FATF Ki Siyasat – Andleeb Abbas

80

FATF Ki Siyasat – Andleeb Abbas

امریکی سیاست دان (Jesse M Unruh) کا کہنا ہے کہ دولت تمام سیاست کی ماں ہے ۔ اس بیان پر کسی کی اپنی رائے تو ہوسکتی ہے‘ مگر اسے جھٹلانا بہت مشکل ہے ۔ پہلی دنیا‘ تیسری دنیا یا ترقی یافتہ ممالک بمقابل کم ترقی یافتہ ممالک اور اسی طرح کی دیگر درجہ بندیاں ظاہر کرتی ہیں کہ دولت کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔یہ درجہ بندی میکرو اکنامک کے متغیرات‘ جیسا کہ جی ڈی پی‘ فی کس آمدنی وغیرہ پر مبنی ہے ۔ لوگوں کو تعلیم ‘ صحت اور زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے‘ اور نظام اور صنعت کو چلانے کے لیے دولت کی ضرورت ہے ۔ صرف یہی نہیں‘ براہ ِرا ست لڑی جانے والی جنگوں کے لیے بھی مالی وسائل درکار ہیں ۔افراد کے پاس پیسہ ہو تو وہ مہنگے کلبوں کی رکنیت حاصل کرسکتے ہیں؛ اُن کی سماجی حیثیت بلند ہوجاتی ہے؛ اہم فورمز اور تنظیمیں اُن کے لیے چشم براہ ہوتی ہیں‘ اسی طرح عالمی اداروں میں اہم حیثیت رکھنے والی امیر اقوام دنیا کی سیاست اور معیشت کے قوانین تبدیل کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔
قرض فراہم کرنے والے اہم ترین اداروں‘عالمی بنک اورآئی ایم ایف کے علاوہ بھی بہت سے مالیاتی ادارے یافورمز رقوم کی ترسیل پر نظر رکھتے ہیں۔ دنیا میں کالے دھن کی گردش کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ان فورمز کو تخلیق کرنے کی ضرورت پڑی۔ 1987ء کی G-7 پیرس کانفرنس میں منی لانڈرنگ پر بڑھتی ہوئی تشویش کی وجہ سے فنانشل ٹاسک فورس (FATF) تشکیل دی گئی ۔ ایف اے ٹی ایف نے دیکھا کہ رقوم کی سرحدوں کے آرپار غیر قانونی ترسیل بنکاری کے نظام اور مالیاتی اداروں کے لیے خطرناک ہے۔ سات عالمی طاقتوں کے سربراہان ِ مملکت اور یورپی کمیشن کے صدر نے G-7 رکن ریاستوں کے اراکین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی‘ جسے منی لانڈرنگ کے طریق ِ کار اور رجحان کی جانچ کرنے کی ذمہ سونپی گئی ۔ اس فورم سے قومی اور عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ اس کی روشنی میں منی لانڈرنگ کے خطرے کا تدارک کرنے کے لیے درکار مزید اقدامات کی سفارش کی گئی ۔ شروع میں ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ کے لیے مخصوص تھی ۔ اپنے قیام کے ایک سال سے بھی کم عرصہ ‘ یعنی اپریل 1990 ء میں اس نے چالیس سفارشات پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ‘جس میں منی لانڈرنگ سے لڑنے کے لیے ایک جامع پلان وضع کیا گیا‘ تاہم نائن الیون کے بعد ایف اے ٹی ایف نے اپنے سامنے دو اہداف ترجیحی بنیادوں پر رکھے۔ 2001 ء میں دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کی جانچ کے لیے ایک معیار وضع کرکے ایف اے ٹی ایف میں شامل کرلیا گیا۔ اکتوبر 2001 ء میں ایف اے ٹی ایف نے ٹیرر فنانسنگ سے نمٹنے کے لیے آٹھ سفارشات پیش کیں۔ پاکستان کو پہلی مرتبہ 2012 ء میں بلیک لسٹ میں ‘ اور پھر2018 ء میں گرے لسٹ میںرکھا گیا۔ یہ فیصلے انٹر نیشنل کواپریشن ریوو گروپ (ICRG) کی جائزہ رپورٹ کی بنیاد پر کیے گئے۔ پاکستان کو تزویراتی کمزوری کی حامل ریاستوں‘ جیسا کہ اتھوپیا‘ سربیا‘ سری لنکا‘ شام‘ تیونس‘ یمن‘ ٹرائینیڈاڈ اور ٹوباگو کے ذیل میں رکھا گیا۔ اس فہرست میں پاکستان کو شمار کیے جانے کی وجہ (1) ٹیرر فنانسنگ میں شناخت‘ جائزہ اور نگرانی کا خطرہ‘( 2) اینٹی منی لانڈرنگ اور فنانشل ٹیررازم کے قوانین کی خلاف ورزی کا تدارک ثابت کرنا‘ (3) غیر قانونی رقم یا سروسز کی منتقلی پر کارروائی‘ (4) ٹیرر فنانسنگ کے لیے نقد رقوم لے جانے والوں کو کنٹرول کرنا تھا۔
ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں رکھے جانے نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے‘ اس کا نقصان پہنچتا رہے گا۔ پاکستانی بینکنگ سسٹم عالمی مالیاتی نظام سے منسلک ہے ۔ اس فہرست میں ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت خاصی تمازت محسوس کررہی ہے ۔ اس نے ملک کی درآمد اور برآمدکے شعبے کے علاوہ بیرونی ممالک سے رقوم کی ترسیل کو متاثر کیا ‘ نیز عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی بھی مشکل ہوچکی‘ جیسا کہ 2018 ء کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ظاہر کرتا ہے ۔ غیر ملکی مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ جیسی سرگرمیوں کے اندیشے سے بچنے کیلئے انتہائی احتیاط کرتے ہیں۔ اس سے تاخیر کے علاوہ بزنس کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔
زیادہ تر عالمی او ر کثیر ملکی فورمز کی طرح سیاست کا کردار معاشیات‘ اخلاقیات اور حتیٰ کہ قوانین سے بھی ماوراء ہوتا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف ایک ایسا فورم بن چکا‘ جس کے ذریعے بھارت پاکستان پر دبائو ڈالنے کی پوزیشن میں ہے ۔ نریندر مودی نے بہت کامیابی سے امریکہ کو اپنا اتحادی بناتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کی ترویج کرنے والا ملک قرار دیا۔ 2018 ء تک ٹرمپ اور مودی‘ دونوں پاکستان پر ”ڈومور‘‘ کا دبائو ڈال رہے تھے ‘ تاہم 2019 ء میںسیاست کی ہواکا رخ تبدیل ہونا شروع ہوگیا اور اسی طرح پاک امریکہ تعلقات بھی ۔ پاکستانی وزیر ِاعظم پر کبھی طالبان کا حامی ہونے کا الزام لگتا تھا‘ کیونکہ اُن کا موقف تھا کہ جنگ افغان مسلے کا حل نہیں‘ لیکن اب وہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا میں صدر ٹرمپ کے سب سے اہم معاون ہیں ۔
سیاسی حرکیات میں تبدیلی اور مودی کے کشمیر میں کریک ڈائون اور شہریت بل نے حالات کا دھارا بھارت کے خلاف کردیا ۔ ایف اے ٹی ایف کے ایک حالیہ اجلاس میں بھارت نے پاکستان پر دبائو ڈالنا چاہا‘ لیکن اس کی پیش نہ چلی ۔ دوسری طرف جون 2018 ء میں یہ عالم تھا کہ ترکی کے سوادنیا کے کسی ملک نے بشمول چین اور سعودی عرب پاکستان کا ساتھ نہیں دیا تھا‘ لیکن جنوری 2020 ء کے اجلاس میں زیادہ تر یورپی ممالک نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے ستائیس امور میں اہم پیش رفت دکھائی ہے ؛اگرچہ حالیہ اجلاس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان کے لیے دیگر اراکین کے موقف میں نرمی آتی جارہی ہے ‘لیکن پاکستان کو یہ فرض نہیں کرلینا چاہیے کہ گرے لسٹ سے نکلنا اب کچھ ہی دیر کی بات ہے ۔ اس کی بجائے پاکستان کو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے ہوں گے:۔
1۔ تمام خامیوں کو درست کرنے کے لیے فوری ایکشن : صرف ایف اے ٹی ایف ہی نہیں‘ منی لانڈرنگ اور دھشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی عملی اقدامات درکار ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کو جواز بنا کر تمام مشکوک عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا موقع ہے ‘کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے ان اقدامات کو عوامی حمایت حاصل ہوگی۔ عوام کی اکثریت ایف اے ٹی ایف کو ترجیحی معاملہ سمجھتی ہے ۔
2۔ ایف اے ٹی ایف لابنگ تیز کرنا: ایف اے ٹی ایف کے ممبران کو تین درجوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے ۔ سہولت کار ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ان کے ساتھ مزید روابط بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ غیر جانبدار ممالک وہ ہیں‘ جنہیں بھارت اپنے زیر ِ اثر کرسکتا ہے ۔ ضروری ہے کہ ہم براہ ِراست یا مشترکہ دوستوں کے ذریعے اُنہیں قائل کریں۔ تیسرا گروپ معترضین کا ہے ۔ وہ جارحانہ اقدامات اٹھاتے ہوئے ہمارے خلاف تعاون نہ کرنے کا کیس بنائیں گے۔ ہمیں اُن کے اعتراضات کی پیش بینی کرتے ہوئے اُن کے جوابات تیار کرنے چاہئیں۔
3۔ تزویراتی اہمیت کااحساس دلانا جاری رکھیں: افغان امن مذاکرات میں ہمارا کردار بہت اہم ہے ۔ اس ضمن میں ہمیں دبے لفظوں میں‘ یا کھلے عام بتانا ہوگا کہ سہولت کاری کے عوض ہمیں بھی کچھ درکار ہوگا‘ یعنی اپنی اہمیت کا احساس دلاتے رہنا ہو گا۔
سیاست اور معیشت باہم مربوط ہیں۔ بھارت بہت دیر سے اپنے ترویراتی اور سفارتی بازو مضبوط کرنے کے لیے اپنے معاشی حجم کی اہمیت کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عالمی سیاست پر اثر انداز ہورہا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف محض ایک دھمکی ہی نہیں‘ بلکہ یہ پاکستان کو ایک موقعہ بھی فراہم کرتی ہے کہ ہم محض منی لانڈرنگ اور ٹیر ر فنانسنگ کی روک تھام تک ہی محدود نہ رہیں ‘بلکہ اپنی معاشی‘ سماجی اور سیاسی جغرافیائی سکت کو بڑھاتے ہوئے قوموں کی برداری کے اہم کھلاڑی بنیں