Aik Aur Fasal Pak Chuki? – Haroon Ur Rasheed

28

ابدیت سفر کو ہے، مسافر کو نہیں۔ طاقت قانون کی ہے، افراد کی نہیں۔ جو کوئی بھی فریبِ نفس کا شکار ہوا، تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالا گیا۔ کبھی کسی کے لیے اصول بدلا ہے، نہ بدلے گا۔ ایسا لگتاہے کہ سیاسی گردنوں کی ایک اور فصل پک چکی۔

یہ ملک کن عظیم ہستیوں نے بنایا تھا اور کن کے حوالے ہوگیا۔ دن رات گریہ کرنے یا خود کو حالات کے حوالے کر دینے کی بجائے، رک کر سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جس کسی کو بھی اختیارملتاہے، قوم کی سزا کیوں بن جاتاہے؟

رحمتہ اللعالمینﷺ کو اپنی امّت کی جتنی فکر تھی، اتنی کسی بھی اور چیز کی نہ تھی۔ دائم اس کے لیے دعائیں کرتے اور دائم اس کے لیے پروردگار سے رعایت مانگتے۔ با ایں ہمہ، واضح کر دیا کہ اقوام کے عروج و زوال کا پیمانہ کیا ہے۔ فرمایا: تمہارے اعمال ہی تمہارے عمّال ہیں۔ فرمایا: برائی سے جب روکا نہ جائے گا، بھلائی کی جب ترغیب نہ دی جائے گی تو بدترین حاکم تم پر مسلّط کر دیے جائیں گے اور وہ تمہیں سخت ترین ایذا دیں گے۔ تب تمہارے نیک لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔ نکتہ آشکار ہے کہ فروغ وفلاح فقط زندہ معاشرے کے لیے ہے، ظلم کی جو مزاحمت کر سکے۔ ایک نئے جہان کی بشارت دیتے ہوئے اقبالؔ نے یہ کہا تھا:

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

اسد اللہ خان غالبؔ ایک مرگ آشنا تہذیب کے نوحہ گر تھے؛چنانچہ تصویر یوں کھینچی:

پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

سرکارﷺ نے قانون کا پرچم سرفراز کیا۔ فرمایا: وہ اقوام برباد ہوئیں، جو اپنے کمزوروں کو سز ادیتیں اور طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتی تھیں۔ تین چار آدمی ہیں اور بائیس کروڑ انسانوں کو ریوڑ کی طرح ہانک رہے ہیں۔

ارشاد یہ تھا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ابن خطابؓ ہوتے۔ مسندِ اقتدار پر براجمان، مسجدِ نبوی کے منبر پر کھڑے فاروقِ اعظمؓ نے ایک فرمان جاری کیا توایک بڑھیا نے کہا: آپ کا فرمان قرآنِ کریم کے مطابق نہیں۔ امیرالمومنینؓ نے سر جھکا دیا، غلطی کا اعتراف کیا اور یہ کہا ” بڑھیا نے عمر کو ہلاک ہونے سے بچا لیا”۔

صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کے انتخابات ہونا تھے۔ قاعدہ یہ تھا کہ پڑوس کے صوبے کا صدر نگرانی کرے گا۔ نواب افتخار احمد ممدوٹ پنجاب مسلم لیگ کے سربراہ تھے۔ پیر صاحب مانکی شریف کی قیادت میں سرحد لیگ کا ایک وفد قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ کہا: ہمارے ہاں شورش بہت ہے۔ نواب ممدوٹ بہت ہی شریف آدمی ہیں، یہ ان کے بس کا نہیں۔ فرمایا: مسلم لیگ کے منشور میں کیا لکھا ہے؟ پھر ارشاد کیا: کوشش کیجیے گا کہ اگلی بار کوئی غنڈہ پنجاب لیگ کا صدر ہو جائے۔

“I was Quaid’s” A.D.C کے مصنف عطا ربّانی نے لکھا ہے: حکم یہ تھا کہ کھانے کی میز پر جتنے مہمان ہوں، اتنے ہی سیب رکھے جائیں۔ ایک بار چار کی بجائے پانچ تھے۔ جواب طلبی کا خوف عملے پر طاری رہا۔ عمر بھر بہترین لباس پہنا۔ سرکاری رقم سے شب خوابی کا لباس سلوانے کا مرحلہ آیاتوفرمایا: کھدّر۔

