی جانے والی انکوائری کھولنے کا اختیار نہیں۔

چودھری برادران نے کوئی قرضہ معاف نہیں کرایا۔ 17سال تک اثاثہ جات کی نام نہاد انکوائری چلتی رہی۔ 2000ء میں ہمارے یعنی چودھری برادران کے گھروں پر چھاپے تک مارے گئے۔ نیب شجاعت کے گھر کی پیمائش تک کرتا رہا۔ کبھی کوئی ملکی غیر ملکی اثاثہ سامنے نہیں آیا۔

آج تک کسی ایسے بینک تک کا نام تک نہیں بتایا گیا جس کے ہم لوگ ڈیفالٹر ہوں نہ کبھی کسی بینک کا کوئی کلیم سامنے آیا۔ ایسے میں اسے انتقام نہیں تو اور کیا کہیں گے‘‘۔

معاملہ ہائی کورٹ میں اور ایک پنجابی محاورے کے مطابق ’’جٹ جانے تے بجو جانے‘‘ میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ ہمارے باہر کیا ہو رہا ہے بلکہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور ہم نے اندر کیسا کیسا ادھم مچا رکھا ہے؟

حکومت کا رخ مشرق کی طرف اپوزیشن کا رخ مغرب کی طرف اتحادیوں کا رخ شمال کی طرف عوام کا رخ مہنگائی کرنے اور سہنے کی طرف کورونا کا رخ ہر طرف معیشت کا رخ پاتال کی طرف ایسے حالات میں رہ رہ کر اس وقت کا بغداد یاد آتا ہے جو بے رحم تاتاریوں کی ننگی تلواروں کی زد میں تھا اور وہاں کے مختلف اقسام کے ’’قائدین‘‘ سے لے کر عوام تک عجیب و غریب سوالوں کے جواب تلاش کر تے کرتے بالآخر خود خواب بن کے رہ گئے۔