Baat Direct Action Ki | Amar Jaleel

50

Amar Jaleel Latest Column in Jang Newspaper .

کباڑیوں اور ردّی خریدنے والوں کے بارے میں آپ تھوڑا بہت ضرور جانتے ہوں گے۔ کباڑ خریدنے اور بیچنے والے کو کباڑیا کہتے ہیں۔ کباڑی بھی کہتے ہیں۔ کہنے میں کیا ہرج ہے، جو جی میں آئے کہہ دیجئے، کباڑی یا کباڑیا۔ آپ سے آپ کی بیکار اور ناکارہ چیزیں مثلاً ٹوٹا پھوٹا فرنیچر، ٹیڑھے میڑھے برتن، پرانی کراکری، کانٹے، چھریاں، پرانی دریاں، پرانے قالین، پردے، فانوس، بچّوں کے کھلونے، خالی بوتلیں وغیرہ آپ سے خرید کر لے جاتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ کباڑ خریدنا اور بیچنا مستند کاروبار ہے، اسی طرح ردّی خریدنے والا آپ سے پرانے اخبار خریدتا ہے۔ اگلے وقتوں میں لوگ چھپتے چھپاتے پرانے اخبار بیچتے تھے، پرانے اخبار بیچنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اقدار بدل چکی ہیں۔ لوگ اب پرانے اخبار بیچنے کو معیوب نہیں سمجھتے۔ میں جس بلڈنگ کے ایک فلیٹ میں رہتا ہوں، اس بلڈنگ میں بے شمار فلیٹ ہیں۔ مشکل سے دو، چار فلیٹوں کے باسی اخبار خریدتے اور پڑھتے ہیں اور آخرکار پرانے اخبار ردّی خریدنے والے کو بیچ دیتے ہیں۔ وہ لوگ چھپ کر یہ کام نہیں کرتے۔ وہ لوگ سب کے سامنے ردّی خریدنے والے کو پرانے اخبار بیچ دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ لوگ رتی برابر نہیں شرماتے۔ اگلے وقتوں کے لوگ شرماتے تھے۔ اگلے وقتوں کے لوگ بناسپتی گھی کھاتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔
اگلے وقتوں کے لوگ پرانے اخبار بیچتے ہوئے کیوں شرماتے تھے؟ میں نہیں جانتا۔ اس میں معیوب کیا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ آپ سے کیا چھپانا… میں بھی پرانے اخبار بیچتا ہوں۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کے روز ایک ردّی خریدنے والا میرے گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ ایک عرصے سے وہ مجھ سے پرانے اخبار خریدتا ہے۔ اس دوران ہماری آپس میں خاصی شناسائی ہو گئی ہے۔ میرے پاس دو، چار انگریزی اخبار آتے ہیں اور دو، چار اردو اخبار آتے ہیں۔ میرے کمرے کے ایک کونے میں پرانی میز پر اخبارات کا ڈھیر جمع ہو جاتا ہے۔ ردّی خریدنے والے نے کئی بار استدعا کی ہے کہ بھائی انگریزی اور اردو اخبار کے الگ الگ ڈھیر لگایا کرو مگر میں ایسا کر نہیں سکتا۔ بوڑھا ہو جانے کے بعد ہم بہت سے کام نہیں کرسکتے۔ مثلاً نوجوان، جوان اور ادھیڑ عمر کے لوگوں کے درمیان آپ کھل کھلا کر ہنس نہیں سکتے۔ ایسا کرنے سے لوگ آپ کو کھسکا ہوا سمجھتے ہیں۔ میں پرانے انگریزی اور اردو اخبار کے الگ الگ ڈھیر نہیں لگا سکتا، مجھ میں اتنا سلیقہ نہیں ہے۔ گڈمڈ اخبارات کے ڈھیر سے اردو اور انگریزی اخبار الگ کرنے میں بیچارے ردّی خریدنے والے کو خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ اس دوران میں اسے چائے کا ایک مگ بنا کر دیتا ہوں اور کھانے کیلئے دو بسکٹ دیتا ہوں۔
آج تک یہ بات میری سمجھ سے کوسوں دور ہے کہ پرانے انگریزی اور اردو اخبار کے بھائو اس قدر مختلف کیوں ہوتے ہیں؟ پرانے انگریزی اخبار دس روپے کلو اور پرانے اردو اخبار ایک روپے فی کلو کے حساب سے بکتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ردّی خریدنے والے سے پوچھا تھا کہ بھائی اردو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور انگریزی انگلیوں پر گننے والوں کی زبان ہے مگر پھر بھی پرانے اردو اخبار کے مقابلے میں پرانے انگریزی اخبار کی قیمت زیادہ کیوں ہے؟ میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہے۔ ردّی خریدنے والے نے کہا تھا:’’میں بھی جب ردّی کے بڑے بیوپاریوں کے ہاں ردّی بیچنے جاتا ہوں تب وہ بھی پرانے اردو اخبارات کی قیمت کم اور پرانے انگریزی اخبارات کی قیمت زیادہ دیتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے چھوٹے بڑے ردّی خریدنے اور ردّی بیچنے والے خود نہیں جانتے کہ پرانے اردو اخبار کی ردّی کی قیمت کم اور پرانے انگریزی اخبار کی ردّی کی قیمت زیادہ کیوں ہوتی ہے۔ ایک دانشور نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا:انگریزی ہمارے آقائوں کی زبان ہے۔ انہوں نے دو سو برس ہم پر حکومت کی تھی۔ یہ ان کے دبدبے کا اثر ہے کہ ان کی ہر چیز کی قدر و منزلت ہے، پھر وہ چاہے ردّی ہی کیوں نہ ہو۔ انگریزی میں دم ہے۔ دانشور کی بات میں آج تک نہیں بھولا۔
