America Inkhala Kay Bad Naya Geo Political Muqabla – Imtiaz Gul

13

27 اگست کا دن ختم ہوتے ہوتے کچھ ناقابل یقین ہو گیا۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کابل ایئرپورٹ حملوں‘ جن میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے‘ کے منصوبہ ساز کا پتہ چلا لیا ہے۔ اس دعوے کی سچائی پر سوال اٹھانے والا واحد شخص طویل عرصے سے افغان معاملات پر گہری نظر رکھنے والا تھامس رٹیگ تھا۔
کیا کوئی اور ایسا فرد سامنے آیا‘ جس نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہوکہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایئرپورٹ حملے کے منصوبہ ساز کو ایک دن کے اندر اندر تلاش کر کے مار بھی دیا جائے‘ لیکن یہ قابلیت حاصل نہ کی جا سکے کہ خودکش حملہ آوروں کو روک ہی لیا جاتا؟ تھامس رٹنگ نے 28 اگست کو اپنے ٹویٹر کے ذریعے سوال اٹھایا: اگر امریکی انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی کی ٹیموں کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ چند گھنٹوں کے اندر حملہ آوروں یا ان کے ماسٹر مائنڈز تک پہنچ سکیں، تو پھر امریکی اور ایساف دستوں نے پوری دو دہائیوں کے دوران جو خون بہایا اسے کیا نام دیا جائے اور آخر کار طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط بھی کر لیے گئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسداد دہشت گردی کی آڑ میں شدید جیو پولیٹیکل جنگ کے نئے مرحلے کی طرف اشارہ ہے؟ نیو یارک ٹائمز نے غالباً یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکیوں اور غیر ملکیوں کی افغانستان سے آخری کھیپ بھی نکل جانے کے بعد کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ 27 اگست کو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام ان خطرات سے نمٹنے کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو افغانستان میں موجود داعش سے امریکہ کو لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سی آئی اے کو اپنا روایتی کردار ادا کرنے کا کہا جائے گا یعنی دستیاب اثاثوں کے ذریعے خطے کی نگرانی اور ”قومی مفادات‘‘ کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کی تجاویز پیش کرنا۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ افغانستان میں فوری خطرہ مقامی اسلامک سٹیٹ گروپ یعنی داعش ہے۔ القاعدہ کے رہنما بھی وہاں واپس آنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگرچہ طالبان افغانستان میں کوئی بھی گروہ نہیں چاہتے، لیکن وہ انہیں باہر رکھنے سے قاصر ہو سکتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے افغانستان میں فوج کی مداخلت کو ختم کرنے کے عزم کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رواں سے ملک میں کسی بھی امریکی کی موجودگی غالباً کسی خفیہ آپریشن کا حصہ ہوگی۔ اخبار نے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سی آئی اے کے نئے مشن کا ارتکاز دہشت گرد گروہوں کی تلاش پر ہوگا جو افغانستان کی سرحدوں سے باہر حملہ کر سکتے ہیں۔
حالات کے تناظر میں ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اور کیسے؟ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر یہ القاعدہ اور طالبان تھے جو دہشت گرد کہلائے۔ کم از کم جارج بش اور جو بائیڈن نے ہمیں یہی بتایا تھا۔ اب یہ داعش ہے جو افغانستان کے کچے اور ناہموار پہاڑوں سے امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات پہلے کبھی آپ نے سنی؟
دسمبر 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد کابل ایئرپورٹ پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسر کے طور پر زلمے خلیل زاد نے کہا تھا: میں یہاں افغانستان کے لوگوں کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرنے کے سلسلے میں آیا ہوں کیونکہ وہ ایک نیا نظم قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ طالبان اور القاعدہ کی باقیات سے آزاد ہوکر اپنے ملک کی تعمیر نو پر دوبارہ توجہ دے سکیں۔ یہ لمحہ ایک موقع ہے۔ جب سوویت یونین افغانستان سے واپس چلی گئی تھی تو اس وقت بھی ایک موقع تھا۔ بدقسمتی سے افغانوں اور عالمی برادری نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہ ہمارا عزم ہے کہ اس بار وقت مختلف ہوگا، وہ نہ صرف اس نسل کیلئے بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی بہتر‘ مختلف زندگی حاصل کر سکیں گے۔