قائداعظم کا تو ذکر ہی کیا، صدر غلام اسحٰق خان کو یاد کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ اکلوتے بیٹے کو اجازت نہ تھی کہ سرکاری دفتر سے استفادہ کرے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ریگ زاروں میں، آئل رِ گ چلانے کی سخت ترین مشقت کرتا رہا۔ اتنی سخت کہ ہر پندرہ دن کے بعد دو ہفتے کی رخصت دی جاتی۔ سادگی ایسی کہ جب اس ایوان میں داخل ہوئے تو مہمان نوازی کے اخراجات ایک لاکھ روپے روزانہ تھے۔ فائل منگوائی اور اس پر لکھا “Not more then one thousand rupees a day”کتنے اعلیٰ مناصب پہ فائز رہے، اسلام آباد میں ایک پلاٹ تک نہ تھا۔ ناچیز نے پوچھا: پشاورکا گھر آپ نے کب بنایا تھا۔ 1946ء میں پلاٹ کی خریداری سے لے کر حاشیے پر بنی دکانوں تک، پوری تفصیل بیان کی۔ مخالفین کی کردارکشی پر تلے رہنے والے شریف خاندان کے بارے میں بارہا پوچھا۔ فقط یہ کہا: ان کی اہلیت بھی لوگوں نے دیکھ لی اور دیانت بھی۔

کوئی ایٹمی سائنس دان ایسا نہ تھا، جس سے ملاقات ہوئی اور اس نے معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ نہ کیاہو۔ کتنی ہی بار مرحوم سے سوال کیا مگر ایک مسلسل خاموشی۔ بہت اصرار کیاتولہجے میں گداز اترآیااور یہ کہا: کبھی ہم اس کے امین تھے، آج کچھ اور لوگ اس کے امین ہیں۔ ایٹمی پروگرام کے خدمت گزار کو داد وصول کرنے کی ذرا سی آرزو بھی نہ تھی۔ میاں محمد نواز شریف سمیت، ہر ایک تحسین کے لیے فریادی رہا مگر وہ خاموش۔ بندوں سے نہیں، وہ اللہ سے اجر کے امیدوار تھے۔ کل شام سے ناصر کاظمی یاد آرہے ہیں۔ کل شام سے دل دہائی دیتاہے:

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

اپنے انجام سے بے خبر، شریف خاندان من مانی پر تلا رہا۔ کاش بھٹو خاندان سے عبرت حاصل کرتا۔ منتقم مزاج مگر قوم پرست ذوالفقار علی بھٹو، غصیل مگر صداقت شعار بیگم نصرت بھٹو۔ ضابطہ شکن مگر فہیم بے نظیر۔ ان کے منہ زور لیکن دلاور بھائی۔ ان سب کا کیا ہوا؟ جو کچھ بچ گیا، وہ آصف علی زرداری کے ہاتھوں برباد ہوا۔ اللہ اسے زندگی دے، ایک بیٹی بچ رہی ہے، صنم بھٹو، اپنے حال پہ آپ ماتم کناں۔ کیا عہدِ رواں کے لیے، نئے حکمرانوں کے لیے کیا اللہ کے قوانین بدل گئے؟

کوئی تاریخ سے لڑ سکتا ہے، اپنی قوم اور نہ تقدیر سے۔ ہر نا لائق ملاح کی ناؤ کا ڈوب جانا مقدر ہوتاہے۔ فہم و فراست سے محروم پی ٹی آئی کی حکومت بھی اگر ڈوبنا چاہتی ہے تو اس کی مرضی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ افراد اور ادارے پھل پھول سکیں جو قوم کے اجتماعی مفاد اور مزاج سے متصادم ہوں۔ مہلت ملتی ہے مگر مختصر۔

ابدیت سفر کو ہے، مسافر کو نہیں۔ طاقت قانون کی ہے، افراد کی نہیں۔ جو کوئی بھی فریبِ نفس کا شکار ہوا، تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالا گیا۔ کبھی کسی کے لیے اصول بدلا ہے، نہ بدلے گا۔ ایسا لگتاہے کہ سیاسی گردنوں کی ایک اور فصل پک چکی۔