Column Nigari Kay Gur | Yasir Pirzada

56

Yasir Pirzada latest column in Jang Akhbar

چاروں طرف سے گولا باری ہو رہی ہے، فریقین ایک دوسرے پر لعن طعن کر رہے ہیں، گالم گلوچ ہو رہی ہے، جماعتوں نے یوں مورچے سنبھال رکھے ہیں جیسے بھارتی فوج سے نبردآزما ہوں، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے کوئی نہیں پوچھتا صرف یہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ کتنی مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی شگفتہ یا غیر سیاسی کالم لکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈزنی لینڈ جائے اور رولر کوسٹر کی سواری کئے بغیر واپس آ جائے۔ سو اِن حالات میں خاکسار نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ہومیو پیتھک قسم کا کالم لکھا جائے جس میں عوام کو کالم لکھنے کے گُر بتائے جائیں۔
الیکٹرونک میڈیا کی پیدائش سے پہلے پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے ساڑھے سترہ کروڑ لوگ کالم نگار بننا چاہتے تھے اور اُس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے خیال میں یہ ایک ایسا کام تھا (ہے) جس کے لئے ڈگری درکار ہے اور نہ کوئی خاص تربیت جبکہ رعب داب عام ڈیسک ایڈیٹر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے صف اول کے کالم نگار سے میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ فلاں کالم نگار کو ہمیشہ استاد محترم کیوں کہتے ہیں، انہوں نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا ’’کیونکہ میں نے اُن سے خرادیئے کا کام سیکھا ہے۔‘‘ اب دور کچھ تبدیل ہو گیا ہے، آج ساڑھے سترہ کروڑ کی بجائے صرف سترہ کروڑ لوگ کالم نگار بننا چاہتے ہیں اور محض خرادیئے کا کام سیکھنے سے کالم نگاری نہیں آتی اس کے لئے جی مارنا پڑتا ہے، بقول ایک جید کالم نگار کے ’’یہ کالم اُس زنانی کی طرح ہے جو پورا بندہ مانگتی ہے۔‘‘ تاہم عوام الناس کی آسانی اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے میں کچھ ٹپس آج بتا دیتا ہوں تاکہ جو لوگ کالم نگار بننا چاہتے ہیں وہ اِن مشوروں پر عمل کر کے مہینوں بلکہ دنوں میں کالم نگار بننے کا شوق پورا کر لیں۔
(1) کالم نگار بننے سے پہلے آپ نے ایک کام کرنا ہے اور وہ یہ کہ اپنے گھر میں موجود تمام کتابوں کو آگ لگا دینی ہے اور آئندہ کوئی نئی کتاب نہیں خریدنی، کیونکہ اگر آپ کتابیں پڑھتے رہے تو آپ میں ’’اوریجنل تھنکنگ‘‘ پیدا نہیں ہو سکے گی، ویسے بھی کالم نگاری کے لئے مطالعہ ضروری نہیں، یہ سب پرانی اور فرسودہ باتیں ہیں کہ اچھا لکھنے کے لئے اچھا ادب پڑھنا چاہئے، اگر پڑھنے کا بہت شوق چرائے تو زیادہ سے زیادہ انٹرنیٹ پر کوئی فلمی بلاگ پڑھ لیں، بس۔ اب جبکہ آپ کتابیں تلف کر چکے ہیں تو آپ کالم نگار بننے کے لئے تیار ہیں، قلم اٹھائیں اور کسی بھی موضوع پر بلا کھٹکے لکھنا شروع کر دیں۔ کالم شروع کرنے کا تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ چند جملے یاد کر لیں اور انہی کو آگے پیچھے کرکے کام چلائیں، خدا اسی میں برکت ڈالے گا، مثلاً پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے، ملک سنگین بحران سے گزر رہا ہے، آج پاکستان کو جس قسم کے مسائل کا سامنا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا، ہمارے ملک کو خدا نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے، پاکستان میں اقتدار کی سیاسی کشمکش اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، قرائن بتا رہے ہیں کہ اس مرتبہ حالات پلٹ سکتے ہیں اور بازی سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ جملے لکھنے کے بعد آپ خود بخود رواں ہو جائیں گے اور لفظ قلم سے یوں جھڑنے شروع ہو جائیں گے جیسے احمد فراز نے باتوں سے پھول جھڑوائے تھے۔
