Eid Ki Chutiyoun Main Kia karien | Abdul Rauf

40

Abdul Rauf Senior Columnist latest column in Jang leading newspaper of Pakistan .

امید ہے کہ کل کا دن عید کا ہوگا۔ لیکن برخلاف عید کے روایتی جوش و خروش کے ہمارے بعض علاقوں میں بم دھماکو ں کی وجہ سے افسردگی چھائی رہے گی۔ افسردگی کا یہ ماحول (ن) لیگ کےان متوالوں اورخاص طور پر خودساختہ سپوکس پرسنز کےلئے بھی ہوگا جنہیں جے آئی ٹی سے بہتری کی امیدنہیں۔ ہمارے دوست سہیل وڑائچ نے تو ساری گفتگو یہ کہہ کر سمیٹ دی ہےکہ مسلم لیگ (ن) کے لئے دی پارٹی از اوور۔ اس لحاظ سے جولائی کے آنے والے دن خاصے گہماگہمی کا شکار رہیں گے۔
عید پر کافی چھٹیاںہیں اورمجھ ایسا شخص جس کے لئے چھٹی کا مطلب ہوتا ہے اچھی کتاب پڑھنا اور یا اچھی فلم دیکھنا۔ میں عمر کےاس حصے میں ہوں جہاں ماضی بڑا پیارا ہوتا ہے سو شاید اس مرتبہ بھی اپنے لڑکپن اور جوانی کے بعض دانشور اورفلم میکروں کو یاد کروںاور ان کی فلمیں دیکھ کر خود کو دوبارہ تر و تازہ کروں۔
ویسے تو ماضی کو یاد کرنا بقول یوسفی صاحب کے اس بات کا اقرار ہے کہ اب ہم بوڑھے ہو رہے ہیں لیکن ہمارا ماضی واقعی ایک پراسرار رومانس میں ڈوبا ہوا ماضی تھا۔ اس دور کےٹی وی ڈرامے جس میں ’’کرن کہانی‘‘، ’’خدا کی بستی‘‘، ’’انکل عرفی‘‘ جیسے شاہکارتھے اب بھی لوگوں کے دلوں پر ر اج کرتے ہیں لیکن آج میں اپنےزمانے کے چند بہترین فلم ڈائریکٹرز سے آپ کا تعارف کروا رہا ہوں۔
سر الفریڈ ہچکاک:برطانوی فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر تھے۔ ان کو ماسٹر آف سسپنس بھی کہا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے سسپنس اور تھرلر کی نئی اقسام کو ایجادکیا۔ برطانوی سینما میںبہترین ہدایتکاری کے بعد وہ 1939میں ہالی ووڈ منتقل ہوگئے۔ چھ دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں انہوں نے 50سے زائد فیچر فلمیں ڈائریکٹ کیں۔ ان کی فلم ’’سائیکو‘‘ کو آج بھی دنیا کی دس بہترین فلموں میں شمار کیاجاتاہے۔
فرینک رسل کاپرا:برطانوی نژاد امریکی فلم ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور رائٹر تھے۔ ان کے فلمی سفر کی خاص بات یہ ہے کہ 1930اور 1940کی دہائی کی اکثر ایوارڈیافتہ فلموں کے روح رواں تھے۔ وہ امریکی فلمی تاریخ کے اہم کرداراس وقت بنے جب انہوں نے 1930کی دہائی میں 3آسکر ایوارڈز حاصل کئے۔ “It Happend One Night” ، “Why We Fight” ان کی مشہور فلمیں ہیں۔
وکٹوریوڈی سِکا:اطالوی ہدایتکار اور اداکارتھے۔ انہوں نے اپنی فلم “Bicycle Thieves” کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی جس کو آسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم سینما کی تاریخ کی 15موثر ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
سرڈیوڈلین:برطانوی اداکار، مصنف، ہدایتکار اور پروڈیوسر تھے “Lawrence of Arabia” ان کے فلمی کیریئر میںسنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہیں سات مرتبہ بہترین ہدایتکار کے لئے آسکر ایوارڈ میں نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2002میں انہیں برطانوی فلم کا نواں عظیم ڈائریکٹر تسلیم کیا گیا۔ میں ان کی فلم ’’ڈاکٹر ژواگو‘‘ کے سحرسے بھی باہر نہیں نکل سکتا۔