آج20 سال بعد، صدر بائیڈن نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ افغانستان کیوں گیا: ہم دو وجوہات کی بنا پر گئے۔ ایک، اسامہ بن لادن کو انجام تک پہنچانے کیلئے، جیساکہ میں نے اس وقت کہا تھا‘ دوسری وجہ‘ اس علاقے سے امریکہ پر مزید حملوں کی القاعدہ کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔ ہم نے ان دونوں مقاصد کو پورا کیا، (8 جولائی 2021)
لیکن پھر اس زبردست بیان کا کیا کیا جائے جو علاقے میں سی آئی اے کے ایک سابق افسر ملٹن بیئرڈن نے سینٹر فار نیشنل انٹرسٹ واشنگٹن میں 25 اگست کو دیا تھا؟ بیئرڈن نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کے طالبان وزیر خارجہ وکیل متوکل نے انہیں فون کرکے بتایا تھا کہ اسامہ بن لادن اب ان کے تحفظ میں نہیں ہیں… یہ ایک بالواسطہ دعوت تھی کہ آئو اور اسے گرفتار کرلو۔ پیغام یہ تھا کہ ہم اس کی گرفتاری کی مخالفت نہیں کریں گے۔ میں نے یہ بات بش انتظامیہ کے اعلیٰ حکام تک پہنچائی لیکن واشنگٹن کا مزاج مختلف تھا۔ افغانستان پر جنگ پہلے ہی جاری تھی۔ بیئرڈن نے کہا: امریکہ نے افغانستان پر اسامہ بن لادن کی وجہ سے حملہ نہیں کیا بلکہ وجوہات کچھ اور تھیں‘ جن میں عراق پر اسی طرح کے حملے کی تیاری کرنا بھی شامل تھا۔
نئی سرد جنگ کی شکلیں کابل ایئرپورٹ پر حملوں اور اس کے ایک دن بعد ہوائی اڈے کے قریب کھڑی ایک گاڑی پر ڈرون حملے‘ جس کے بارے میں پنٹاگون نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھی‘ سے واضح ہو رہی ہیں۔
پانچ سفارتی مشن ایران، پاکستان، چین، روس اور ترکی اپنے موقف پر قائم ہیں اور معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بھارت، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور ان کے درجنوں یورپی اتحادیوں نے اپنے مشنوں کو بند کرنے کا انتخاب کیا۔
15 اگست، جب طالبان کابل میں داخل ہوئے‘ کے بعد رونما ہونے والے ڈرامائی واقعات کے پس منظر میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جے برنس امریکہ میں ممکنہ خطرات کے سدباب کیلئے (فضا سے) افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن کی بات کر رہے ہیں۔
اب، اس سارے معاملے کو درج ذیل کے ساتھ ملا کر جائزہ لیں:
(1) تمام طالبان نواز ممالک جن میں چین بھی شامل ہے، اور
(2) صدر جو بائیڈن کی 14 اپریل کی تقریر‘ جس میں انہوں نے چین کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا، اور
(3) فضائی حملوں سے متعلق 2011ء کا معاہدہ منسوخ کرنے میں ناکامی۔
سوال یہ ہے کیا پاکستان اس معاہدے کو منسوخ کر سکتا ہے؟ اور اگر وہ اسے منسوخ کر بھی دیتا تو کیا وہ امریکی بی52 بمبار طیاروں کو اپنی فضا استعمال کرنے سے روک سکتا تھا؟ اور اگر امریکہ نیشنل سکیورٹی کے نام پر فضائی حملے جاری رکھتا تو اس پر چین کا کیا رد عمل ظاہر ہونا تھا؟ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے متعدد جابرانہ ٹولز‘ جن کو واشنگٹن کسی وقت بھی بروئے کار لا سکتا ہے‘ کی وجہ سے 2011 کے معاہدے کے ساتھ خرابی کرکے امریکہ کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی۔
لیکن اس سے ایک اور مخمصے کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں امریکی اگر پاکستان کی فضا کا استعمال کرتے ہیں تو پاکستان اس پر چینی اور روسی تحفظات کو کیسے دور کرے گا؟ دونوں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کو امریکہ کے افغانستان پر بالواسطہ کنٹرول قائم رکھنے کے ایک اور ”بہانے‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں… چاہے وہ طالبان ہوں یا پراکسی دہشت گرد گروہ جیسے داعش‘ آئی ایم یو اور دوسری تنظیمیں۔
نئی سرد جنگ نے پاکستان کی سفارتکاری کو ایک بار پھرآزمائش میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور چین کے مابین سینڈوچ بننے کا مطلب ایک اور تنے ہوئے رسے پر چلنا ہے۔ آگے واقعی آزمائش کا دور ہے۔