Aik Aur Tarhan Ka Column – Hassan Nisar

25

آج اپنی سانپ صفت سیاسیات، قرضوں ماری اقتصادیات، بیوہ ہو چکی اخلاقیات، بین الاقوامی کورونیات، پرانی گرل فرینڈ ڈینگیات، سر پہ آئی برسات، ٹڈی دل بدذات اور اللہ نہ کرے منہ زور ساون کے ساتھ امکان سیلابیات میں سے کسی پر بات کرنے کی بجائے میں ایک عجیب سا ذاتی تجربہ اپنے قارئین کےساتھ صرف اس لئے شیئر کروں گا کہ اگر ایسا کرنے سے دو، چار، دس لوگ بھی اس کے نتیجہ میں شدید قسم کی کوفت، اذیت، زحمت سے بچ جائیں تو سمجھوں گا بڑا بھلا کام کیا۔

چند سال پہلے جب بچوں کی تعلیمی سہولت و سیکیوریٹی بحوالہ فاصلہ کے سبب بیلی پور والےگھر سے ’’شہری ‘‘ آبادی میں شفٹ ہوئے تو وقت کم مقابلہ سخت تھا اس لئے اس گیٹڈکمیونٹی میں شامل ہونے کیلئے گھر بنوانے کی بجائے بنا بنایا گھر خریدا جو بالکل نیا اور خاصا اچھا ہونے کے باوجود ہماری ضروریات سے ظاہر ہے سو فیصد میچ نہیں کرتا تھا سو وہاں سیٹل ہونے کے بعد سکون سے پلاٹ خریدا اورتعمیر کا کام شروع ہوگیا۔

مردان خانہ کیلئے میں نے بیسمنٹ بنوانے کا اہتمام کیا جس میں اینٹری ایگزٹ بالکل علیحدہ رکھا جس کا مین ہائوس سے کوئی تعلق نہیں ۔اہلخانہ کی آمدورفت کیلئے بالکل علیحدہ رستہ رکھا گیا۔

یہ بیسمنٹ دوبیڈ رومز، ڈرائنگ ڈائننگ اور ایک لائبریری پر مشتمل تھا۔اس بیسمنٹ کے تین طرف ’’اوپن ٹوسکائی‘‘ ایریاز رکھے تاکہ تازہ ہوا، روشنی اور بارش سے رابطہ رکھنے کےساتھ ساتھ کچھ پودے بھی لگائے جاسکیں، پرندے بھی پالے جا سکیں، فوارے بھی چلائے جا سکیں تاکہ بیسمنٹ کی مخصوص گھٹن سے بچا جا سکے کیونکہ میں ہفتہ میں ایک آدھ بار ہی گھر سے نکلتا ہوں۔ارائونڈ دی کلاک بیسمنٹ میں رہنے کیلئے یہ سب ضروری تھا ورنہ مت ماری جاتی۔

ایک چھوٹا سا کچن چائے، کافی، سینڈوچ وغیرہ کیلئے بھی رکھا تاکہ کھانے کے علاوہ کسی کو زحمت نہ دینی پڑے کہ کھانا بھی صرف دو وقت تک محدود ہے ۔گھر مکمل ہوا،شفٹ ہوگئے، تین سال سے کچھ اوپر وقت انتہائی سکون سے گزرا کہ چند روز پہلے وسط شب ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ چٹاخ، پٹاخ کی عجیب وغریب ناقابل فہم قسم کی آوازوں سے آنکھ کھل گئی۔ادھر ادھر دیکھا سب نارمل لگا، باہر نکل کر جائزہ لیا تو سب ٹھیک۔

سوچا میرے کان بج رہے ہیں۔ گرائونڈ فلور پر جاکر دیکھا تو وہاں بھی سب کچھ معمول کے مطابق، حیران پریشان خود کو کوستا ہوا پھر آکر لیٹ گیا کہ پھر کڑک کڑک چٹاخ پٹاخ کی آوازیں تو زندگی میں پہلی بار جن بھوت آسیب کی طرف دھیان گیا تو سر جھٹکا اور اس بار اٹھ کر ساری بتیاں جلا دیں، پھر وہی ایکسرسائیز اور خاموشی، واش روم کا رخ کیا تو گرتے گرتے بمشکل سنبھلا کیونکہ فرش ناہموار تھا۔

