Fifty Shades of Munafqat | Yasir Pirzada

69

Yasir Pirzada latest column in Jang Akhbar

ایک زمانہ تھا جب اخبارات میں انگریزی فلموں کے اشتہارات اردو اخبارمیں شائع ہوتے تو نام کے ساتھ بریکٹ میں لکھا ہوتا ’’صرف بالغوں کے لیے‘‘ اور اُس میں کسی انگریز دوشیزہ کی تصویر ہوتی جس کے بدن کو کالی لکیروں سے ڈھانپ کر یہ پیغام دینا مقصود ہوتا کہ اخبار میں تو لکیروں سے کام چل گیا، فلم میں کیسے چلے گا تصور کرلیں۔ سو اسی لالچ میں نابالغ ہونے کے باوجود کئی فلمیں دیکھ ڈالیں اور ہر مرتبہ مایوسی نے قدم چومے۔ یہ بات یاد کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کچھ سال قبل کسی دوست نے ایسی ہی ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جس کا نام اب تو بچے بچے کی زبان پر ہے، اُس وقت نئی نئی آئی تھی یعنی’’ففٹی شیڈز آف گرے‘‘۔ اِس کتاب نے کتنے ریکارڈ توڑے، اس کے کتنے ایڈیشن آئے، فلم بنی تو اُس نے کیا کمایا، گانا کس قدر مقبول ہوا،یہ سب معلومات آپ گوگل سے خود اکٹھی کر سکتے ہیں۔ میرا دکھ تو یہ ہے کہ مبینہ طور پر ’’بالغوں کے لئے‘‘ اس کتاب نے مجھے اُسی طرح مایوس کیا جیسے لڑکپن کے زمانے کی انگریزی فلموں نے کیا تھا۔ ایک بات جو البتہ اِس کتاب سے میں نے اخذ کی وہ یہ کہ عورتوں کی شخصیت کے کئی تہہ در تہہ پہلو ہوتے ہیں اور انہی پہلوؤں کو لکھاری نے ففٹی شیڈز آف گرے کا نام دیا۔ لیکن بات صرف عورتوں پر ہی صادق نہیں آتی، مرد بھی ایسے ہی ہوتے ہیں، اُن کی شخصیت بھی پُرپیچ ہوتی ہے اور بعض مرد تو عورتوں سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ سو، کس انسان نے چہرے پر کتنے خول چڑھا رکھے ہیں یہ بات صرف وہ یا اُس کا خدا ہی جانتا ہے۔ ایک نارمل انسان بہرحال زندگی میں جھوٹ بھی بولتا ہے، چغلی بھی کرتا ہے، حسد بھی کرتا ہے، بزدلی سے بھی کام لیتا ہے اور بہادری کا لبادہ بھی اوڑھ لیتا ہے، نارمل انسان نفرت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اور محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں، درگزر کرنا بھی جانتے ہیں اور انتقام لینا بھی، تقویٰ اور پرہیز گاری بھی انسانوں میں پائی جاتی ہے اور بغض اور کینہ بھی، مبالغہ آرائی بھی انسانوں کی عادت ہوتی ہے اور خالص سچ بھی کچھ مواقع کے لئے سنبھال رکھا ہوتا ہے۔ انسانوں کی شخصیت کے یہ مختلف شیڈز ہیں جو ہر شخص میں پائے جاتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کسی میں کوئی جذبہ زیادہ ہوتا ہے اور کسی میں کم۔ کوئی بھی شیطان یا فرشتہ نہیں ہوتا، کوئی بھی حتمی طور پر کذاب یا صادق نہیں ہوتا، کوئی بھی مکمل طور پر صالح یا سو فیصدی بدکردار نہیں ہوتا، ہر انسان کسی حد تک منافق ہوتا ہے، کچھ کچھ پارسا ہوتا ہے اور تھوڑا بہت گناہ گار بھی ہوتا ہے۔
یہ تمام تجزیہ ہم پاکستانیوں پر البتہ لاگو نہیں ہوتا یا یوں کہئے کم ازکم پاکستان کی اربن مڈل کلاس اِس پر پورا نہیں اترتی۔ اس کلاس کا المیہ اب یہ ہو چکا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے لوگ خود کو پارسا ثابت کرنے کے چکر میں تمام وقت دوسرو ں پر شیطانیت کا الزام لگاتے رہتے ہیں، انسان ہونا اِن لوگو ں کے نزدیک جرم ہے، ہر شخص فرشتہ ہے یا شیطان، بلکہ یوں کہئے کہ میں فرشتہ ہوں باقی سب شیطان اور یہی اس کلاس کا واحد ’’شیڈ‘‘ ہے۔ ہمارے ملک کا یہ شہری طبقہ بدترین منافقت میں لتھڑ چکا ہے، ہم ڈنکے کی چوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں مگر اسے جھوٹ نہیں سمجھتے، ہم غیر قانونی کام کرتے ہیں مگر اسے غیر قانونی نہیں سمجھتے، ہم بد اخلاقی کی تمام حدیں پار کرتے ہیں مگر خود کو بد اخلاق نہیں سمجھتے۔ آپ ملک کا بدترین کذاب پکڑیں، اسے کسی ٹاک شو میں بٹھائیں اور پھر اُس کی گفتگو سنیں تو یوں لگے گا جیسے نعوذ باللہ وہ پیغمبری کے درجے پر فائز ہے۔ ہاں کبھی کبھی ہم لوگ رسماً یہ جملے ضرور بولتے ہیں کہ ’’میں تو بڑا گناہ گار انسان ہوں‘‘ یا ’’آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں‘‘ یا پھر ’’میں تو اس کا ایک عاجز بندہ ہوں‘‘ مگر غلطی سے بھی ان فقروں کو کبھی سچ نہ سمجھ بیٹھئے گا، یہ باتیں بھی اپنی بڑائی بیان کرنے کے لئے بیان کی جاتی ہیں کیونکہ کبھی کسی نے خود کو گناہ گار کہنے کے بعد اپنا کوئی گناہ گنوانا پسند نہیں کیا اور کسی خود ساختہ عاجز نے کبھی حقیقی عاجزی نہیں دکھائی۔ کبھی کسی کی عاجزی آزمانی ہو تو اسے سچ مچ کا عاجز سمجھ کے ملیں، وہ فرعونیت میں بھری عاجزی سے آپ کو عاجز کر دے گا۔ انسان منافق ہوتے ہیں مگر ہمارا یہ شہری طبقہ منافقات کی تمام حدود پھلانگ کر اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں منافقت سے کام نہ لینا ایک قسم کا جرم بن چکا ہے۔ خوشنما ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر ہم لوگ ہر اُس شخص کے بخیے ادھیڑتے ہیں جو اُس وقت محفل میں موجود نہ اور جس سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہو، سچ جھوٹ کی کوئی شرط نہیں۔ منافقت کی یہ وہ قسم ہے جہاں انسان اپنی ذات میں چھپی ہوئی خامیاں تلاش کرکے انہیں درست کرنے کی بجائے فقط دوسروں میں برائیاں تلاش کرنے میں جُتا رہتا ہے کیونکہ ذاتی تطہیر کا عمل بڑا کٹھن ہوتا ہے اور اعلیٰ درجے کے منافقین کو سرے سے اِس بات کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ حقیقت میں خود کو پارسا سمجھنے لگتے ہیں۔ ہماری اربن مڈل کلاس کا یہی المیہ ہے۔
ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اگر جنوبی افریقہ کی پیروی میں ہم بھی ایک Truth and Reconciliation Commissionبنا کر لوگو ں کو اس بات پر آمادہ کر لیں کہ وہ اپنی کمی کوتاہی کا اعتراف کرلیں اور سب کچھ بھول بھال کر آگے بڑھیں تو ملک و قوم کا بھلا ہو جائے گا اور قوم روز روز کے جنجال سے نجات پا لے گی اور یہ منافقت بھی ختم ہو جائے گی۔ بظاہر یہ بہت خوش کُن بات ہے مگر مسئلہ اس میں یہ ہے کہ ایسا کمیشن اُس وقت بنتا ہے جب کوئی قوم کسی بہت بڑی جدوجہد سے گزری ہو اور اس کے نتیجے میں مختلف گروہوں نے ایک دوسرے پر مظالم ڈھائے ہوں۔ مثلاً 1947کا واقعہ ایک ایسا موقع تھا جس کے بعد ایسا کمیشن بنایا جا سکتا تھا جس میں وہ لوگ آ کر اعترافات کرتے جنہوں نے اپنے ہمسائے کی ماؤں بہنوں کو صرف اس لئے ریپ کیا کہ وہ غیر مذہب سے تعلق رکھتی تھیں حالانکہ چند ماہ پہلے تک یہ مائیں بہنیں سب کی سانجھی تھیں۔ اس صورتحال میں جس گروہ کے ساتھ ظلم ہوتا ہے وہ بھی دل بڑا کرکے معاف کرتا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں سے نفرتیں ختم ہو سکیں۔ جس قسم کی صورتحال سے ہم دوچار ہیں اس میں کمیشن نہیں بنایا جا سکتا، کرپشن کے پیسے کو حلال کرنے کے لئے ایمنسٹی دی جا سکتی ہے اور یہ الٹا اس بدعنوانی کو بڑھاوا دیتی ہے۔
تو صاحبو اپنے اندر کی کمینگی باہر کی کمینگی کے خلاف باتیں کرکے ختم نہیں کی جا سکتی اور نہ باہر کی کمینگی کے خلاف شور و غوغا کرنے سے اپنے اندر کی کمینگی کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بعینہٖ اس دلیل کے پردے میں چھپنا کہ ہم خود تب ایماندار ہوں گے جب پورا نظام درست ہوگا، جب تمام لوگ کرپشن چھوڑ دیں گے یا جب یہ پورا سسٹم تیزاب سے دھویا جائے گا، منافقت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ نظام کی ناانصافیوں، ظلم اور اداروں کی نا اہلی کے بارے میں دن رات بات کرنا اور کسی طرح نظام کی کرپشن کو اپنی بددیانتی کی دلیل کے طور پر پیش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی دھماکے میں بے گناہوں کے چیتھڑے اڑا کر یہ جواز پیش کرنا کہ باطل حکومت کے عوام بھی واجب القتل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عام طور سے دیانت دار اور اجلے لوگ اداروں کی کرپشن کے بارے میں اتنا واویلا نہیں کرتے جتنا وہ لوگ کرتے ہیں جو اندر سے خود داغدار ہیں، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ایماندار آدمی کے اندر ایسا کوئی خوف یا ضمیر کی خلش نہیں ہوتی سو انہیں کرپشن کے خلاف ڈھول پیٹ کر خود کو دیانتدار ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ہماری منافقت کے شیڈز ہیں جن پر ایک علیحدہ کتاب لکھی جانی چاہئے، نام میں تجویز کئے دیتا ہوں’’ففٹی شیڈز آف منافقت‘‘