Aqleyati Commission Ki Tashkeel …Magar Ehteyat Say By Sabir Shakir

20

زندگی کی طرف واپسی کا سفر، مگر احتیاط کی شرط کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک مہلک اور لاعلاج وبائی مرض کورونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ‘دنیابھر کے عوام اس وقت لاک ڈاؤن کے تکلیف دہ عمل سے گزر رہے ہیں‘ کروڑوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور سفید پوش لوگ‘ جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی اس لاک ڈاؤن میں اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں‘ موجودہ صورتحال میں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ہر دو صورتوں میں انہیں مصائب کا سامنا ہے۔پاکستان کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوام اور حکومت بیک وقت مجبور بھی ہیں اور مشکلات کا شکار بھی۔وبائی مرض سے بھی بچنا ہے اورمعیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے تاکہ ہم اس بیماری سے بچتے بچتے کسی اور بڑے سانحے کا شکار نہ ہوجائیں۔چونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری ریاستی معیشت میں اتنی سکت نہیں کہ وہ بائیس کروڑ عوام کو گھر بیٹھے ان کی روزمرہ ضروریات پوری کرسکے ‘ا س لئے اب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہفتہ نو مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے‘ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ‘ ریلوے اور پروازوں کی شروعات کے بارے میں اتفاق نہیں ہو سکا‘ تعلیمی ادارے بھی پندرہ جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ البتہ طلبا وطالبات کیلئے خوشی کی خبر ہے کہ نویں ‘دسویں ‘گیارہویں اور بارہویں جماعت کے اب سالانہ امتحانات نہیں ہوں گے اور انہیں اگلی جماعت میں سابقہ رزلٹ کی بنیاد پر ہی بغیر امتحان کے ترقی دے دی جائے گی۔یہ ایسے طلبا وطالبات کیلئے تو ایک بمپر خوشی سے کم نہیں جنہیں پڑھنے کا کوئی خاص شوق نہیں ہوتا اور شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں ۔
گو کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا فیصلہ انتہائی رِسکی ہے‘ عالمی ادارہ صحت سمیت مقامی ڈاکٹرز بھی پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید بڑھانے کے حق میں ہیں‘ لیکن وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے لاک ڈاؤن کے خلاف رہے ہیں ۔ وہ نجی محفلوں اور غیر رسمی گفتگو میں بھی اس بات کا برملا اظہار کرتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ عام آدمی کا روزگار بند نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم یہاں تک کہتے ہیں کہ ہمارے پاکستانی عوام جفا کش بھی ہیں اور ان کا رہن سہن اور کھانا پینا ایسا ہے کہ ان میں قوتِ مدافعت بھی بہت بہتر ہے۔ وزیراعظم ازراہِ تفنن یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا کا شکار عام آدمی نہیں ہوں گے‘ بلکہ زیادہ خطرہ زعما کو ہے جو بڑی پر تعیش زندگی گزارتے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ بات جزوی طور پر اب تک صحیح ثابت ہوئی ہے۔لاک ڈاؤن کے حامی حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کوابھی کورونا کی شدت کی لہر کے مرحلے سے گزرنا ہے ‘اس لیے فی الوقت انتظار اور احتیاط کی جائے۔بہرحال لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اس نرمی کے دوران ازخود حفاظتی انتظامات اوراقدامات کریں اور ثابت کریں کہ وہ اس وبا کے پھیلاؤ کو کیسے روکتے ہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عوام اگر محتاط رہیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں تو پاکستان سے کورونا کا خاتمہ ناممکن نہیں رہے گا‘ لیکن عوام اگر وہی کچھ کرتے رہے جو کچھ لاک ڈائون کے دنوں میں انہوں نے کیا تو اس کا نتیجہ مزید مسائل کے پیدا ہونے کی صورت میں سامنے آئے گا۔
