Anokhi Jamhoriyet | Dr Safdar Mehmood

17
Dr Safdar Mehmood Columnist latest column in Jang leading newspaper of pakistan.

زندگی اور سیاست ہر لمحہ بدلتی، ہر لمحہ بل کھاتی اور ہر لمحہ نئی حقیقتیں بےنقاب کرتی ہیں۔ ہر دور میں اور ہر زمانے میں نئے نئے محاورے، نئے نئے بیانیے اور نئے نئے الفاظ رواج پاتے اور مقبول عام ہوتے ہیں اور پھر وقت بدلتے ہی خزاں رسیدہ پھولوں کی مانند مٹی میں مل جاتے ہیں۔ مثلاً میں آج کل سیاست کی گہما گہمی اور تیزی میں جن محاوروں اور بیانیوں کو تواتر سے سن رہا ہوں وہ پاکستان کی پچاس ساٹھ سالہ سیاسی تاریخ میں نہیں سنے۔ اسی طرح جو محاورے، نعرے اور بیانیے بھٹو، بینظیر اور میاں نواز شریف کے سابق ادوار میں سنے تھے آج وہ کسی کو یاد بھی نہیں۔ آج کل جن سیاسی بیانیوں کو اچھالا جارہا ہے وہ اگلے سال تک تاریخ کے قبرستان میں دفن ہوچکے ہوں گے۔ ہر سیاستدان کا اپنا انداز، اپنی اداکاری اور اپنا طریقہ یا ٹیکنیک ہوتی ہے جس کو استعمال کرکے وہ ووٹروں کے دلوں میں اپنا نقش بٹھانا چاہتا ہے۔انہیں گرمانا اور بھڑکانا چاہتا ہے۔ قائد اعظم کے اسٹائل پر خلوص، منطق اور دلیل حاوی تھی جبکہ بھٹو کے اسٹائل پر عوامی جذباتی رنگ غالب تھا۔قائد اعظم کا ثانی تو کوئی پیدا نہ ہوسکا نہ ہی کسی کو وہ ویژن، کردار، علمی دلائل اور تاریخی شعور ملا لیکن بھٹو کے عوامی اسٹائل کی نقل کرنے والے کئی اداکار سامنے آئے اور اپنے اپنے ’’جوہر‘‘ دکھا کر رخصت ہوگئے۔ شاید گزشتہ تین دہائیوں میں ہم بھٹو کے اسٹائل کو فراموش کر بیٹھتے لیکن اللہ بھلا کرے نوجوان سیاسی قائد اور شعلہ نوا مقرر میاں شہباز شریف کا انہوں نے بھٹو کی نقل کرتے ہوئے مرحوم کے اسٹائل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ وہ جس طرح عوامی جلسوں میں خطاب کے دوران ہوا کو مکے مارتے اور سامنے پڑے’’مائیکوں‘‘ کو گراتے ہیں اس سے بھٹو کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جب وہ نہایت جذباتی، غصیلے اور فاتحانہ انداز سے سامنے پڑے روسٹرم اور مائیکوں کو گراتے ہیں تو ان کے خوبرو چہرے پر ویسے فاتحانہ تاثرات ہوتے ہیں جیسے انہوں نے سومنات کا بت پاش پاش کردیا ہو۔
آج کل کے سیاسی محاوروں میں سب سے پاپولر محاورہ ہے کہ سبھی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں۔ جب سے اعلیٰ عدلیہ نے سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی گستاخی کی ہے، مسلم لیگ(ن) کی قیادت، کارکن، وزراء اور مشیران کے علاوہ حواری، خوشامدی، چمک کے اسیر قلم کار و تجزیہ نگار ایک ہی رٹ لگا رہے ہیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ اس بیانیے کا مقصد یہ واویلا کرنا ہے کہ سپریم کورٹ کے نیم خواندہ ججوں کو اپنی حدود و قیود، آئینی رول، دائرہ کار اور اختیار کا علم نہیں۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تھوڑا سا تجاوز کیاہے اس لئے انہیں سیاسی پارٹی، ایجنڈہ بردار، آمروں کے حامی اور ذاتی نفرت کے شکار کہہ کر مطعون کیا جاسکتا ہے۔ اداروں کی حدود کی بات کرنے والے سیاستدان سیانے لوگ ہیں اور جانتے ہیں کہ عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج وغیرہ سبھی کے دائرہ کار اور آئینی رول متعین ہیں جبکہ سیاستدانوں کا نہ کوئی دائرہ کار طے ہے، نہ ہمارے آئین میں یا کسی کتاب میں ان کی حدود قیود مقرر کی گئی ہیں۔ مطلب یہ کہ سیاستدان آزاد لوگ ہیں، ان کی موجیں ہی موجیں ہیں اور ان کا جو جی چاہے کریں، جو جی میں آئے کہیں جس کو جی چاہے پتھر ماریں اور جسے جی چاہے گلاب کا کھلا ہوا مسکراتا پھول پیش کریں۔ جمہوریت کا بھی ضابطہ اخلاق ہوتا ہے اور ہر ملک کے نظام میں شریک سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں اور کارکنوں کے لئے دائرہ کار متعین کرتی ہیں۔ اس پابندی کو مجروح کیا جائے تو جماعت احتساب بھی کرتی ہے۔ میں نے بحیثیت طالبعلم انگلستان میں پارٹی میٹنگوں کے دوران اس کے عملی مظاہرے دیکھے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک خوش قسمت اور منفرد ملک ہے جہاں کسی بھی سیاسی پارٹی نے اپنے کارکنوں، اراکین اور قائدین کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق یا رہنما اصول مرتب نہیں کئے، کیونکہ پاکستان پارلیمانی نظام کے حوالے سے ان دوتین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پارٹی اسی طرح قائد کی جاگیر ہوتی ہے جس طرح کسی وڈیرے یا جاگیردار کی جاگیر ہوتی ہے جس پر مزارعے، کسان اور مزدور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کام کرتے اور ہر لمحہ جاگیردار کی خوشنودی کے لئے خون پسینہ بہاتے ہیں۔ جاگیردار کی مرضی اور مزارعے کی قسمت ہے کہ وہ کس سے کسی ادا پر خوش ہو کر اسے ترقی دے دے، انعام سے سرفراز کردے، خوش ہو کر اپنے پاس بٹھالے، مسکرا کر دیکھ لے یا پھر وزارت، مشاورت، سفارت یا کوئی لکھ پتی یا کروڑ پتی عہدہ عطا کردے۔ میں سیاست کا طالبعلم ہوں، تاریخ میرے مطالعے کا حصہ ہے، دنیا کے سیاسی نظام اور تقابلی آئین میری دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ امریکی صدارتی نظام سے لے کر برطانیہ کے پارلیمانی نظام تک کی مجھے کچھ شدبد ہے۔ امریکہ کے صدارتی نظام کا حصہSpoilسسٹم ہے اس لئے امریکی صدر کی مہربانیاں، عنایات اور دوست نوازیاں اس کا آئینی اختیار ہیں۔یہ بات اداروں کی حدود و قیود کا واویلا کرنے والوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پارلیمانی نظام میں کوئی Spoilسسٹم نہیں ہوتا اور نہ ہی وزیر اعظم مغل اعظم ہوتا ہے کہ جسے چاہے جاگیر الاٹ کرے اور جسے چاہے ہاتھی عطا کردے۔ دوستو! اسی لئے تو عرض کرتا ہوں کہ جو موجیں پاکستان کے پارلیمانی نظام کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ہیں ان کی دنیا کے کسی ملک میں مثال نہیں ملتی۔ قائدین کا دائرہ کار ہر قسم کے اخلاقی اور قانونی اصولوں سے بالا تر ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نے اپنے بزنس پارٹنر کو امریکہ جیسے اہم ملک میں سفیر مقرر کرکے اپنے بھرم کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو امریکہ اور عالمی ڈپلومیسی کے حوالے سے نہایت منجھے ہوئے تجربہ کار ڈپلومیٹ کی ضرورت تھی۔ وزیر اعظم کا انتخاب اس حوالے سے کندہ ناتراش ہے اور مطلوبہ خوبیوں سے محروم ہے۔ سفارت ہی دینی تھی تو اسے ناروے، ڈنمارک یا اٹلی میں سفیر مقرر کردیتے لیکن میں نے عرض کیا ناکہ پاکستانی جمہوریت میں موجیں ہی موجیں ہیں۔ دوسروں کو ہر وقت دائرہ کار کا وعظ کرنے والے خود ہر قسم کے دائرہ کار سے آزاد ہیں، چنانچہ میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے ایسے ایسے نہایت غیر موزوں حضرات کو سفیر بنتے اور اعلیٰ عہدوں پر نازل ہوتے دیکھا ہے جن کی مثالیں امریکی Spoilسسٹم میں بھی نہیں ملتیں۔ ایسی تقرریوں کی واحد خوبی اور واحد معیار خوشامد، ضمیر فروشی اور ذاتی وفا کی یقین دہانی ہوتی ہے اور اگر کوئی اس پر انگلی اٹھائے، چاہے یہ اس کا آئینی اختیار ہی کیوں نہ ہو تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ اسے سبق سکھادیں اسے جاگیردارانہ ذہینت کہتے ہیں جو جمہوریت کی دشمن تصور ہوتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم جس جمہوری نظام کے تحت پروان چڑھ رہے ہیں وہ اپنی روح کے مطابق جمہوریت نہیں بلکہ انوکھی جمہوریت ہے اور اسے اس پستی تک پہنچانے میں ہمارے سیاستدانوں نے بڑے خلوص سے محنت کی ہے۔ اس طرح کے نظام میں اگر آپ جمہوریت کی روح کے مطابق احتساب کو شامل کرنا چاہیں تو وہ سیاستدانوں کو کیوں کر گوارہ ہوگا؟
انگلستان کا ایک ماڈریٹ وزیر اعظم جان میجر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار ہمارے وزیر اعظم صاحب انگلستان کے دورے پر تھے تو پاکستان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھا کر میچ جیت لیا۔ وزیر اعظم صاحب نے کھڑے کھڑے فی کھلاڑی بیس ہزار پونڈ کے انعام کا اعلان کردیا۔ جان میجر سرجھکا کر سوچ میں ڈوب گیا بالآخر اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے ہوئے بولا میں تو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر بیس پونڈ بھی نہیں دے سکتا، پاکستانی وزیر اعظم کتنا خوش قسمت ا ور طاقتور ہے جس نے کھڑے کھڑے ہر کھلاڑی پر بیس ہزار پونڈ کی بارش کردی۔ مارگریٹ تھیچر آئرن لیڈی مشہور تھی اور کئی بار انگلستان کی وزیر اعظم بنی۔ ایک بار زچ ہو کر کہنے لگی کہ 10۔ڈائوننگ سٹریٹ(رہائش وزیر اعظم) کا فرنیچر اتنا پرانا ہے کہ پلنگوں سے لے کر صوفوں تک کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں۔ کتنے برس محنت کی تو پارلیمنٹ نے نئے فرنیچر کے لئے چند ہزار پونڈ منظور کئے۔ چند برس قبل ایک یتیم سا برطانوی وزیر اعظم پریشان رہتا تھا کیونکہ اس پر الزام لگا کہ اس نے ہائوس آف لارڈز کی رکنیت اور خطابات پونڈوں کے عوض دئیے ہیں۔ ہر صبح ایک بدتمیز کانسٹیبل اس کی تلاشی لینے سرکاری رہائش گاہ پہ پہنچ جاتا تھا۔ یہ جرات، یہ مجال؟ محترم ارشاد بھٹی صاحب پریشان رہتے ہیں کہ پاکستان کے نہایت خوبصورت وزیر اعظم ہائوس میں سب کچھ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے ڈھائی کروڑ کا باتھ روم بنوا لیا۔ ایک اور کالم نگار دوست کو صدمہ ہے کہ زرداری صاحب نے بطور صدر اپنے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی اور سیکرٹری آصف حیات کو سرکاری خزانے سے ا یک ایک کروڑ روپے عیدی دے دی۔ مختصر یہ کہ پاکستانی جمہوریت دنیا کی منفرد اور انوکھی جمہوریت ہے۔ حکمرانوں، سیاستدانوں، سیاسی حواریوں اور درباریوں کی جو موجیں پاکستان میں ہیں ان کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اور نہ ہی آپ ڈھونڈھنے کی کوشش کریں۔