Hakumat Ki Gumshudgi | Tauseef Ahmad Tauseef

28
Tauseef Ahmad Tauseef column in Jehan Pakistan newspaper
سوال یہ ہے کہ ہم اس حکومت کو کہاں تلاش کریں۔ بہت سوچا مگر ہمیں تو اس کی تلاش کے لئے کوئی سرا مل ہی نہیں رہا۔ اس سلسلے میں وہی ہماری مدد کریں جنہوں نے اس کی ”گمشدگی“ کی اطلاع فراہم کی ہے۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کی ذہانت کا جو معیار ہے ہم تو اس کے پاسنگ بھی نہیں لہٰذا خود کو بے بس پاتے ہوئے ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے فرمایا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں کہیں نظر نہیں آ رہی اور عدلیہ تو حکومت پر اعتماد کرتی ہے مگر حکومت شاید عدالت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ جج صاحبان نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عدالتی احکامات کو ساس بن کر نہ دیکھا جائے….اگر محترم و معزز جج صاحبان برا نہ منائیں تو ہمارے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اعتبار کس پر کیا جا رہا ہے۔ ایک نادیدہ شے پر….ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ جواب میں کیا ملے گا۔ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا ہے کہ جب ایک چیز کہیں نظر ہی نہیں آ رہی تو صاف ظاہر ہے کہ وہ وجود ہی نہیں رکھتی….اگر نادیدہ ہے تو پھر وہ ہے کیا….نادیدہ تو جن بھوت ہوتے ہیں جو ہوا کے ایک جھونکے کی طرح آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں کسی کو خبر تک نہیں ہو پاتی۔
ریمارکس میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کرتے ہیں کہ قارئین سب کچھ گزشتہ روز کے اخبارات میں پڑھ چکے ہیں۔ فی الحال ہم ساس والے معاملے پر مختصر سی بات کریں گے۔ اس کے بعد حکومت کی تلاش میں نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر حکومت ساس ہے تو پھر اس کے رویے سے شاقی فریق کو لازمی بہو تسلیم کرنا پڑے گا جو ہم کر نہیں سکتے۔ فرض کر لیں ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ساس اپنے طرزِ عمل میں خود کو حق بجانب قرار دے گی۔ جیسا کہ دنیا کی ہر ساس قرار دیتی ہے۔ اس میں رنگ و نسل، ذات پات اور مذہب وغیرہ کی کوئی پابندی نہیں۔ ساس بھی تو بہو کے رویے سے شاقی ہو سکتی ہے۔ ساسوں سے عموماً یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے کہ جب میں بہو تھی تو ساس اچھی نہ ملی اور اب ساس ہوں تو بہو اچھی نہیں ملی ….اور یہ یونیورسل اصول ہے۔ خیر چھوریں اس بارے میں آخری بات کرتے ہیں۔ جب ساس کے ”بڑوں“ پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو وہ کڑک مرغی تو بنے گی۔ اس کو زیادہ کھول کر بیان کر دیتے ہیں کہ وزیراعظم کے وزیراعظم کو خارج دفتر کر دیا جائے گا تو پھر کہاں کا آئین اور کہاں کا قانون…. دنیا میں کوئی ساس کبھی کسی ”آئین و قانون“ کی پابندہوئی ہے؟
لیکن ہمارا اصل مسئلہ حکومت کو تلاش کرنا ہے۔ اس کے لئے ہمیں شاید کچھ چھاپہ مار پارٹیاں بیرون ملک روانہ کرنا پڑیں گی کہ پچھلی کی طرح موجودہ حکومت بھی اب اندرون ملک کی نسبت بیرون ملک زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس وقت بھی غالباً وہ بیرون ملک ہو گی۔ اسی لئے وہ ملک کے اندر کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیتے وقت خیال رکھیں کہ یہ پنجاب پولیس پر مشتمل ہوںپھر دیکھتے ہیں حکومت کیسے برآمد نہیں ہوتی….ایک کیا کئی حکومتیں برآمد ہو جائیں گی….اور ایک کی جگہ کئی وزیراعظم مل جائیں گے۔ یہ بھی خیال رہے کہ ان ٹیموں میں بڑی بڑی مونچھوں والے لوگ شامل کئے جائیں….ہمارا گمان ہے کہ سپریم کورٹ کا شکوہ دور ہو جائے گا۔