کورونا جیسے بڑے سانحے سے پیدا ہونے والے چیلنجر سے وفاقی حکومت اب تک محفوظ رہی ہے اور اس میں حکومت کا کوئی خاص عمل دخل بھی نہیں ہے ‘بلکہ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر اور کرم ہے کہ پاکستان اس وبائی مرض کی تباہ کار یوں سے اب تک محفوظ ہے اور مزید دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ہمیں آئندہ بھی محفوظ رکھے‘ لیکن حکومت میں کْچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر ایسے حساس اور سیٹلڈ امور کو بلا وجہ اس انداز سے چھیڑتے ہیں کہ شکوک وشبہات کا جنم لینا اور وفاقی حکومت کے لیے مسائل پیدا ہونا فطری ہے۔چند روز پہلے ایک خبر منظر عام پر آئی تھی کہ وفاقی کابینہ نے قادیانیوں کو اقلیتوں کے قومی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس فیصلے پر پہلا سخت ردعمل چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے سامنے آیا اور پھر مسلم لیگ ق کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے انکشاف کیا کہ ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا بلکہ یہ آئٹم کابینہ اجلاس سے دو گھنٹے پہلے ایجنڈے پر آیا‘ اس پر بحث ہوئی اوران سمیت دیگر وزرا کے اصرار پر معاملے کو کابینہ کے آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا گیا ہے‘ کیونکہ وزرا کا خیال تھا کہ قادیانی آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنے آپ کو غیر مسلم بھی نہیں مانتے اس لیے اس مسئلے پراچھی طرح بحث کی جائے اور قادیانی پہلے آئین پاکستان کو تسلیم کریں اور اپنے آپ کو غیر مسلم ڈیکلیئر کرنے کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں‘ پھر دیگر ضروری ضوابط پورے کریں‘ اس کے بعد اس جانب کوئی قدم اٹھایا جائے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے یہ انکشاف کیا کہ ان کی وزارت کی طرف سے اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی جو سمری کابینہ ڈویژن کو ارسال کی گئی تھی اس میں قادیانی رکن کو شامل کرنے کی تجویز نہیں تھی اور یہ کہ قادیانی کو شامل کرنے کی تجویز کب اور کیسے شامل ہوئی‘ انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کابینہ میں محض بحث ہوئی تھی اور اس بارے میں حتمی فیصلہ بالکل بھی نہیں ہوا تھا اور معاملہ مزید بحث کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا‘ لیکن پھر کابینہ اجلاس کی اس بحث کو منٹس تیار کرتے وقت ایک یا ایک سے زائد بابوؤں نے حتمی فیصلے میں تبدیل کردیا‘ جو کہ صریحاً بد دیانتی اور جعل سازی کے زمرے میں آتا ہے۔ نورالحق قادری نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ اجلاس میں صرف چار ‘پانچ وزرا نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے پر اصرار کیا تھا جسے اکثریت نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ وفاقی وزیر علی محمد خان نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہئیں اور شاید ہو بھی رہی ہیں۔ہم نے بھی وزیرعظم آفس سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وزیراعظم عمران خان بھی ساری صورتحال سے نالاں ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے بار بار ایک ناکام کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی طرح قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کے فیصلے کو متنازعہ بنایا جائے اور اس فیصلے کو ریورس کیا جائے ۔ایسا سوچنے والوں کی خدمت میں بس اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ تحریک ختم نبوت کی ایک تاریخ ہے‘ جس میں بانی جماعت اسلامی سیدنا مودودی ‘مولانا عطااللہ شاہ بخاری اور مولا عبدالستار خان نیازی جیسے سچے اور جیّد علما نے سزائے موت کے فیصلوں کاسا منا کیا اور ملک گیر تحریکیں چلیں‘ جس کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں گیا اور پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے اُس وقت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کو قادیانیوں کے عزائم اور ان کے عقیدے سے مکمل آگاہی ہوئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمان خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیﷺ سے جڑے ہوئے ہیں اور ناموس رسالت پر اپنا تن من دھن نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں‘ لیکن مٹھی بھر قادیانی قرآن مجید میں ثابت شدہ عقیدۂ ختم نبوت کی تکذیب کرتے ہیں۔ اقلیتوں کا قومی کمیشن ضرور بننا چاہئے کہ یہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کا حق ہے‘ لیکن شرط وہی ہے کہ احتیاط کا دامن نہ چھوڑا جائے۔