اردو زبان کے بارے میں اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہم بارہا تاریخ کی غلام گردشوں سے ہو آئے تھے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ بھیانک فسادات کو پاکستان کیلئے قربانیوں کا نام دیا گیا تھا۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم گفت و شنید کے ذریعے انگریز حکمرانوں سے اپنے لئے الگ تھلگ ملک بنانے کیلئے ہندوستان کا ایک حصّہ لینے جا رہے تھے۔ ہندوستان انگریز کی جاگیر نہیں تھا۔ ہندوستان صدیوں سے ہندوئوں کا ملک تھا، جس طرح ہم نے قبضہ کرنے کے بعد ہندوستان پر چار، پانچ صدیاں حکومت کی تھی، عین اسی طرح ہم سے چھیننے کے بعد انگریز نے ہندوستان پر دو، ڈھائی سو برس حکومت کی تھی۔
دو عالمگیر جنگیں جیتنے کے باوجود انگریز کی اقتصادی اور معاشی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ آدھی دنیا پر قابض انگریز مفتوح ممالک سے دستبردار ہوتا جا رہا تھا۔ انگریز نے ہندوستان سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو خدشہ تھا کہ اگر انگریز مسلمانوں کو ہندوئوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلے گئے تو پھر مسلمانوں کیلئے ہندوستان میں جینا دوبھر ہو جائے گا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ تھلگ ملک بنانے کیلئے انگریز سے ہندوستان کے بٹوارے کی بات کی۔ انگریز نے اصولی طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بات مان لی۔ ہندو لیڈر بھڑک اٹھے۔ انہوں نے ہندوستان کے بٹوارے کی بات قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے کی ٹھان لی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور 16؍اگست انیس سو چھیالیس کے روز Direct Actionکا اعلان کر دیا۔
ڈائریکٹ ایکشن سے مراد یہ نہیں تھا کہ مسلمانان ہند انگریز اور ہندوئوں سے سینہ سپر ہوں گے اور دو بہ دو جنگ ہو گی۔ ڈائریکٹ ایکشن سے مراد تھی انگریز اور ہندوئوں کو یہ دکھانا کہ ہندوستان کے مسلمان آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانان ہند کی نمائندہ جماعت تھی۔ اس روز آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے ملک بھر میں پرامن جلسے، جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پورے ہندوستان میں جلسے ہوئے، جلوس نکالے گئے۔ کہیں کچھ نہیں ہوا سوائے ڈھاکہ اور کلکتہ کے۔ جلسہ گاہ کی طرف جاتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں نے ڈھاکہ میں کاروبار بند کرانے کیلئے ہندو دوکان داروں پر حملے کئے، قتل و غارت گری ہوئی، بہت بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ یہ خبر جیسے ہی کلکتہ پہنچی آناً فاناً فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ کلکتہ کی سڑکیں خون سے لت پت ہو گئیں۔ ہر طرف لاشوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اس لئے تاریخ میں Direct Actionکو Great Calcuta Killings کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ڈائریکٹ ایکشن قائداعظم کی طرف سے ہندو اور انگریز کے خلاف اعلان جنگ نہیں تھا۔ ڈائریکٹ ایکشن کے روز فسادات ہوئے تھے وہ بھی ڈھاکہ اور کلکتہ میں۔ کسی نے کوئی قربانی نہیں دی تھی، لوگ ہندو اور مسلمان فسادات میں مارے گئے تھے۔