یہ کوئی صدیوں پرانا قصہ نہیں ہے، صرف چالیس پچاس برس پہلے کی کہانی ہے۔ اُس وقت کے ہر شخص کا کسی نہ کسی چڑیل یا بڈاوے سے واسطہ پڑ چکا ہوتا تھا، کسی نے چڑیل کو صرف دور سے دیکھا ہوتا تھا اور کسی نے اُس کا باقاعدہ مقابلہ کیا ہوتا تھا اور بڈاوے یا شرارتی چھلاوے کچھ نہ کچھ کرکے غائب ہو جاتے تھے۔

کبھی فصل خراب کرتے تو کبھی کسی جانور کی رسی کھول کر اسے آزاد کر دیتے۔ وقت کیا بدلا ہے لوگوں کو چڑیلیں اور بڈاوے نظر آنا بند ہو گئے ہیں حالانکہ اگر چڑیلیں موجود تھیں اور نٹ کھٹ بڈاوے واقعی ہوتے تھے تو وہ اب بھی کہیں ضرور ہوں گے۔ آئیے پہلے چڑیلوں اور بڈاووں کے بارے میں جانیں۔

اردو لغت بورڈ کے مطابق چڑیل، بھتنی یا ڈائن کو کہتے ہیں۔ افادات سلیم کے مطابق چڑیلوں کے پائوں میں پنجہ پیچھے کی طرف اور ایڑی آگے کی طرف ہوتی ہے اسی لئے پنجابی میں چڑیل کو پچھل پیری بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر مشہور تھا کہ یہ عورتوں کے جادو ٹونے اور مکر و فریب سے انسانوں کے لئے مصائب پیدا کرتی ہیں۔

پلاک پنجابی ڈکشنری میں بڈاوا کے معنی چھلاوا، آسیب، فریب اور ڈراوا لکھے ہوئے ہیں گویا چڑیل اور بڈاوا ایک زمانے میں زندگی کا حصہ تھے مگر اب وہ ہماری زندگی سے ایسے نکلے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ چڑیلیں صرف برصغیر کی ہی روایت نہیں، دنیا بھر میں انہیں ایک زمانے میں حقیقت مانا جاتا تھا۔

یورپ کے لٹریچر میں بھی چڑیلوں کا بھرپور ذکر ملتا ہے۔ چڑیل عام طور پر بوڑھی، جھریوں بھرے چہرے اور جادو ٹونا کرنے والی خواتین کو کہتے تھے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب 600کے قریب جادوگروں، چڑیلوں اور نجومیوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا۔

ایک بار چڑیل پر الزام لگا کہ اس نے بادشاہ کے جہاز کو ڈبونے کے لئے اپنے جادو سے سمندری طوفان پیدا کر دیا تھا، بادشاہ بچ گیا تو اس نے چڑیل کو گرفتار کرلیا اور چڑیل پر اتنا تشدد کیا کہ بالآخر وہ مان گئی کہ وہ جادوگرنی اور چڑیل ہے جس کے بعد اسے مار دیا گیا۔ یورپ کے لوگ ابھی بھی چڑیلوں، بھوتوں، بڈاووں، جنوں اور پریوں کے دور کو نہیں بھولے۔

اُس دور کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے اب بھی ہر سال ہیلو وین Halloweenڈے منایا جاتا ہے، اُس روز بچے اور جوان مختلف سوانگ بھر کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔ ہم پرانے دور کو بھول چکے ہیں یا شاید ہمارے ذہنوں میں آج بھی موہوم سا شک ہے کہ چڑیلیں اور بڈاوے آج بھی موجود ہیں۔ اب وہ چڑیل یا بڈاوے کی اصلی شکل میں نہیں بلکہ انسانی شکل میں نظر آتے ہیں۔

فرض کریں کہ ہمارے اردگرد اب بھی انسانی شکل میں چڑیلیں اور بڈاوے موجود ہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں بہت سے پُراسرار معاملات کا راز معلوم ہو سکتا ہے۔ منیر نیازی کو تو شاید یقین تھا کہ اس ملک کے ترقی نہ کرنے کی وجہ ہی جادو اور آسیب ہے۔ ؎

منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اگر اپنے ملک کے المیوں کا آسیب کی روشنی میں جائزہ لیں تو 1971میں بنگال کا جادو سرچڑھ کر بولا تھا، یہ چڑیلیں ہی تھیں جنہوں نے ملک کے دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں، وسوسے اور شکوک پیدا کئے اور پھر بالآخر ہمیں جدا کر دیا۔ وہ بھی بڈاوا تھا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو امریکی سازش کی اطلاع دے کر بھڑکا دیا تھا اور بھٹو نے سرعام ہی خفیہ پیغام “The Party is Over”کہہ ڈالا تھا۔

بھٹو کو پھانسی دلوانے میں بھی آسیب اور بڈاوے دونوں کا ہاتھ تھا۔ اگر چڑیل لڑائی نہ کرواتی، ضیاء الحق واقعی 90دن میں الیکشن کروا کے چلے جاتے، بھٹو دوبارہ وزیراعظم بن جاتے تو نہ پرو بھٹو سیاست ہوتی، نہ اینٹی بھٹو جعلی اتحاد بنتے، نہ تلخیاں ہوتیں، نہ بےاعتبار موسم جنم لیتے مگر آسیب کا کیا کریں، یہ چڑیلیں اور بڈاوے دنیا بھر کا پیچھا چھوڑ گئے مگر تضادستان میں ابھی تک کھل کھیل رہے ہیں۔

ہمارا جمہوری اور معاشی سفر ٹھیک چل رہا ہوتا ہے مگر اچانک چڑیل بڈاوے ایسی شرارت کرتے ہیں کہ مٹھائی کا سارا تھال ہی اُلٹ پلٹ ہو جاتا ہے اور مٹھائی گر کر ضائع ہو جاتی ہے۔

انصافی حکومت نوجوانوں کے آدرشوں، اوورسیز کی خواہشات، مڈل کلاس کی آرزئوں اور کارپوریٹ کلاس کے عزائم کے نتیجے میں برسراقتدار آئی تھی اس لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس حکومت کے راستے میں جو بھی مشکلات آتی ہیں وہ چڑیلیں اور بڈاوے ہی لے کر آتے ہیں۔

شوگر کے حوالے سے ملوں کو جو سبسڈی دی گئی تھی وہ ایک بڈاوے کی شرارت کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی وگرنہ انصافی حکومت ایسی غلطی کیسے کر سکتی تھی۔ اسی طرح گندم اور آٹا اسکینڈل کے پیچھے چھلاوے اور بڈاوے ہیں وگرنہ گندم کی درآمد کے باوجود آٹا کمیاب کیوں ہوا؟ ملک کی معاشی ترقی میں تنزلی، میڈیا کے خلاف پابندیاں اور حکومت کی طرف سے کوئی پالیسیاں نہ بنانے کے پیچھے چڑیلوں کا ہاتھ ہے۔

یہ چڑیلیں پاکستان کی ترقی کی مخالف ہیں اور ہر بار کسی نہ کسی وزیر، مشیر یا وزیراعظم کے معاون کو اپنا شکار بنا کر اس سے سارے منفی کام کرواتی ہیں۔

انصافی حکومت اسکینڈلز اور غلطیوں کے حوالے سے بالکل بےقصور ہے۔ یہ سارا کیا دھرا دراصل چڑیلوں، بھوتوں، بھتنیوں اور بڈاووں کا ہے۔ چھوٹی شرارتیں، جیسے اجمل وزیر ایسے نیک پاک بندے کو جھوٹی کال کرکے پھنسانا یا اسد کھوکھر ایسے ایماندار اور دولتمند پر چند ٹکوں کی خاطر رنگ روڈ کا راستہ بدلنے کے جھوٹے اور لغو الزامات، بڈاووں کے کام ہیں وگرنہ تحریک انصاف کے ہر کارکن کی ایمانداری، شرافت اور محنت کی قسم کھائی جاتی ہے، باقی جو بڑے اور برے کام ہیں وہ سب چڑیلوں کی کارستانی ہے، مخالفوں کو جیلوں میں بھیجنا ہو یا ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا ہوں اس میں انصافی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کام میں بھی بھوت پریت کا زیادہ دخل ہے۔

اصل میں چڑیلیں اور بڈاوے آج کل ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ویسے ہی مخالف ہوئے ہیں، انصافی حکومت کے کہے بغیر ہی چڑیلیں اور بڈاوے اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ یہاں یورپ جیسا وقت کب آئے گا کہ جب چڑیلیں اور بڈاوے واقعی صرف یادگار رہ جائیں گے اور عملی زندگی سے واقعی نکل جائیں گے۔