غور سے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا کیونکہ ایگ وائیٹ رنگ کی ٹائیلیں مختلف جگہ سے اکھڑی ہوئی تھیں کہیں کم کہیں زیادہ، ابھی سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ ڈائننگ ایریا کی طرف سے بھی ویسی ہی ’’موسیقی‘‘ سنائی دی اور چند ٹائلز کو خود اپنی آنکھوں سے چٹخنے کے ساتھ ابھرتے دیکھا تو آسیب کے امکان سےتو جان چھٹ گئی لیکن سچی بات ہے، بات میرے پلے نہیں پڑی اور اسی کنفیوژن میں رات ہاتھ سے نکل گئی۔صبح گھر والوں کو بتایا تو وہ بھی ہکے بکے اور تب تک یہ سلسلہ خاصا دراز ہو چکا تھا۔

لیکن عجیب بات دوسرا بیڈروم، سٹنگ روم، اس کے ساتھ اٹیچڈ پائوڈروم وغیرہ سب بالکل محفوظ، لائبریری کا ذکر اس لئے نہیں کہ اس کا فرش لکڑی کا ہے ۔مختصراً یہ کہ میرا بیڈ روم اور ڈائننگ روم مکمل طور پر ادھڑ چکےتھے۔

کمال یہ کہ ڈائننگ ٹیبل اور اس کے ارد گرد سب کچھ ٹھیک تھا یہ علیحدہ بات کہ بعدازاں جب ڈائننگ ٹیبل اٹھائی گئی تو لمحوں کے اندر اندر اس کے نیچے والے فرش کا بھی حشر نشر ہو گیا۔

ہمارا آرکیٹکٹ ارتضی بیٹوں کی طرح ہے اسے فون کرکے صورتحال بتائی تو وہ بھی حیران لیکن کچھ دیر بعد جب ارتضی اپنے سینئر اور سیانوں کے ساتھ پہنچا تو معلوم ہوا کہ ساری شرارت مختلف قسم کی گیسوں کی ہے جو ہوا کی آمدورفت میں کمی کی وجہ سے جمع ہوتی رہیںاور وہاں تک بھی ٹائیلیں اکھاڑگئیں جہاں وینٹی لیشن کا کوئی پرابلم نہ تھا ۔

مزید سیانوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی تصدیق کر دی کہ بیسمنٹس میں کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے اس لئے کمرے کھلے رکھنا بلکہ کھڑکیاں تک کھلی رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔

اگر یہ ’’راز ‘‘ پہلے افشا ںکر دیا جاتا تو اس فضول امتحان سے بچا جا سکتا تھا۔بات اس خرچ کی نہیں جو خوامخواہ آپڑا، اس ٹینشن کی ہے جس کا تصور بھی محال ہے پچھلی تمام ٹائلز اکھاڑنے کا پراسیس، نئی ٹائلز کی کٹائی کے دوران اڑنے والی ڈسٹ نہیں پائوڈر جو کتابوں کے اندر تک گھس گئی ،فرنیچر کی ری پلیسمنٹ علیحدہ عذاب کہ بیڈز وغیرہ پہلے کھولو پھر جوڑو۔

اصل کام تو تین دن میں ختم ہو گیا لیکن ’’صفائی‘‘ کا کام جاری ہے جو ہفتہ دس دن تک جاری رہے گا کیونکہ کچھ کتابوں کی صفائی مجھے خود کرنا ہو گی کہ وہ انتہائی قدیم ہیں جن کے ورق پلٹتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہے کہ خستگی کی وجہ سے ٹوٹ نہ جائیں ۔

یہ ’’نایاب‘‘ تجربہ یہ سوچ کر آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں کہ کبھی آپ کا یا آپ کے کسی عزیز، دوست وغیرہ کا بیسمنٹ سے واسطہ پڑے تو کم از کم آپ تو اس ٹارچر سے محفوظ رہیں