Gautama Buddh – Hassan Nisar

25

میں نے ابھی ابھی ایک کتاب ختم کی”THE TEACHING OF BUDDHA” سوچا گوتم بدھ کی کچھ باتیں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرلوں۔ کہتے ہیں:خود کو فتح کرنا بڑی سے بڑی جنگ میں فتح پانے سے کہیں بڑھ کر اور برتر ہے۔OOOجیسے آندھیاں پہاڑوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، اسی طرح ’’میں‘‘ کسی دانا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔OOOصرف ایک دن جینا اور صرف ایک اچھی بات پر عمل کرنا سو سال جینے اور لغویات سننے سے بہتر ہے۔OOOیہ دنیا ہمیشہ سے لالچ، غصہ اور حماقت کی آگ میں جل رہی ہے۔OOOیہ دنیا کیا ہے؟ پانی کا بلبلا، مکڑی کا جالا۔OOOنظم و ضبط، قوت برداشت امتحان کی انتہا ہے۔OOOخیال ا ور عمل میں خالص اور پاکیزہ رہنا ہی کامیابی ہے۔ OOO دوسرے کے عیبوں کی نشان دہی آسان ترین لیکن اپنے عیبوں کا اعتراف مشکل ترین ہوتا ہے۔OOOدنیا اور دوام دو علیحدہ حقیقتیں ہیں۔OOOجیسے اک محافظ قلعہ کی حفاظت کرتا ہے، ویسی ہی جانبازی جانفشانی سے اپنی روح کی حفاظت کر۔OOOماضی میں مت بھٹکو، مستقبل کے خواب مت دیکھو، حال پہ یکسو رہو۔OOOدانش بہترین رہبر اور عقیدہ بہترین دوست ہے۔OOOدل اور دماغ پر اختیار حاصل کرنا مقدس فریضہ ہے۔OOOانسان کو چاہیے اپنے خاندان کے لئے خود کو بھلا دے، اپنے گائوں کے لئے خاندان کو بھلا دے، اپنے وطن کے لئے گائوں کو بھلا دے اور خدا کے لئے یہ سب کچھ ہی بھلا دے۔OOOسکون صرف موت کی سرحد کے پار ہے۔OOOصرف اس لئے کھائو کہ اچھی بات سن اور سمجھ سکو۔OOOکمزور سے محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔OOOیہ غلط ہے کہ بدنصیبی دائیں، بائیں یا اوپر نیچےسے آتی ہے، یہ تو تمہارے اندر سے پھوٹتی ہے۔OOOلالچ، غصہ، خوف، اور حماقت سے بچتے رہو۔OOOبیٹا باپ کو دائیں، ماں کو بائیں کندھے پر بٹھا کر 100سال بھی چلتا رہے تو حق زندگی ادا نہیں کرسکتا۔OOOمحنت کش کیڑوں مکوڑوں اور شہد کی مکھیوں سے سیکھو کہ ذمہ داری کیا ہوتی ہے۔OOOحکمران کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرے اور یہ صرف قوانین پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔OOOایک دانا حکمران عوام کو دیتا ہے جب وہ کمی کا شکار ہوں اور لیتا ہے جب ان کے پاس ضرورتوں سے زیادہ ہو۔OOOبارش اور روشنی بہنوں کی طرح ہیں۔ ان کی کمی اور فراوانی بھی ایک جیسی ہے۔OOOخون کے دھبے خون سے نہیں دھوئے جا سکتے۔OOOپاکیزہ سوچ سارے ماحول کو پاکیزہ کردیتی ہے، غلیظ سوچ سارے ماحول کو غلیظ کردیتی ہے۔OOOدرویشوں جیسا بہروپ کسی کو درویش نہیں بنا سکتا۔OOOجس نے ہدایات پر عمل نہیں کیا وہ میرا عاشق نہیں، منافق ہے۔OOOروشنی دیکھنے کے لئے بینا آنکھ ضروری ہے۔OOOظاہر اور باطن میں کوئی فریق نہیں، صرف پہچان ہی امتحان ہے۔OOOعمل یکسوئی اور دانش ہی رخت سفر ہے۔OOOاس نے ٹوٹی ہوئی شاخ سے بھی کونپل پھوٹتی دیکھ لی۔OOOنہ جنت کا لالچ نہ جہنم کا خوف ہی اصل تلاش ہے۔OOOغریب آدمی سخی کیسے ہو سکتا ہے، متکبر آدمی راہ راست پر کیسے آسکتا ہے، کوئی سماعت کےبغیر سن کیسے سکتا ہے، آنکھوں کے بغیر دیکھ کیسے سکتا ہے، طاقت استعمال سے اجتناب کیسے کرسکتی ہے، عجز آسان کیسے ہوسکتا ہے، زندگی موت سے کیسے بچ سکتی ہے، دماغ پُرسکون کیسے رہ سکتا ہے۔OOOخود غرضی سے ’’خود‘‘ کو نکال دو۔OOOایک چراغ اپنی عمر کم کئے بغیر کئی چراغ روشن کرسکتا ہے۔OOO(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں