Gham Na Kar Zindagi Pari Hai Abhi | Nusrat Javed

60

Nusrat Javed Today’s column In Nawaiwaqt newspaper .

چودھری نثار علی خان صاحب نے بالآخر اتوار کی شام وہ پریس کانفرنس کر ہی ڈالی جس کا ہماری سیاست میں تب و تاب، جاوداں دیکھنے اور پیدا کرنے والوں کو بہت شدت سے انتظار تھا۔ میں نے وہ پریس کانفرنس مگر جان بوجھ کر نہیں دیکھی۔ سوشل میڈیا پر اس کی بابت ہوئے تبصروں سے اگرچہ معلوم ہوگیا کہ ”مزا نہیں آیا“۔
بہت شور، وفور توقعات اور ضرورت سے زیادہ پبلسٹی کے بعد کسی فلم کے ”ڈبہ“ ثابت ہونے والی کیفیت۔ اس کیفیت کو جان کر مجھے ہرگز شرمندگی یا جرم کا احساس نہیں ہوا کہ خود کو ملکی سیاست کا عقلِ کل ٹائپ مبصر و وقائع نگار سمجھتے ہوئے میں نے وہ پریس کانفرنس اپنے ٹی وی پر دیکھنے اور سننے کی زحمت ہی نہ اٹھائی۔
غالب اپنے محبوب کو خط لکھنے کے بعد قاصد کے حوالے کرتے ہی ایک اور خط لکھنے بیٹھ جاتے تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ ”وہ“ کیا لکھیں گے جواب میں۔ پرویز رشید کے چودھری صاحب کے وزیر داخلہ کے ایام کے بارے میں ایک ٹی وی انٹرویو میں ادا ہوئے چند فقروں کے جواب میں چودھری صاحب وہی کچھ کہہ سکتے تھے جو اتوار کی شام انہوں نے کہہ ڈالا۔ اس سے زیادہ کی توقع ناانصافی تھی۔
چودھری صاحب یقینی طور پر نواز شریف سے ان دنوں بہت ناراض ہیں۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرارپائے وزیر اعظم کے نام سے منسوب پاکستان مسلم لیگ سے مگر چکری کے خاندانی راجپوت کو اب بھی بہت امیدیں ہیں۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات کی بدولت قومی اسمبلی میں پہنچنے کے بعد سے وہ اس مسلم لیگ کے قیام کی کاوشوں میں ہمہ وقت متحرک رہے۔
”نان مارشل ریس“ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی اکثریت کا یقین کی حد تک گماں ہے کہ پوٹھوہار کے ایک معروف فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے چودھری صاحب کی ”ان“ سے بہت جان پہچان اور انڈرسٹینڈنگ ہے۔ نواز شریف کے سائے سے محروم ہو جانے کے بعد وہ ان دنوں کسی اور مہربان کی تلاش میں ہیں۔ ”لوٹے“ مگر وہ کہلانا نہیں چاہتے۔ عمران صاحب کی تحریک انصاف میں ویسے بھی ان کے مقامی شریکوں کا ہجوم اکٹھا ہوچکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پے درپے جلسوں کے باوجود جہلم سے ملتان تک پھیلے ہوئے حلقوں میں فی الوقت پیپلز پارٹی کا قومی یا صوبائی اسمبلی کے لئے دیا ٹکٹ جیت کی شرطیہ گارنٹی نہیں دیتا۔ سرائیکی وسیب کے جہاں دیدہ اگرچہ نجی محفلوں میں اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ نواز شریف کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں فراغت کے بعد کہیں آصف علی زرداری ایک بار پھر سب پر بھاری ہونا نہ شروع ہو جائیں۔ ایسے افراد کے لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ سرجھکا کر شاہد خاقان عباسی کا ساتھ دیا جائے۔ ان سے وزارت نہ بھی ملے تو کم از کم آئندہ الیکشن میں ”اپنے لوگوں کو منہ دکھانے کے لئے“ بجلی کے چند کھمبے اور گیس کے کنکشن تو مل جائیں گے۔ عباسی حکومت نے لنگڑاتے اور کراہتے ہوئے اس اسمبلی کی بقیہ آئینی مدت کی تکمیل کروادی تو حتمی فیصلے عبوری حکومت کے دوران کیے جائیں گے۔
