F9 Park Aur Siyasi Majbooriyan – Sarwat Valim

28

کسی کی کیا مجال حکومتی فیصلوں یا کاموں پر بات کر جائے۔ جہاں زبان کھلی وہیں پر تالا لگانے کی تیاری۔ تالا ایک اصطلاح ہے۔ اپنے جواب سے مخالف یا مد مقابل شخص یا ادارے کی زباں بندی۔

پہلے وقتوں میں بادشاہوں کے درباروں میں موجود درباری اور رعایا سے تعلق بھی کچھ ایسا تھا۔ اب بادشاہ سلامت جو بھی فیصلہ کریں اپنے مشیران کے مشورے پر۔ منظور، نامنظور کا تو کوئی آپشن ہی نہیں تھا، بس سر تسلیم خم۔ چوک چوراہوں میں تعریفوں کے پل۔ بادشاہ سلامت کی صحت، سلامتی اور لمبی زندگی کی منہ بھر کر دعائیں۔

وقت بدل گیا لوگ بھی بدل گئے چوغوں سے لباس سوٹ بوٹ پر آگیا۔ کسی حد تک حکومت کرنے کا طریقہ بھی بدلہ مگر سوچ آج بھی وہی۔ پہلے وقتوں کا بادشاہ اور اب وزیراعظم یا صدر کی نظروں میں اپنا رنگ جمانے کے لیے رعایا عرف عوام کے ساتھ وہی پرانا طرز عمل۔ معاملہ ہے اسلام آباد کے 750 ایکڑ اراضی پر محیط مشہور تفریحی پارک ایف 9 کو گروی ر کھ کر تقریباً 900 ارب روپے کا قرض لینے کا۔ جس کی منظوری آج بروز منگل کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سے لی جائے گی۔

‘ڈوبتے کو تنکے کا سہارا’ کوئی شبہ نہیں حکومت مالی مشکلات کا شکار ہے تو بجٹ سپورٹ کے لئے ماضی کی حکومتوں کی طرح ملکی اثاثے گروی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکی منطوری ہو گی یا نہیں اس سمیت بہت سے اور اہم فیکٹرز پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔

عوامی جذبات۔ جیسا میں نے بیان کیا حکومت کی مجبوریاں بھی ہیں مگر تفریح گاہوں سے عوام کی انسیت الگ ہوتی ہے۔ اس کالم کی تحریر کے وقت میں لاہور شہر میں ہوں مگر اسلام آباد میں گزارے چند برسوں سمیت ایف 9 پارک میں تفریح کی غرض سے گزارے چند لمحے بہت قیمتی ہیں۔ کوئی ایسی جگہ جس سے محبت ہو اور گروی رکھ دی جائے تو تکلیف یقینی ہے پھر چاہے وہ گھر ہو زمین کا ٹکڑا یا کوئی تفریح گاہ۔

ملکی مسائل اس قدر گھمبیر ہیں جو کسی بھی حکومت کی کمر توڑ دیں۔ یہاں تو بات پھر تحریک انصاف کی ہے جو پہلی بار مرکز میں اقتدار کے تخت پر بیٹھی ہے جنہوں نے نا صرف عوام کو بے پناہ سنہری خواب دکھائے بلکہ 2014 کی دھرنے میں کنٹینر کی چھت پر کھڑے ہو کر بڑے بڑے دعوے بھی کئے۔ چاہے یہ دعوے بجلی کے نرخوں کے ہوں یا مہنگائی پر۔ ٹیکسوں پر ہوں یا کرپشن، لوٹ مار اور قرضوں کے خاتمے پر۔ تنقید اس بات پر آتی ہے کہ دھرنے کی مثال بار بار دے کر کیا بتانے کی کوشش ہے؟ جناب ایسا دھرنا جو دنوں کی سینچری کر جائے ہر ایک کے بس کی بات نہیں لیکن عمران خان نے کر دکھایا کریڈٹ تو بنتا ہے اس کی نتیجے میں عوام کو کتنا ڈس کریڈٹ ملا وہ بتانا بھی لازم ہے۔