(2) جب آپ دس پندرہ کالم لکھ چکیں تو خود بخود سمجھ لیں کہ آپ ایک مستند کالم نگار ہیں اور ہِٹ ہو چکے ہیں، اس کے بعد اپنے ہر دوسرے کالم میں بتائیں کہ پچھلے کالم کا فیڈ بیک اس قدر شدید تھا کہ آپ کی ای میل چوک ہو گئی یا گزشتے ہفتے جب آپ اپنے محلے کی دکان سے انڈے خریدنے گئے تو دکاندار نے آپ کو اس مرتبہ بطور کالم نگار خصوصی رعایت دی اور ایک انڈہ مفت دے دیا یا آپ کے کالم پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او ٹبی سٹی نے چھاپے کے دوران گرفتار کی گئی بیسوائوں کو حقوق نسواں کے نام پر اس لئے رہا کر دیا کیونکہ آپ کا کالم پڑھ کر ہی اسے حقوق نسواں کا پتہ چلا تھا۔ اس قسم کی باتیں لکھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ آپ سے متاثر ہو جائیں گے اور پھر وہ دن دور نہیں ہوگا جب آپ اپنے کالم میں بلا کھٹکے آرمی چیف یا وزیر اعظم کا حوالہ دے کر لکھ سکیں گے کہ وہ ملاقات کے متمنی تھے مگر میں وقت نہ نکال سکا کیونکہ میری پہلے سے امریکی سفیر کے ساتھ میٹنگ طے تھی۔
(3) اپنے کالم میں بڑی بڑی باتیں لکھیں، مثلاً امریکہ، چین اور روس کی باہمی چپقلش، لفظ ’’خطے‘‘ اور ’’تزویراتی گہرائی‘‘ کا استعمال بار بار کریں، مشرق وسطیٰ کا استعمال بھی مقوی ہے، جہاں کچھ سمجھ نہ آئے وہاں اسرائیل اور فلسطین ڈال دیں اور مسلم امہ کی بے حسی کا رونا رو دیں۔ انٹرنیٹ کھولیں اور امریکی صحافیوں کی تازہ کتب کی فہرست پر نظر ڈال کر بلا کھٹکے ان کا حوالہ دے دیں، کتاب پڑھنے میں وقت ضائع نہ کریں، کوشش کریں کہ اس قسم کے کالم میں آپ کی تحریر کا انداز ایسا ہو جیسے آپ تیس برس سے واشنگٹن میں صحافی ہیں اور امریکی صدر کے ساتھ آپ کے ذاتی تعلقات ہیں۔ آج کل نریندر مودی کا بھی فیشن ہے، اس کے بھی لتے لیں، بھارت، ایران اور افغانستان کی تکون بنائیں اور پھر اس ’’خطے‘‘ میں برپا کی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کریں جن کا علم صرف آپ کی ذات کو ہے، انداز ایسا ہونا چاہئے کہ قاری کو یوں لگے جیسے امریکی اور چینی سفارتخانے آپ کے کالم کا ترجمہ کرکے اپنی وزارت خارجہ کو بھیجتے ہیں۔ زیادہ مشکل پیش آئے تو کسی غیر ملکی اخبار کا اداریہ اٹھائیں اور اسے اپنے تجزیئے کے طور پر لکھ دیں مگر خیال رہے کہ یہ اداریہ یا مضمون نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ یا گارڈین جیسے مشہور اخبار کا نہ ہو بلکہ جرمنی، اٹلی یا روس کے کسی اخبار کا ہو۔ عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔
(4) آخر میں چند عمومی باتیں جو ہمیشہ پلے سے باندھ کر رکھیں۔ کالم نگار کی ذات کا اُس کے لکھے گئے الفاظ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سو بے فکر ہو کراپنے کالموں میں اخلاقیات پر بھاشن دیں، مذہب سے دوری کا رونا روئیں، مسلم امہ نام کی ایک چیز ہے اُس کی بے حسی پر ٹسوے بہائیں، حکمرانوں کی کرپشن پر لعن طعن کریں، اپنے پسند کے لیڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائیں اور خود کو آزاد تجزیہ نگار کہیں لیکن مخالف کیمپ کے کالم نگار کو اُس کی پسند کے لیڈر پر کالم لکھنے پر لتاڑیں اور جانبداری کے طعنے دیں۔ عملی زندگی میں آپ جو بھی کریں کالموں سے یوں لگنا چاہیے جیسے آپ سے زیادہ دردمند، قانون پسند اورکرپشن کے خلاف متحرک شخص کوئی نہیں۔
کالم کی دُم:اگر ان ٹپس پر عمل کرکے کوئی ایک شخص بھی کالم نگار بن گیا تو میں سمجھوں گا کہ میری پوری محنت ضائع گئی۔ (شفیق الرحمٰن سے مستعار ایک جملہ )۔