چودھری نثار علی خان اس دور میں مسلم لیگ (ن) کو جو”نون سے نثار“ کی مسلم لیگ بھی کہلائی جا سکتی ہے زندہ اور توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نواز شریف کے لئے انتہائی کڑے دکھتے اس دور کے عین درمیان چودھری صاحب انہیں دغا دینے یا چھوڑ جانے کی تہمت اپنے صاف دامن پر کیوں لگوائیں؟ وقت اچھا بھی آئے گا ناصر ،غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہماری سیاسی بساط کو جبلی طورپر خوب پہچاننے کے دعوے دار خواتین وحضرات کی اکثریت کو ابھی تک یقین ہے کہ ”بوٹوں“ کا شور تو بہت ہے مگر ان کی آمد ضروری نہیں۔ ٹیکنو کریٹس پرمشتمل حکومت کی گنجائش بھی بہت روشن نظر نہیں آرہی۔ فرض کرلیا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات آئینی طورپر طے شدہ عرصے میں 2018 ءکے دوران ہی ہوں گے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں کوئی ایک سیاسی جماعت ازخود حکومت بنانے کے لئے واضح اکثریت حاصل کرتی نظر نہیں آرہی۔ Hung پارلیمان کی باتیں ہورہی ہیں جو ایک مخلوط حکومت بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرے۔ ”نون سے نثار“ والی مسلم لیگ کی بدولت آئندہ اسمبلیوں تک پہنچنے والے مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانا چاہیں گے۔ عمران خان صاحب ایچی سن کالج کے دنوں سے چودھری صاحب کے دوست ہیں تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود کپتان کو چکری کے راجپوت کی صداقت وامانت پر پورا اعتبار ہے وہ تحریک انصاف کے ساتھ مخلوط حکومتیں بنوانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان کی سیاست پر کالم لکھنے کا لہذا یہ مناسب موقع نہیںہے ویسے بھی جس صبح یہ کالم چھپے گا اس وقت تک امید ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ افغانستان کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرچکا ہوگا ۔ اس کی جانب سے متوقع پالیسی کا شاید ہمارے میڈیا میں کماحقہ ذکر نہ ہو پائے۔اگرچہ امریکی وزیر دفاع نے یہ اعلان کیا ہے کہ پیر کی شام نمودار ہونے والی پالیسی محض افغانستان تک محدود نہیں ہوگی۔ ”جنوبی ایشیائ“ بھی اس کا موضوع ہوگا۔ جنوبی ایشیاءمیں پاکستان کے ساتھ بھارت بھی شامل ہے۔ یہ دونوں ممالک ایٹمی قوتیں بھی ہیں۔ تعلقات ان دونوں کے ایک بار پھر بہت کشیدہ ہیں۔ جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کے ادوار میں جب پاکستان، افغانستان کے حوالے سے واشنگٹن کی مدد کرنے کو آمادہ ہو جاتا تو امریکی حکومت ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کروانے کے لئے اہم کردار ادا کرتی تھی۔ شاید اس بار پاکستان،ٹرمپ کی طے شدہ پالیسی میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کے لئے دل وجان سے تیار نہ ہو چین کی دوستی اور CPEC نے ہمیں کافی اعتماد بخشا ہے۔ ہمارا اعتماد امریکہ کو ناراض بھی کرسکتا ہے۔ ہم سے خفا ہوکر وہ بھارت سے ہماری کشیدگی کم کروانے کے بجائے اسے بڑھاوا دینے کی گیم بھی لگا سکتا ہے۔
ان سب معاملات پر غور کرنے کی مگر فرصت کسے صحافت کو اب چاہیے Ratings۔ اس کا تقاضہ ہے کہ پھیپھڑوں کا پورا زور لگاکر سوال اٹھایا جائے کہ سپریم کورٹ سے ”گاڈفادر“ کہلوا کر نااہل قرار ہونے کے باوجود نواز شریف کو احتساب بیورو والوں نے ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا تانکہ ”قوم کی لوٹی ہوئی“ دولت کا بھرپور حساب لیا جاسکے۔