Bazurgi Nai Burhapa | Hassan Nisar

31

Hassan Nisar senior Columnist latest column in Jang leading newspaper of Pakistan .

’میر ےمطابق‘‘ میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ نام نہاد ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کے ساتھ ایک آدھ موضوع مستقل اہمیت کی نوعیت کا حامل بھی ہو مثلاً زندگی اور موت، فتح اور شکست، امید کیا ہے؟ گھر کسے کہتے ہیں؟ مستقبل کا کیا مطلب ؟ خوشامد اور خوشامدی کیا شے ہے؟ امن کس بلا کا نام ہے؟ ساکھ کی کیا ا ہمیت ہے؟ دانائی اور علم میں کیا فرق ہے؟ وفاق کی کیا تعریف ہے؟ صبر کسے کہتے ہیں؟ دعا کا کیا مقام ہے؟ وغیرہ وغیرہ لیکن ہوتا یہ ہے کہ پروگرام کا دورانیہ کم ہونےکی وجہ سے اکثر اوقات ناظرین کی طرف سے بھیجے گئے اس قسم کے موضوعات کو کرنٹ افیئرز پر قربان کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ پروگرام میں ہم نے ’بزرگی بڑھاپے‘‘ پر بات کرنا تھی جو رہ گئی۔ میں کیونکہ سیاست سے بری طرح اوبھ چکا ہوں۔ جو کچھ جس انداز میں ہو رہا ہے اس سے گھن آنے لگی ہے۔ اس لئے ’’بریک‘‘پر جانےکا فیصلہ کیا۔ سو دوتین کالم بالکل غیرسیاسی ہوں گے تاکہ تازہ دم ہو کر پھر سے بھاڑ جھونکنے کے قابل ہوسکوں۔ناظرین نے بزرگی اوربڑھاپے پر تبصرے کے لئے کہا تھا تو پہلی گزارش تو یہ ہے کہ بزرگی اوربڑھاپے میں زمین آسمان سے بھی زیادہ فرق ہے۔ بزرگ “GRAND” کو کہتے ہیں جس کا مہ و سال سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھ جیسے لوگ جوانی میں نہ مرجائیں تو بوڑھے ضرور ہو جاتے ہیں، Grand ہونا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے جس کے لئے عمر کی کوئی حد یا شرط نہیںاس لئے ان دونوں کو آپس میں کنفیوز نہیں کرنا چاہئے سو ہم بڑھاپے تک محدود رہیں گے۔بنیادی بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور پسماندہ ملکوں کے بوڑھے اور بڑھاپے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ پسماندہ ملکوں میں تو اکثریت بچپن، لڑکپن یا جوانی میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ فکر معاش ہی زندہ کو زندہ لاش میں تبدیل کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔بوڑھی سوچیں میرے چہرے سے چپک کر رہ گئیںمیں جواں عمری میں ہی صدیوں پرانا ہو گیایا یہ دہلا دینے والا مصرع؎’’میں نے بچپن سے بڑھاپے میں قدم رکھا تھا‘‘اس مصرع کا مطلب کوئی اس بچے سے پوچھے جسے چھوٹی سی عمرمیں خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھانا پڑے۔معاشرہ متمول ہو یا افلاس کا مارا، ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ ہو یا ’’ان فیئر اسٹیٹ‘‘ ….. ریاست ماں کے جیسی ہو یا سوتیلی ماں سے بھی بدتر، عورت اور مرد کے بڑھاپے میںبہرحال فرق ہوتا ہے۔ جیسے گوروں کا یہ محاورہ کہ خواتین کی زندگی کے 10بہتر ین سال وہ ہوتے ہیں جب وہ اپنی عمر کے 29ویں اور 30ویں سال کے درمیان ہوتی ہیں یایہ محاورہ کہ کسی عورت کی صحیح عمر جانناہو تو اس کی ساس یانند سےپوچھو۔میرے نزدیک سیاہ اور سفید بالوں میں وہی فرق ہے جو رات کے اندھیرے اور دن کی سفیدی میں ہوتا ہے کہ رات کا اپنا راز اور حسن ہوتا ہے، دن کا اپنا۔ رات گنہگار، پرہیزگار اور سوچ بچار کرنے والوں کے لئے ایک جیسی ہونے کےباوجود یکسر مختلف ہوتی ہے اور یہی حال دنوں کا۔ کچھ قومیں ایک ایک دن میں ایک ایک صدی کا سفر طے کرتی ہیں، کچھ منجمد رہتی ہیں اور کچھ بیش قیمت کاروں میں بیٹھ کر ریورس گیئر لگانے کے بعد اسے ترقی کا سفر سمجھتی ہیں۔ اسی لئے اس حقیقت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا کہ جوانی اور بڑھاپے کا اس بات سے گہرا تعلق ہے کہ انسان نے کیسے ملک اور معاشرہ میںجنم لیا۔جب لوگ یہ کہنے لگیں کہ ’’ماشاءاللہ آپ جوان دکھائی دے رہے ہیں‘‘ تو دراصل وہ انتہائی شائستگی سے آپ کو باور کرا رہے ہوتے ہیں کہ آپ بوڑھے ہو رہے ہیں یا ہوچکے ہیں۔ اس حوالہ سے میراذاتی رویہ ڈھٹائی پر مبنی ہے کیونکہ میرے نزدیک بوڑھا صرف وہ ہے جو مجھ سے پندرہ سال بڑا ہو۔بڑھاپا باوفا بھی بہت ہے کیونکہ قبر تک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور یہ وہ اکلوتا رشتہ دار جو قبر میں بھی بندے کے ساتھ جاتا ہے۔ اک راز ہے جو میں اپنے ایج گروپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ چالیس سال کی عمر جوانی کا بڑھاپا ہے اور 50سال کی عمر بڑھاپے کی جوانی ہوتی ہے۔بڑھاپے کا سب سے بڑا نفع ہی دراصل اس کا سب سے بڑا نقصان بھی ہے کہ انسان مستقبل کے جھمیلوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر آپ گہرائی میں جا کر سوچیں تو بڑھاپا درحقیقت Mind Over Matter کا اک ایسا کھیل ہےجس میں If You Donʼt Mind, It Doesʼt Matterبڑھاپے کا ایک روپ یہ بھی ہے کہ زندگی کے بارے میں آپ کے پاس بیشتر سوالوں کے بہترین جواب ہوتے ہیں لیکن کوئی آپ سے پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا یا آپ جم تو جوائن کرلیتے ہیں لیکن وہاں جاتے کبھی نہیں۔ساری باتیں اپنی جگہ لیکن صوفی کے کلام سے بہتر کیا ہوسکتا ہے؎ اٹھ فریدا ستیا تری داڑھی آیا بُوراگا آ گیا نیڑے تے پچھا رہ گیا دور