Danish Ka Mughalta | Yasir Pirzada

64

Yasir Pirzada latest column in Jang Akhbar

جملے بازی، فرضی واقعات، مت گھڑت قصے، طوطا مینا کی کہانیاں، گمراہ کُن مثالیں، لفاظی، حماقت سے لتھڑی ہوئی جذباتیت، دلیل سے خالی مقدمہ، غیر مستند خبروں پر مبنی نام نہاد تجزیئے، کھوکھلی پیشین گوئیاں، نفرت پر قائم بیانیہ، اپنی عظمت کا خبط، نرگسیّت کے پہاڑ پر کھڑے ہو کر عاجزی کا وعظ دینے کا جنون، جھوٹ اگلتی زبانیں اور تقویٰ کا زعم۔۔۔حقیقت واقعی خرافات میں کھو گئی ہے!
یہ دلیل کا نہیں پروپیگنڈے کا زمانہ ہے، اگر آپ ٹی وی پر چلا کر بول سکتے ہیں، لچھے دار گفتگو کر سکتے ہیں اور حقائق کو مسخ کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کا ہنر جانتے ہیں تو بسم اللہ، دشت تو دشت، صحرا میں بھی آپ کا طوطی بولے گا۔ لیکن اِس طوطی کا ایک مسئلہ ہے کہ یہ جب بھی بولے گا جھوٹ بولے گا اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور عوام کی اجتماعی دانش اِس کا پول کھول دیتی ہے۔ ثبوت بھی حاضر ہے۔ چار ڈکٹیٹر اس ملک پر مسلط ہوئے، چاروں کو فرشتہ سیرت بتلایا گیا، اِن کی ایسی امیج بلڈنگ کی گئی کہ ہمیشہ یوں لگا جیسے کوئی نجات دہندہ خدا نے اس قوم کے لئے نازل کیا ہے، کسی کی جرأت نہیں تھی کہ اُن کے عروج میں اُن کے خلاف ایک لفظ بول سکے، بلا شرکت غیرے وہ اقتدار کے مالک تھے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اُن کے تابع تھیں، یک جنبش قلم فیصلے صادر فرمایا کرتے تھے، کسی پارلیمان کو جوابدہی کا درد سر تھا نہ کسی عدالت میں پیشی کا ڈر، طاقت کے سرکش گھوڑے کی کمان اُن کے ہاتھ میں تھی، چاروں طرف انہیں کا طوطی بولتا تھا لیکن ہر مرتبہ اِس طوطی کو عوام کی اجتماعی دانش نے بے نقاب کر دیا، یہ مرد باکردار عوام نے نہ صرف اقتدار سے علیحدہ کئے بلکہ کسی کو عوام کے سامنے جا کر انتخاب لڑنے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔ زمانہ بھلے پروپیگنڈے کا ہو، دلیل کی طاقت کے آگے کوئی نہیں ٹھہرتا، اور جہاں دلیل کا جواب نہ ہو وہاں گالی دی جاتی ہے، اور جب عوام کی اجتماعی دانش آمریت کا بیانیہ اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دے تو پھر عوام کے مینڈیٹ یعنی جمہوریت پر تبرّا کیا جاتا ہے اور آمریت کے طبلچی ہر اُس شخص پر کیچڑ اچھالتے ہیں جو اس ملک میں آئین اور جمہوریت کا حامی ہے۔ لیکن ان بیچاروں کا بھی کوئی قصور نہیں، جو ’’ٹاسک‘‘ اِن کے ذمہ ہے وہ اسی بات کا متقاضی ہے کہ پوری جانفشانی کے ساتھ عوام کو گمراہ کیا جائے اور اِس ضمن میں جہاں جہاں کیچڑ اچھالنا مقصود ہو اپنے بدن سے کھرچ کر دوسروں پر اچھال دیا جائے۔
طریقہ واردات ان لوگوں کا بہت دلچسپ ہے۔ یہ عوام کو دوسرے ممالک کی مثالوں سے متاثر کرتے ہیں، انہیں بتاتے ہیں کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہر قسم کی لاقانونیت، کرپشن اور وحشیانہ جرائم ہوتے ہیں اور اس کی وجہ ننگ دھڑنگ جمہوریت ہے۔ یہ لوگ اپنی مرضی کے واقعات اکٹھے کرتے ہیں اور پھر انہیں سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے پاکستان کی صورتحال پر منطبق کر کے خود کو ارسطو دوراں اور عوام کا درد مند پوز کر کے ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں ہماری جذباتی عوام گومگو کا شکار ہو جائے، ان کے ذمہ بس اتنا ہی کام ہے۔ مثلاً سنگاپور کی مثالیں دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے، بے شک سنگاپور ایک ماڈل ہے، مگر چار مرلے کا ملک جس کی آبادی راولپنڈی شہر جتنی ہو، اِس کا تقابل بائیس کروڑ والے ملک کے مسائل سے کرنا جہاں لاتعداد قومیتیں بستی ہوں کتنی دانشمندی کی بات ہو سکتی ہے! سنگاپور کو معاشی دیو بنانے والے وزیراعظم لی کوان یو کی اسمبلی کے پچاس اراکین میں سے ایک کا تعلق حزب اختلاف سے تھا اور وہ بھی جیل میں تھا اور انگریزی اخبارات اور جرائد پر پابندی تھی۔ سو جن لوگوں کو یہ ماڈل پسند ہے، اگر یہ اپنے ملک میں لاگو ہوا تو سب سے پہلے یہی لوگ جیل میں ہوں گے۔ اور یہ کیسی دلکش بات ہے کہ تیس برس تک لی کوان لی وزیر اعظم رہے اور اب ان کا بیٹا گزشتہ تیرہ برس سے وزیر اعظم ہے، سینتالیس برس، باپ بیٹا حکمران۔۔۔جی۔۔۔کیا کہا۔۔۔ موروثی جمہوریت۔۔۔ نہیں، شٹ اپ۔ جاپان، کوریا اور جرمنی بھی ہمارے لکھاریوں کے محبوب ملک ہیں، اُن کی ترقی ہمیں بہت بھاتی ہے، مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دوسری جنگ عظیم کے دس برس بعد تک بھی ان ممالک کو اپنی فوج رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ جی، کیا کہا، خود مختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں۔۔۔ اوکے، تھینک یو۔ اور چین کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں، آج کل تو ویسے بھی ہماری ’’میٹرو‘‘ چھن رہی ہے، چین کی حیرت انگیز ترقی کی مثالیں تو ہمیں زبانی یاد ہیں، لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ وہاں ایک سے زائد بچہ پیدا کرنے پر پابندی ہے۔۔۔ جی کیا کہا۔۔۔ یہ خلاف مذہب ہے۔۔۔ اوہ سوری۔ اور پھر سب سے آخر میں امریکہ کی مثال، جمہوریت ہو تو امریکہ جیسی، معیشت ہو تو امریکہ جیسی، آزادی ہو تو امریکہ جیسی، مگر خیال رہے وہاں ایک عام کاؤنٹی سال بھر میں تقریباً پچاس ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے ٹیکس وصول کرتی ہے۔۔۔ جی کیا کہا۔۔۔ یہ منظور نہیں۔۔۔ امریکہ مردہ باد۔
غیر ممالک سے یہ مثالیں اکٹھی کرنے کے بعد ہم واپس پاکستان آتے ہیں اور پھر عوام کی کسمپرسی پر ٹسوے بہاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ جمہوریت ہے جہاں اسپتال کے ایک بستر پر تین تین عورتیں بچہ جنتی ہیں، کیا یہ جمہوریت ہے جہاں نہ جانے کتنے لاکھ بچے سکول جانے کی بجائے ننھے منے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، کیا یہ جمہوریت ہے جہاں لوگو ں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات البتہ سمجھ سے باہر ہے کہ حق گوئی کے اِن دعویداروں اور ملک کے غم خواروں کو آمریت میں یہ مروڑ نہیں اٹھتے! اُس وقت انہیں سب بھول جاتا ہے، کوئی اعداد و شمار یاد آتے ہیں نہ اسپتال میں بلکتے بچوں کی تصاویر رلاتی ہیں، اُس وقت بھارت کے سامنے سر جھکا کے ہاتھ ملانے سے بھی ہماری قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، اُس وقت عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان کو گھروں میں قید کرنے پر کسی کو امریکہ برطانیہ کی مثالیں یاد نہیں آتیں، اُس وقت آئین کو پاؤں تلے روندنے پر کسی میں قلم اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی، اُس وقت کوئی دہائی نہیں دیتا کہ آئین توڑنا اِس ملک سے بغاوت اور ریاست کا سب سے بڑا جرم ہے، اُس وقت آگ اگلتی زبانوں اور شعلے برساتی آنکھوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، اُس وقت قرب شاہی کے نشے میں کروڑوں عوام کا درد گھاس چرنے چلا جاتا ہے، اُس وقت ہمارے اداروں کی نالائقی اور نا اہلی سلیمانی ٹوپی پہن کر اِن بزرجمہروں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے، اُس وقت گلیوں میں بھیک مانگتے بچے اِن کا دل نہیں دکھاتے، اُس وقت قومی خزانے کی لوٹ مار پر اِن کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں، اُس وقت کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ ایک غاصب ملک پر قبضہ کئے بیٹھا ہے، اُس وقت ایک آمر کا درباری ہونا یکدم قابل فخر ہوجاتا ہے، اُس وقت ایک ڈکٹیٹر اِن کے لئے نجات دہندہ بن جاتا ہے اور یہ اُس کے طبلچی۔افسوس ایسی دانش پر، صد افسوس۔
کالم کی دُم:اس کالم کے جواب میں جس نے بھی مجھے برا بھلا کہا تو سمجھ لیجئے گا کہ یہ کالم اُسی کے بارے میں ہے۔