جون فورڈ:آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ہدایتکار تھے جنہوں نے ہالی ووڈ میں جگہ بنائی۔ انہیں بہترین ہدایتکار کے طور پر 4اکیڈمی ایوارڈ ملے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔اپنے 50 سالہ فلمی سفر میں انہوںنے 40سے زائدفلمیں ڈائریکٹ کیں۔ “How Green Was My Valley” ان کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
ولیم وائلر:امریکی ہدایتکار ، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر تھے۔ “Ben-Hur” ان کی بہترین اور مشہور شاہکاروں میں سے ایک ہے۔ 1936میں وہ پہلی مرتبہ آسکر ایوارڈکےلئےنامزد ہوئے۔ 1930سے 1960 تک انہیں ہدایتکار ی میں خاص مقام حاصل رہا۔
جارج اورسن ویلس:امریکی تھیٹر، فلم اور ریڈیو کے مشہور اداکار، ڈائریکٹر اور لکھاری تھے۔ مشہور ناول “The War Of The World”کو انہوں نے خوبصورت اور متاثر کن صوتی انداز میں ریڈیو پر نشر کیا۔
اسی طرح ان کی قابل ذکر فلم “Citizen Kane” کو بھی بہترین فلموں میں گنا جاتا ہے بلکہ اس فلم کو نقاد آج بھی دنیا کی بہترین فلم سمجھتے ہیں۔
جون ہیوسٹن نے کلاسک فلموں میں نام کمایا۔ انہوں نے37سے زائد فلموںکو ڈائریکٹ کیا اور ان کے اسکرین پلے تحریر کئے۔ “The Man, Who Would Be King”، “The African Queen”، “The Mistifs” ان کی مشہور فلمیں ہیں۔ وہ اپنے 46 سالہ کیریئر میں 15مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لئے نامزدہوئے۔
مائیکل کرٹز نے 50سے زائد فلمیں ڈائریکٹر کیں جس میں سے قابل ذکر “The Adventurs of Robin Hood”، “Captain Blood”، “Casablanca”، “The Sea Hawk” ہیں۔ کاسابلانکا کے ہدایتکارکے طور پر انہوں نے اکیڈمی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ کاسابلانکا کا ڈائیلاگ “Here Is Looking At You Kid”کون بھول سکتا ہے۔
ہارورڈ ہاکس بھی کلاسک امریکی فلموں کے ہدایتکار اور پروڈیوسرتھے۔ Sergeant York پر انہیں 1942 میں اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔ انہیں 1975میں ’’ماسٹر فلم میکر‘‘ کے طور پر اعزازی اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بلی وائل ڈر نے 50اور60 کی دہائی میں بطور فلم میکر اور پروڈیوسر اپنی پہچان بنائی۔ انہیں ہالی ووڈ کے سنہری دور کا سب سے ذہین اور ورسٹائل فلم میکر شمار کیاجاتا ہے۔ انہیں “The Last Weekend” پر بہترین اسکرین پلے اوربہترین ڈائریکٹر کا اکیڈمی ایوارڈ ملا۔
روبرٹورو سولینی:اطالوی فلم ڈائریکٹر اور رائٹر تھے۔ انہوں نے 1945میں “Open Rome City” کی ہدایتکاری سے نام بنایا۔ وہ اٹلی کے سینما کے مشہور ہدایتکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ چند نام میں نے پیش کئے ہیں جو ماضی کے بہترین فلم ساز تھے اور ان کی فلمیں ہمارے ذہنوں میں انمٹ نشان چھوڑ گئی ہیں۔ ایسی فلمیں جنہیں آج بھی دیکھا جائے تو خوشی کا سبب بنتی ہیں۔ ایسےہی بڑے ناموں میں ہندوستان سے ستیہ جیت رے، شیام بینگل، وی شانتا رام، بمل رائے جیسے لوگ ہیں۔ خاص طور پر ستیہ جیت رے کی ’’آپو‘‘ کے نام سے تین فلمیں دیکھے بغیر فلم کی اسٹڈی مکمل نہیں ہوتی۔ ادب میں اس زمانے میں ایک طرف تو ہم لوگ کیٹس، شیلے، براونگ جیسے شاعروں کےسحرمیں مبتلا تھے تو دوسری طرف روسی ناولوں ’’وار اینڈ پیس‘‘، ’’برادر کرمازوو‘‘، ’’اینا کرینینا‘‘ اورپھر فرانسیسی ناول ’’مادام باواری‘‘، ’’سرخ و سیاہ‘‘ نےاپنے سحر میںجکڑ رکھا تھا۔ میں بہت سے نام چھوڑ گیاہوں لیکن اصل سبق یہی ہے کہ بڑا ذہن بنانے کےلئے ایک طرف ادب تو دوسری طرف اچھے سینماکا مطالعہ ضروری ہے۔ آیئے اس عید پر ان لوگوں کو ہی پڑھیں یا ان کی فلمیں دیکھیں۔