Do Mumalik Aik Qoum – Dr Ramesh Kumar

27

ترکی کے صدر طیب اردوان کے حالیہ دورہ پاکستان کو عالمی تناظر میں بہت اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے، ترک صدر پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن سے 4ویں مرتبہ خطاب کریں گے ،ان کا یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین ایک مرتبہ پھر ابھر کر عالمی برادری کے سامنے آگیا ہے۔ یہ دونوں عالمی ایشوز گزشتہ صدی سے حل طلب ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ان دونوں تنازعات کا کوئی دیرپا حل تلاش نہیں کیا جاتا ، عالمی امن بدستور خطرے میںرہے گا ۔عالمی سطح پر مسلمان ممالک تقسیم کا شکارہیں، اس صورتحال میں اگر کوئی مسلمان ملک مسلم امہ کو متحد کرنے اور ان کو یکجا کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے تو وہ ترکی اور ملایشیا ہیں جبکہ پاکستان کی بھی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ تمام مسلمان ممالک سے قریبی تعلقات کو فروغ دے۔ لاہور میں منعقدہ او آئی سی کا دوسرا سربراہی اجلاس تاریخی اہمیت کا ثابت ہوا تھا جب تمام مسلمان ممالک نے اپنے مسائل کے حل کیلئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں او آئی سی مسلمان ممالک میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں عوام کی توقعات پر پورا اترنے سے قاصر نظر آتی ہے، بالخصوص متحدہ عرب امارات میں منعقدہ او آئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ آنجہانی سشما سوراج کی بطور مبصر شرکت اور کچھ عرب ممالک کی بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے قربتوں نے پاکستانی عوام کو شدید مایوس کیا ہے۔ مجھے بھی دو تین بار ترکی جانے کا موقع ملا ہے ،میں یہ کہنےمیںفخرمحسوس کررہاہوں گا کہ جتنی محبت، عزت اور احترام پاکستانیوں کو ترکی میں دیا جاتا ہے اتنا دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیا جاتا۔ ہم نے بھارت اور چین کے مابین 1962 کی جنگ کے بعدچین سے دوستی بڑھائی،سی پیک میگا منصوبے نے بلاشبہ پاک چین دوستی کومزید تقویت دی لیکن ترکی وہ واحد ملک ہے جو آزادی سے پہلے سے ہی پاکستان کے ساتھ ہے اور پاکستانیوں کو نہایت عزت ، احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مجھے اپنے دورہ ترکی کے دوران بہت سے مقامی ترک باشندوں کی جانب سے پاکستانیوں کے حوالے سے بہت اچھی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ مجھے وہاں بتایا گیا کہ آج سے کوئی ایک سو سال پہلے جب ترک عوام عالمی سامراجی قوتوں کے خلاف لڑ رہے تھے تو اس موقع پر بر صغیر کے مسلمانوں نے بہت خلوص کے ساتھ ترک عوام کی مدد کی ، برصغیر کی مسلم خواتین نے اپنے زیور ترکی بھیج دیئے اورترکی کے حق میں زبردست تحریک چلائی جس میں ہندوؤں کے لیڈر مہاتما گاندھی جی بھی پیش پیش رہے۔ترکی اور پاکستان میں باہمی تعاون کا معاہدہ 1954ء میں کیا گیا جس کے الفاظ کچھ یوں تھے ’’ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کے جذبے کے ساتھ طے پایا گیا ہے کہ سیاسی،ثقافتی، معاشی اور امن اور تحفظ کی خاطر ہم زیادہ سے زیادہ تعاون کے لئے کوشاں رہیں گے۔ــ ‘‘یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد سےپاکستان اور ترکی کی دوستی تسلسل کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ دونوں ممالک ثقافتی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، ہماری قومی زبان اردوکا نام بذاتِ خود ترک زبان کا ایک لفظ ہے ، اسی طرح بہت سے ترک پکوان ہماری روزمرہ زندگی کا اہم جز ہیں، ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال کی شاعری ترکی میں بھی بہت مقبول ہے۔ پاکستان اور ترکی کے عسکری اداروں کے مابین پیشہ ورانہ تعلقات شاندار تاریخ کے حامل ہیں، دونوں ممالک کی بہادر افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی ہیں ۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ہمیںاتنی قربت کے باوجود حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا چاہئے، اس حوالے سے مجھے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے منسوب ایک واقعہ یاد آگیا ، نوازشریف نے جولائی 1993 میں ترکی کا دورہ کیا تو ان کے وفد میں چوہدری نثار علی خان اور شاہد خاقان عباسی بھی شامل تھے ،ملاقات کے دوران ترکی کے صدر سلیمان ڈیمیرل کا کہنا تھا کہ جناب وزیر اعظم صاحب آپ بھی مسلمان ہیں اور میں بھی۔ ہم دونوں بھائی بھائی ہیں، پاکستان ترکی کے درمیان صدیوں کے رشتے بھی قائم ہیں، اب آپ بتائیں کہ آپ کے پاس ترکی کو فروخت کرنے کے لئے کیا کیاہے ؟ اور ہم آپ کو بتاتے ہیں ترکی آپ کو کیا فروخت کر سکتا ہے ؟اس سے ہمارے تعلقات آگے بڑھیں گے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ترکی میں غربت، معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری زوروں پر تھی لیکن ترک قیادت نے اپنے ملک کو ایک امن پسند، ترقی یافتہ اور مہذب ملک کے طور پر منوانے کیلئے کاروباری سرگرمیوں کو اپنی ترجیح بنایا۔ آج ایسے ہی حالات کا پاکستان کو بھی سامنا ہے جس پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم عمران خان انتھک کوششیںکررہے ہیں۔ہمیں ترک صدر طیب اردوان کا پاکستان میں پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کی دنیا میں وہی ملک اپنا موقف منواسکتا ہے جس کے پاس سرمایہ ، ٹیکنالوجی یا ہنرمند افرادی قوت ہو۔ترک صدر کے دورہ پاکستان سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شہریوں کیلئے دہری شہریت کے معاہدے پر بھی کام کررہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ اقدام نہ صرف دونو ں ممالک کے مابین عوامی تعلقات کو نئی جہت عطا کرے گا بلکہ پاکستانیوں کیلئے بھی ترقی وخوشحالی کے نت نئے دروازے کھولنے میں معاو ن ثابت ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترکی کے ترقی کے ماڈل پر عمل کرتے ہوئے اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دیں۔