اب ذرہ سنجیدہ بات کرتے ہیں….حکومت نظر نہ آنے کا مطلب ہے کہ یہ جو بیچاری حکومت ہے یہ بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ شاید اس کو کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا….یا اسے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ اس کے فرائض کیا کیا ہیں۔ اس سے تو ہمارے ماضی کے وہ وزیر دوست ہی اچھے تھے جن سے سٹاف افسر نے کہا کہ ان فائلوں پر SEEN لکھ دیں تو انہوں نے جھٹ سے سب پر ”س“ لکھ دیا۔ بیچارہ سٹاف افسر ان کی پھرتیوں پر حیران رہ گیا۔ لگتا ہے یہ حکومت تو اس سے بھی گئی گزری ہے۔
چند دن پہلے تک راولپنڈی اوراسلام آباد کے شہریوں کی جو حالت تھی اس سے اب لاہور والے ”لطف اندوز“ ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی طرح اب پنجاب حکومت بھی بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ حتیٰ کہ اس حکومت کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کا دھرنا ختم کر ایا تھا۔ کہنے کا مطلب ہے کہ وہ آئیں اور لاہور میں بھی دھرنا ختم کرائیں یعنی پنجاب حکومت بھی وفاقی حکومت کی راہ پر ہے….وزیراعظم تو خیر ان دو تین ہفتوں میں خاموشی کا روزہ رکھے رہے اور زبان و بیان کے جوہر دکھانے کا سارا معاملہ بیچارے احسن اقبال پر ڈال دیا گیا۔ احسن اقبال صاحب میں طلال چودھری صاحب بھی شامل ہیں۔ ایک کردار وگفتار سے بالکل پروفیسر لگتا ہے اور دوسرے کو کچھ شر پسند قسم کے لوگ دھمال کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔
بات لاہور پر آ گئی ہے۔ چیئرنگ کراس پر دھرنا والوں کی ایک قلیل تعداد نے ڈیرے ڈال دیئے اور عذاب سارا شہر بھگت رہا ہے۔ ان علاقوں میںبھی ٹریفک کا برا حال ہے جو اس دھرنا پارٹی سے خاصے فاصلے پر ہیں۔ ٹریفک کنٹرول کرنے والے ہیں کہ موج سے وائرلیس پر گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں۔ ٹریفک رواں ہوتی ہے یا نہیں….ان کی بلا سے….بعض مقامات پر تو ان کی موجودگی ٹریفک کی روانی میں مزید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ سارے شہر میں ایک ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔
اپنی مختصر سی داستان آپ کو سناتے ہیں۔ چار بجے دفتر پہنچنا تھا کہ ایک میٹنگ تھی۔ گھر سے گاڑی وقت پر چل پڑی مگر جوں جوں دھرنا والوں سے فاصلہ کم ہو رہا تھا گاڑی کی رفتار سست ہوتی جا رہی تھی۔ اکثر مقامات پر تو کافی دیر کے لئے رفتار کی سوئی صفر پر آ جاتی اور یہ صورتحال دھرنا والوں سے کئی کلو میٹر دور تھی۔ ذرا قریب آئے تو گاڑی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا کہ اس کے آگے پیچھے، دائیں بائیں گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں لہٰذا ڈرائیور صاحب سے کہا کہ بھائی اب تو دفتر پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے….وہ یہ کہ ہم تو چلے پیدل….اب آپ جانیں اور گاڑی جانے…. یقین ہے کہ انہیں دفتر تک پہنچنے میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو ضرور لگا ہوگا۔ جبکہ فاصلہ محض ایک ڈیڑھ فرلانگ تھا….لیکن اب ہمیں کسی قسم کا رونا رونے کی بجائے اس سب کچھ کا عادی ہو جانا چاہئے….یہ عادت اس وقت تک برقرار رہنی چاہئے جب تک حکومت کو تلاش نہیں کر لیا جاتا اور یہ تلاش ہمارا، آپ کا یعنی ہم سب کا فرض ہے کہ اسی میں ہماری فلاح ہے۔ اس سلسلے میں معزز و محترم عدالت عظمیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے حکومت کی گمشدگی سے قوم کو آگاہ کیا….تلاش اپنی جگہ مگر اس دوران ملکی و غیر ملکی اخبارات میں تلاش گمشدہ کے اشتہارات دیدیے جائیں اور ان کا بل محترم وزیراعظم کو بھیج دیا جائے۔
٭٭٭