civil military qayadat main working relationship By Sabir Shakir

87

کورونا سے دنیا لڑ رہی ہے اور لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں۔ اموات کی تعدادچھ ہندسوں میں داخل ہونے والی ہے اور فی الوقت کورونا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ اس وبا سے صرف وہ بچ رہا ہے جسے قدرت نے محفوظ رکھا ہوا ہے‘ مریضوں کے صحت یاب ہونے کا کریڈٹ کسی ڈاکٹر ‘کسی دوائی کو اب تک نہیں مل سکا۔بس احتیاط اور احتیاطی تدابیر ہیں۔ ہر موسم میں یہ وائرس اپنا حملہ جاری رکھے ہوئے ہے اورہر عمر کے مریضوں کی یہ جان لے چکا ہے۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وائرس سے کس کو بچنا ہے‘ اس کا فیصلہ بھی یہ وائرس خود ہی کررہاہے اور کورونا وبا کا خاتمہ کس وقت ہوگا ابھی تک اس کا اندازہ کسی کو نہیں۔ کورونا کے باعث پاکستان کی سیاست میں بھی ایک ٹھہر اؤ آنا چاہیے تھا‘ کیونکہ تمام ادارے اور ریاستی مشینری اس وقت ایک نکاتی ایجنڈے پر دن رات ایک کئے ہوئے ہے کہ کسی طرح اس وائرس کے حملے سے بچنا ہے‘ لیکن ان سنگین ترین حالات میں بھی سازشی کہانیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ایک کے بعد ایک سازشی تھیوری سوشل میڈیا میں جنم لے رہی ہے‘ بلکہ باقاعدہ لانچ کی جارہی ہے۔
اختلافات کی پہلی کہانی نے ‘”لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں ؟‘‘کے ایشو پر جنم لیا اور کہا گیا کہ معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے اور وزیراعظم کو او ایس ڈی بنادیا گیا ہے‘ یہ بھی چھوڑی گئی کہ ان سے چار اہم عہدیداروں کو فارغ کرنے کا کہہ دیا گیا ہے‘بصورت دیگر ان کی حکومت بھی نہیں رہے گی۔پھر چھوڑی گئی کہ وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ لیا گیا ہے اور انہوں نے سوچنے کی مہلت مانگی ہے۔ پھر یہ خبر بھی چھوڑی گئی کہ بنی گالہ تین اہم لوگ اپنے سے زیادہ اہم لوگوں کا پیغام لے کر گئے کہ وزیراعظم صاحب بس اب بہت ہوگئی‘ آپ سے کْچھ نہیں ہونے والا‘ بہتر ہے آپ چلے جائیں اور آرام کریں۔یہ بھی چھوڑی گئی کہ ان اہم لوگوں کی بنی گالہ آمد کے بعد وزیراعظم نے جہانگیر ترین سے فون پر رابطہ کیا اور اس صورتحال سے آگاہ کیا۔پھر سب سے آخر میں ایک اور سازشی کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی توڑنے کی سمری صدر مملکت کو ارسال کردی ہے‘ چونکہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اس لیے اب وہ اسمبلی توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ ساری افواہیں خبروں کی صورت میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئیں۔یہ خبریں سوشل میڈیا پر اتنے وثوق سے نشر کی گئیں کہ ان کو سچ سمجھنا شروع کردیا گیا ۔ہم نے بھی اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی اور سب سے پہلے مقتدر حلقوں سے رابطے کرکے سچ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ عملی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ وزیراعظم عمران خان‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ مثالی ہے ‘ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جارہے ہیں اور آرمی چیف جنرل باجوہ نے افواج ِپاکستان کو واضح ہدایات دے دی ہیں کہ سول حکومتوں کی مکمل معاونت کی جائے۔پھر آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام سے حقائق جاننے پر معلوم ہوا کہ ان افواہوں میں جان نہیں ہے۔ اس پر مزید تسلی کیلئے سوچا کہ کیوں نہ وزیراعظم عمران خان سے ہی پوچھا جائے کہ جناب ان خبروں کی حقیقت کیا ہے؟ کیاانہیں معلوم ہے کہ ان سے استعفیٰ مانگا گیاہے یا ان کو او ایس ڈی بنادیا گیاہے ؟ اور یہ کہ کیا ان کو معلوم ہے کہ بنی گالہ میں ان سے ان کے گھر پر تین اصحاب استعفیٰ لینے آئے تھے؟ جمعہ تین اپریل کو سہ پہر وزیرعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوگئی اور ساری صورتحال کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ان تمام خبروں پر وزیراعظم صاحب دیر تک تو مسکراتے رہے اور بولے کہ یہ ایسی خبریں ہیں جن پر سوچنا بھی بیکار ہے‘ کیونکہ امورِ مملکت اس کے بالکل برعکس انداز میں چل رہے ہیں اور سول ملٹری قیادت میں مثالی ورکنگ ریلیشن شپ ہے اوراس نوعیت کی تمام خبروں میں دور دور تک کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دراصل شکست خوردہ لوگوں کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا کہ وہ محض پروپیگنڈا کریں اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کریں۔ اتفاق کی بات ہے کہ اسی روز وزیراعظم آٹا گندم اور چینی سیکنڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کا بھی جائزہ لے چکے تھے اور آئندہ دنوں میں اس رپورٹ کو پبلک کرنے کی ہدایات بھی دے چکے تھے۔ وزیراعظم صاحب نے تحقیقاتی رپورٹ کے اکثر مندرجات کا گفتگو میں ذکر بھی کیا۔اور پھر اگلے روز واجد ضیا کی رپورٹ میڈیا کو بھی جاری کردی گئی‘ لیکن اس کے بعد بھی سازشی کہانیوں کے جنم لینے کا سلسلہ نہ رک سکا اور اکثر ان مخصوص لوگوں نے جو ایک گرفتار صاحب کو پلک جھپکنے میں رہا کروانا چاہتے تھے اور انہیں اس ضمن میں مسلسل ناکامیاں ہورہی تھیں‘ نے دل برداشتہ ہوکر یہ سازشی کہانیاں گھڑیں‘ بلکہ یہاں تک پتا چل چکا ہے کہ کس طرح سول ملٹری قیادت کو بدنام کرنے کیلئے ایک منظم میڈیا کیمپین لانچ کی گئی اور اس کو مزید آگے بڑھانا تھا۔ اس بارے میں تمام مندرجات ہمارے اداروں کے پاس محفوظ ہیں اور اس پر مزید تحقیقات کی جارہی ہیں کہ کیسے یہ کارٹل سول ملٹری قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے ایک بڑا فساد کروانا چاہتے تھے‘لیکن خوش قسمتی سے اس نیٹ ورک کا پتا چلا لیا گیا اور اب یہ گروہ قدرے مایوس نظر آرہا ہے‘اور صلح کے پیغامات بھیج رہا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ماضی کی طرح ان کی طرف سے بھیجے گئے صلح کے پیغامات پر اعتبار کرکے ان کو چھوڑنے کا عمل دہرایا جائے گا یا پھر قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے گا ؟ریاست کے رویے اور فیصلے پر سب کی نظر ہے اس لیے اس برادری کے لوگ سب خاموش ہیں اور حتمی فیصلے کے منتظر ہیں ۔
قومی اسمبلی توڑنے کی سمری کی تلاش میں ہم نے ایوانِ صدر کا رخ کیا کہ شاید ہم یہ خبر بریک کرسکیں۔میرے ساتھ محترم چوہدری غلام حسین بھی تھے‘ ہم نے اپنے ٹی وی پروگرام کیلئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انٹرویو کرنا تھا ‘صدر مملکت سے پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے اور بعد میں کافی کھلے ڈلے ماحول میں گفتگو ہوئی۔ تقریباً ہر موضوع پر بات ہوئی‘ سیاسی و غیر سیاسی اور کورونا کی تباہی پر بھی بات ہوئی۔ صدر مملکت نے بھی ان تمام خبروں کی نہ صرف تردید کی بلکہ زوردار قہقہے لگا کر ان تمام افواہوں کو ہوا میں اڑاتے رہے اور واضح طور پر بتایا کہ وزیراعظم کی طرف سے سمریاں تو بہت آتی رہتی ہیں لیکن قومی اسمبلی توڑنے کی سمری نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی اور نہ ہی ایسی کسی سمری کی ضرورت ہے‘ کیونکہ ان کی حکومت پانچ سال کام کرنا چاہتی ہے اور دستیاب وسائل اور دستیاب اختیارات کے تحت ہی ملک میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے امکان کو بھی یکسر مسترد کردیا اور چینی ‘آٹا ‘گندم سکینڈل تحقیقاتی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیااور پراعتماد انداز میں کہا کہ جہانگیرترین پارٹی یا حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست کے تمام بڑے ایک پیج پر ہیں اور امورِ مملکت باہم مشاورت سے اور اتفاق ِرائے سے چلائے جارہے ہیں تو پھر سازشی کہانی کار وں کو کن کی پشت پناہی حاصل ہے؟ اور اس طرح کی خبریں کیوں پھیلائی جارہی ہیں؟ کیونکہ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی خبر‘ افواہ یا پروپیگنڈابے سبب نہیں ہوتا۔فی الوقت کورونا سب موضوعات پر حاوی ہے اور اس سے نمٹنا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