Badalta Afghanistan By Habib Akram

32

پاک افغان تعلقات کی نوعیت پچھلے پینتایس برسوں میں دراصل جنگی تعاون کی سی رہی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی جاتی رہی تو دونوں اطراف سے وہی لوگ ذمہ دار رہے جو اس طرح کے معاملات میں تربیت اورتجربے کے حامل ہیں۔ اس کے بعد افغان مجاہدین کی باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں تو بھی جنگی امور کے ماہرین ہی پاکستان کی طرف سے ان میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان باہمی لڑائیوں کے خاتمے کے لیے1990 ء کی دہائی میں طالبان آگے آئے توان کی جدوجہد بھی درحقیقت ایک جنگ ہی تھی اس لیے حالات و واقعات پر پاکستان کی طرف سے نظر رکھنے کا فریضہ جنگی و دفاعی ماہرین کے پاس ہی رہا۔2001 ء میں افغانستان پر امریکی حملہ ہوا تو پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی اس لیے فطری طور پر ہمارے دفاعی ادارے پالیسی سازی سے لے کر اس کو عمل میں لانے تک کے سبھی مراحل کے نگران بن گئے۔ جنرل مشرف کے بعد آنے والوں کی رائے اور معلومات کی بنیاد صرف اور صرف امریکی میڈیا میں آنے والے خبریں تھیں‘ ان کی اپنی کوئی رائے تھی نہ پالیسی۔ اس لیے سب کچھ ویسا ہی چلتا رہا جیسے پہلے چلتا آرہا تھا۔ یعنی افغانستان یا اس سے متعلق پاکستان کے سبھی رابطے عسکری دائرے میں ہی رہے۔ پارلیمنٹ‘ سیاسی جماعتیں یا منتخب اراکین اسمبلی کا تعلق اول افغانستان سے بن ہی نہیں پایا اور کچھ بنا بھی توتعمیری نہیں بنا۔ کبھی ان تعلقات کو عوامی نیشنل پارٹی نے استعمال کرکے پاکستان میں سیاست کرنے کی کوشش کی‘ کبھی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اپنی بے معنی سی راگنی الاپتے رہے اور کبھی مولانا فضل الرحمن یا دیگر مذہبی سیاسی جماعتیں افغانستان میں اپنے تعلقات جتا جتا کر مسائل الجھاتی رہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پچھلے سال تک افغانستان میں جو کچھ ہوا دراصل سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے تسلسل میں رونما ہونے والے واقعات کے سوا کچھ نہیں تھا۔ امریکہ کا طالبان کے ساتھ ایک سیاسی معاہدہ کرکے نکلنا اور طالبان کا شعوری طور پر اپنے ماضی کے برعکس اندرونی و بیرونی طور پر سیاسی انداز میں معاملات طے کرنا‘ یہ ظاہر کررہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایک نیا افغانستان ابھر رہا ہے۔ ماضی کے برعکس عالمی امدادی اداروں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنا‘ وادی ٔپنج شیر میں گولیاں چلانے سے پہلے صلح کا راستہ نکالنے کی کوشش کرنا اور پھر جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی سب کیلئے عام معافی کا اعلان‘ اس کے علاوہ امریکہ سمیت ایران ‘ چین اور روس کے ساتھ سفارتی مراسم قائم کرنے کی سر توڑ کوششیں یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ طالبان کی موجودہ قیادت شعوری طور پراختلاف کے خاتمے کیلئے سیاسی راستہ ہی اختیار کرنا چاہتی ہے۔
افغان قیادت کے رویے میں اس تبدیلی کا آغاز تو قطر میں دفتر کے قیام سے ہی ہوگیا تھا لیکن پچھلے ایک سال میں یہ تبدیلی مکمل انقلاب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ امریکہ‘ روس اور چین کے ساتھ جتنے بھی مذاکرات طالبان نے کیے ہیں وہ زیادہ تر غیرعسکری پس منظر کے حامل عہدیداروں سے کیے ہیں۔ چونکہ پاکستان اورافغانستان کے تعلقات ایک خاص پس منظر سے جڑے ہیں اس لیے فوری طورپر تو شاید ان کے میکانزم میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی لیکن ہمیں بھی ان تعلقات کو سیاسی رنگ دینے کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ اس خاکسار کی معلومات کے مطابق طالبان بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سیاسی شکل دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کا اظہار دبے لفظوں میں بند دروازوں کے پیچھے تو ہوتا ہی رہا ہے لیکن اب اس کیلئے باقاعدہ کوشش بھی کی جارہی ہے۔ کسی درجے میں طالبان کی یہ خواہش درست بھی ہے کہ انہیں دنیا میں خود کو ایک سیاسی قوت کے طور پر منوانا ہے‘ ایسے میں اگر ان کا قریب ترین ہمسایہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کی ظاہری صورت کو بھی سیاسی نہ بنائے تو یہ ان کیلئے خوشی کی بات نہیں ہوگی۔ اس لیے افغانستان کی آئندہ حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تو جب ہوگا‘ تب ہوگا لیکن اس مرحلے پر بھی طالبان سے رابطوں میں ہماری طرف سے سیاستدان بھی شامل ہوجائیں تومستقبل کی صورت گری کہیں بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے۔ اس کی ابتدا یوں بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی پارلیمانی وفد کابل جاکر حالات کا جائزہ لے لے۔ سول سوسائٹی کے اراکین افغانستان جا کر اپنے رابطے استوار کریں‘ بزنس فورم یا کسی بھی دوسرے شعبے میں غیر حکومتی افراد کے مل بیٹھنے کا بندوبست ہو تاکہ پاک افغان تعلقات رسمی طور پرسلامتی کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی پھلتے پھولتے دکھائی دیں۔
پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے پالیسی کے ساتھ ساتھ کچھ کام افراد پر بھی کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات نمٹانے کیلئے ہماری جو بااختیار ٹیم ہے وہ اپنی ساخت میں پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتی۔ کسی بھی وجہ سے اس کی تشکیل ایسی ہو گئی ہے جس میں پشتون نمائندگی بہت ہی کم ہے۔ ویسے بھی پاکستان دنیا میں پشتون آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے‘ اس لیے افغانستان کے معاملے میں تو ہمیں بدرجہ اولیٰ یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ ہمارے فیصلہ سازوں میں اعلیٰ ترین سطح پر کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جن کے ساتھ ہمارے افغان بھائی اپنی زبان میں بات کرسکیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے پشتو بولنے والے ایک سیاستدان کو وزارت خارجہ میں وزیرمملکت لگانے کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان اصولی طور پرکرچکے ہیں لیکن کسی نہ کسی وجہ سے یہ ٹلتا آرہا ہے۔ اس تاخیر کی ایک وجہ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے ایک تیسرا پہلو جو ہمیں پالیسی کے حوالے سے درست کرنا ہے‘ وہ یہ ہے کہ خارجہ امور کو عام طور پر افغانستان سے تعلقات کو خاص طور پر ہم نے پراسراریت کی دبیز چادر کے نیچے چھپا رکھا ہے۔ اگر کوئی بات ہوتی ہے تو آف دی ریکارڈ‘ کسی پارلیمانی کمیٹی کو کچھ بتایا جاتا ہے تو بند کمروں میں اور پارلیمنٹ میں کوئی بات کرنی ہو تودروازوں کی بندش کے بعد۔ یہ درست ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ قومی سلامتی کے معاملات کی بعض تفصیلات عام نہیں کی جاسکتیں لیکن ستم ظریفی کی حد ہے کہ سب کچھ خفیہ رکھنے کے باوجود سب سے زیادہ دھچکے ہمیں افغانستان کے حوالے سے ہی لگے ہیں۔ پچھلے چالیس برسوں سے جو کچھ ہم نے خفیہ رکھا ہے اس کی بنیاد پر ہم یہ بھی اندازہ نہیں کرسکے کہ امریکہ بگرام کب چھوڑے گا یا طالبان کابل میں کب داخل ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے جو کچھ خفیہ گوداموں میں رکھا ہے وہ بے معنی دفتر کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ ہم ان موضوعات پر کھل کر بات کرتے رہتے تو شاید ایسی بہت سی شرمندگیوں سے بچ جاتے جو ہمیں ماضی میں اٹھانا پڑی ہیں۔ حالت ہماری یہ ہے کہ اسلام آباد میں جتنے بڑے چھوٹے منہ ہیں‘ افغانستان کے بارے میں اتنی ہی باتیں ہیں۔ اس موضوع پر کسی بھی سرکاری آدمی سے بات کرکے دیکھ لیں‘ وہ دائیں بائیں دیکھ کر اتنا محتاط ہو کر بات کرے گا جیسے کوئی قومی راز اگلنے لگا ہے لیکن اس کی مبلغ معلومات صبح کے اخبار میں افغانستان سے متعلق چھپی خبروں سے بھی کم ہوتی ہیں۔ ہر شخص کے پاس معلومات ادھوری ہیں اور انہی ادھوری معلومات پر وہ اپنی رائے بنا کر افغانستان کے سبھی مسائل حل کرنا چاہتا ہے۔ کوئی مرکزی پالیسی دکھائی دیتی ہے نہ اسے بنانے کی کوئی کوشش۔ ظاہر ہے چھپانے اور غیر ضروری رازداری کے ماحول میں تو افغانستان کے معاملے پر کوئی بامعنی مکالمہ تو ہو نہیں سکتا اورجب مکالمہ نہ ہوتو نالائقی کے باربار ارتکاب کے سوا توقع بھی کیا رکھی جاسکتی ہے۔