Aye Khana Bar Andaz e Chaman – Nusrat Javed

88

وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھا کر ڈونلڈٹرمپ نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے Davosمیں کشمیر کے بارے میں ہمیں خوش کرنے کو جو کلمات ادا کئے،انہیں سنتے ہی دل سے فوراََ ’’اللہ خیر کرے‘‘ کی دُعا نکلی۔

ضرور پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں مندے کا رجحان، سرمایہ کاروں کے 46 ارب 77 کروڑ روپے ڈوب گئے
گزشتہ برس 22جولائی کے دن بھی امریکی صدر اور ہمارے وزیر اعظم کے مابین ایک ملاقات ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے باقاعدہ ملاقات سے قبل صحافیوں کے سامنے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ نریندر مودی نے اس سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تعاون کی فرمائش کی ہے۔وہ اس ضمن میں ’’ثالث‘‘ کا کردار ادا کرنا چاہے گا۔’’ثالث‘‘ کے دعویٰ کا نریندرمودی نے واضح الفاظ میں جواب نہیں دیا۔5اگست 2019کے دن مگر مقبوضہ کشمیر کے ’’جداگانہ اور خودمختار‘‘ تشخص کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اس کو دوحصوں میں تقسیم کرکے ’’بھارتی یونین‘‘ کے دلی سے براہِ راست چلائے علاقوں میں تبدیل کردیا۔اس دن سے آج تک مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں۔صرف پری پیڈ موبائل فونز کھولے گئے ہیں۔ہزاروں نوجوان رات کے اندھیرے میں گھروں سے اٹھاکر بھارتی جیلوں میں بند کردئیے گئے ہیں۔کئی دہائیوں سے ’’بھارت نواز‘‘ تصور ہوتے سیاسی رہنمائوں سمیت تمام قدآور سیاست دان گھروں یا سرکاری طورپر چلائے ہوٹلوں میں نظر بند ہیں۔80لاکھ کشمیری مسلمان اس دن سے آج تک خود کو دُنیا کی وسیع وعریض جیل میں محصور ہوئے محسوس کررہے ہیں۔انہیں آزادی سے سانس لینے کی چند گھڑیاں بھی میسر نہیں۔ ’’ثالث‘‘ مگر ان پر نازل ہوئے تازہ ترین عذاب کے بارے میں ہرگز فکرمند دکھائی نہیں دے رہا۔منگل کے روز عمران خان صاحب سے ملاقات کا باقاعدہ آغاز کرنے سے قبل ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے ہمیں تسلی دینے کی کوشش کی کہ امریکہ نے کشمیر کے معاملات پر گہری نگاہ رکھی ہوئی ہے۔وہ مسئلہ کشمیر کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین مسلسل تنائو کے بارے میں بھی فکرمند ہے۔اس ضمن میں پاکستان کی ’’مدد‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ساتھ ہی مگر یہ بھی کہہ دیا کہ: “If I Can”۔سادہ لفظوں میں یہ کہنا ہوگا کہ درحقیقت وہ پرانا ریکارڈ ہی بجارہا تھا۔کشمیر کے حوالے سے امریکہ اسی صورت کوئی ’’مدد‘‘ فراہم کرسکتا ہے اگر بھارت بھی اس کے بارے میں رضا مند ہو۔بھارتی حکومت اور خاص کر مودی سرکار سے موجودہ تناظر میںرضا مندی کی امید رکھنا بچگانہ خوش فہمی ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین معاملات لہذا ’’آنے والی تھاں‘‘ پر ہی اٹکے رہیں گے۔ہمارا میڈیا ٹھوس حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے مگر اطمینان بخش ہیڈلائنز بنائے چلا جارہا ہے۔میری دانست میں ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے چکنے چپڑے کلمات کے ذریعے پاکستان کو اصل پیغام یہ دیا ہے کہ شاید اسے آئندہ ماہ بھارت کے ساتھ پاکستان آنے کی ضرورت نہیں۔ہمارے وزیر اعظم سے اس کی ملاقات’’ہوگئی‘‘ ہے۔مزید کی غالباََ آئندہ چند ماہ میں ضرورت نہیں۔ہمیں خوش کرنے کو امریکی صدر نے البتہ یہ اصرار بھی کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کبھی بھی اتنے خوش گوار اور دوستانہ نہیں رہے جتنے ان دنوں نظر آرہے ہیں۔مخاصمت سے دوستی کی راہ پر آنے کا کریڈٹ مگر اس نے اپنی اور عمران خان صاحب کے ذاتی رویوں کو دیا۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے بھول گیا کہ آج سے چند ہی سال قبل جنرل مشرف کو اس کا ایک پیشرو-جارج بش- اپنا Tight Buddyیعنی ’’جگر جان‘‘ کہا کرتا تھا۔پاکستان کو ان دنوں افغانستان پر ’’دہشت گردوں کے خلاف‘‘مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے ’’کلیدی‘‘ اتحادی تسلیم کیا جاتا تھا۔پاکستان کو اس ’’کلیدی کردار‘‘ کی بدولت مگر کئی برسوں تک اپنی ہی سرزمین پر حالیہ تاریخ کی بدترین دہشت گردی کا سامنا کرناپڑا۔ڈونلڈٹرمپ اور عمران خان صاحب کا ’’جگرجان‘‘ ہوجانا ہمارے لئے اب نجانے کونسا ’’معجزہ‘‘ برپا کرے گا۔پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ ارشاد فرمایا کہ بالآخر افغانستان کے حوالے سے ان کا ملک اور امریکہ ’’ایک پیج‘‘ پر آچکے ہیں۔اس خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ امریکہ کو اب بھارت اور خاص کر کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ بھی ایک ہی پیج(Page)پر آجانا چاہیے۔ ٹرمپ مگر تسلی کے دوبول ادا کرتے ہوئے غچہ دے گیا۔پنجابی محاورے کے مطابق ’’پکڑائی‘‘ نہ دیا۔یہ حقیقت عیاں ہوتی جارہی ہے کہ ہمیں سفارت کارانہ مہارت سے بہلاتے پھسلاتے ہوئے امریکہ پاکستان سے افغانستان کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کئے چلے جارہا ہے۔اس کی مشکلات آسان ہوتی نظر آرہی ہیں۔ہمارے سرپر لیکن FATFکی تلوار اب بھی لٹک رہی ہے۔امریکی اثرورسوخ کے مکمل تابع IMFنے پاکستان کی معیشت کو ’’بحال‘‘کرکے اسے ’’استحکام‘‘ مہیا کرنے کے لئے جو فارمولہ دیا ہے اس کی وجہ سے تقریباََ ہر مہینے بجلی اور سوئی گیس کے نرخوں میں اضافہ ہورہا ہے۔معیشت کو ’’دستاویزی‘‘ بنانے کی ضد نے چھوٹے کاروباری افراد کو خوفزدہ کردیا ہے۔بڑے سیٹھوں کو گلہ ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ’’خودمختاری‘‘ انہیں نئی سرمایہ کاری کی جانب راغب نہیں کررہی۔ IMFسے مستعار لئے رضا باقر نے شرح سود کو ناقابل برداشت حد تک بڑھادیا ہے۔اس شرح سود نے مگر برطانیہ اور امریکہ میں کیش سے مالا مال سٹہ بازوں کو آسان بھاری اور فوری منافع کی امید دلائی۔ 2ارب ڈالر سے زیادہ رقم ’’ہمارے خزانے‘‘ میں T-Billsکی خریداری کی وجہ سے آچکی ہے۔یہ رقم درحقیقت حکومتِ پاکستان کو دیا ہوا قرض ہے۔اس کا ہر تین ماہ بعد منافع وصول کیا جاتا ہے۔ماہرینِ معیشت رقم کی اس نوع کو Hot Moneyکہتے ہیں۔یہ ِبراہِ راست کسی کاروبار کو چلانے کے لئے ہوئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ حکومت کو کیش کی صورت ڈالر فراہم کرتی ہے۔اس کی بدولت ہماری ریاست محصولات کی مد میں مناسب رقم حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئے ’’خسارے‘‘ کے ازالے کا بندوبست کرتی ہے۔اپنے روزمرہّ اخراجات چلاتی رہتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملتی رہتی ہیں۔عمومی کاروبار اور بازار میں لیکن اس کی وجہ سے کوئی ’’رونق‘‘پیدا نہیں ہوتی۔مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کے امکانات فراہم نہیں ہوتے۔امریکہ اگر اپنی ترجیحات کی بناء پر بھارت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے پر مائل نہیں کرسکتا تب بھی پاکستانی معیشت کو درپیش مسائل کے حل میں ٹھوس مدد فراہم کرسکتا ہے۔منگل کے دن ٹرمپ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کا آغاز Tradeسے کیا۔ایک اعلیٰ سطحی امریکی سفارت کار -ایلس ویلز- بھی اپنے حالیہ دورئہ پاکستان کے دوران Aidکے بجائے Tradeکی گفتگو کرتی رہی۔میں اس ضمن میں ’’سو بسم اللہ‘‘ کہنے کو نہایت خلوص سے آمادہ ہوں۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ ہماری مصنوعات خصوصاََ ٹیکسٹائل کے شعبے کو امریکی منڈی تک پہنچانے کے لئے وہی رعایتیں مہیا ہوسکتی ہیں جو جنوبی ایشیاء ہی کے بنگلہ دیش جیسے ملک کو حاصل ہیں۔بنگلہ دیش کو کئی دہائیاں قبل یہ رعایتیں اس حقیقت کی بنیاد پر فراہم ہوئیں کہ وہ بطور ایک ملک ’’بھکاری‘‘ تصور ہورہا تھا۔ اس کی شرح نمو مگر اب جنوبی ایشیاء میں بھارت سے بھی زیادہ ہے۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی تحقیق اور اعدادوشمار معاشی حوالے سے اس وقت پاکستان کوزبوں حالی کا شکار ہوا دکھارہے ہیں۔ان کی روشنی میں پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈیوں تک پہچانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات لینا ضروری ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان صاحب کی ’’دوستی‘‘ بہت گہری اور پُرجوش ہوچکی ہے تو اس دوستی کے ثمرات ہم عامیوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔ ’’اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھربھی‘‘والی درخواست ہے۔پنجابی محاورے والے ’’سوکھے‘‘ پر ہوئی ملاقاتیں لیکن مجھے اور آپ کو ’’کچھ‘‘ دیتی نظر نہیں آرہیں۔ محض دل کو خوش رکھنے کو ادا ہوئے کلمات سنائی دیتے ہیں۔