عوام کے بھروسہ اور اعتماد کی ایک وجہ یہ تھاکہ ایک ایسا شخص جس کی برسوں پر محیط جدوجہد، بے پناہ ایسے منصوبے جو عام عوام کی ریلیف کا باعث بنیں گے۔ گھاگ سیاست دانوں سے چھٹکارا ملے گا۔ عام عوام سمیت نوجوان طبقے کی باہر نکلنے کی بڑی وجہ یہی ایک فیکٹر تھا۔ اور قوم کا جوان طبقہ جس جانب کھڑا ہو جائے پلڑا وہی بھاری ہوتا ہے۔

آہ! بڑی امید تھی کشکول توڑ دیا جائے گا مگرڈھائی برس میں یہ کشکول دیگ بن گیا ہے۔ عمران خان نے جب جب کشکول توڑنے کی بات کی ہر پاکستانی کا سر یہ سوچ کر فخر اور غرور سے بلند ہوا کہ دنیا میں اب عزت اور وقار ملے گا مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ اسٹیٹ بنک کی قرضوں سے متعلق شائع رپورٹ نے سارا غرور خاک میں ملا دیا۔

“خود کشی کر لوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا” اسی آئی ایم ایف سے 1 ارب 7 کروڑ ڈالر قرض لیا۔ کمرشل بینکوں سے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر قرض لیا۔ اور مختلف ممالک سے 3 ارب 10 کروڑ ڈالر قرض کیا۔ گزشتہ دو سالوں میں ہی تحریک انصاف کے قرضوں کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ سوجھ بوجھ والا ہر ذہن تشویش میں مبتلا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2013 سے 2018 میں ن لیگ کے آخری ایام میں بیرونی قرض 95.3 ارب ڈالر تھے جس میں موجودہ حکومت کی پہلے دو برسوں میں 17 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔ اندرونی قرض 11.5 کھرب روپے سے زیادہ ہے۔ موازنہ کریں تو یہ ن لیگ کے پہلے پانچ سالہ دور حکومت میں لئے قرضوں سے زیادہ ہے۔ پچھلی دونوں بڑی جما عتوں کے دس برسوں میں ٹوٹل 30 کھرب کا اضافہ ایک طرف اور اب تک 36 کھرب کا اضافہ ایک طرف۔ قرض کی رقم عوام کی فلاح کے لئے کہاں خرچ کی جا رہی ہے نظر آنا چاہیے، مگر اب تک کوئی ایسا پراجیکٹ سامنے نہیں آیا جو ان خدشات کی تلافی کر سکے۔ ایک لاکھ بیس ہزار کا قصہ اب پرانا ہوا۔ ہر پاکستانی اپنی پہلی سانس کے ساتھ ہی ایک لاکھ اسی ہزار کا مقروض ہے۔

حکومت کی بڑی مجبوریاں ہیں شاید دباؤ بھی۔ ان سب باتوں کے باوجود عمران خان نے ایسے بہت سے کام کئے جن کے بارے بس سوچا جا سکتا تھا۔ بڑے بڑے سیاست دانوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا۔ منصوبوں میں کرپشن، لوٹ مار کمیشن کیسے، کون کون رکھتا ہے عوام جسے بھیڑ بکریاں سمجھ کر چرایا جاتا ہے انکو آشنائی ملی۔ مگر کچھ اہم کام اور فیصلے ایسا محسوس ہوتا ہے شاید مجبوریوں میں غلط کر بیٹھے۔ ریفارمز کی بات کرتے رہے مگر آج تک آغاز نہ ہو سکا۔ احتساب کا عمل جاری ہے مگر اپنے ساتھیوں پر شاید اپلائی نہ کرنے میں مجبوریاں آڑے آ گئیں۔ شاید یہی مجبوریوں تھیں جو وزراء اور مشیران ایسے نہ مل سکے جو اپنے کام کے ماہر ہوں۔ ممکن ہے مجبوری یہاں بھی آڑے آ گئی ہوں کہ اگر کوئی ایک جگہ پرفارم نہیں کر پا رہا تو زبردستی دوسری جگہ فٹ کیا جائے۔ شاید یہ بھی مجبوری کا ہی نتیجہ ہے جو شہباز گل اپنا کام چھوڑ کر 92 نیوز کے نہایت کریڈیبل اور منجھے صحافی کو یہ بتا رہیں ہے ” جناب، صحافت خاصہ باریک کام ہے”