Ahmaq Ashrafiya – Hassan Nisar

22

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلات

بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا بلکہ سچ پوچھیں تو پلوں کے اوپر سے بھی گزر چکا اور بہت سے پلوں کو بھی بہا کے لے جا چکا لیکن عوام تو عوام ہمارے خام ترین خواص کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ سستی، سفلی، کھوکھلی، نمائشی باتوں، نوٹنکیوں اور ٹوپی ڈراموں کے زمانے لد چکے لیکن یہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ سوچ کر بھی گھن آتی ہے ۔

تازہ ترین ڈرامہ یہ ہے کہ قائداعظم کی تصویر کی توہین پر کڑی سزائیں ملیں گی۔ چلو مان لیا اچھی بات ہے لیکن اک سادہ سا سوال یہ ہے کہ ’’توہین‘‘کی تعریف یعنی DEFINITION کیا ہو گی؟ اور سزائیں شروع کہاں سے ہوں گی؟ کیا ان کا آغاز ان معزز اور مقدس ایوانوں سے ہو گا جن میں بابائے قوم کی تصویریں تو نمایاں ترین ہوتی ہیں لیکن عوام کے منتخب نمائندے عین اس کے سامنے مچھلی منڈی کے مناظر پیش کرکے قائد کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے جمہوریت کے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں، گھٹیا ترین سٹیج ڈراموں کے کرداروں کی طرح ذومعنی جملے بولتے ہیں، نازیبا زبان اور اشاروں سے ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہوئے عوام کی عمدہ تربیت فرماتے ہیں ، دھمالیں، لڈیاں، بھنگڑے ڈالتے ہیں، احتجاج کے نام پر لاج کی دھجیاں اڑاتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں اور کورم پورا کرنے کی بجائے اس کی دھجیاں اڑاتے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کا حصہ بنتے ہیں، کپڑوںکی طرح وفاداریاں تبدیل کرنے سے نہیں چوکتے اور اس عالیشان ایوان کی سب سے بڑی پہچان ’’الیکٹ ایبلز‘‘ ہیں یا ’’جناب سپیکر! یہ ہیں وہ ذرائع‘‘ جیسی لغو تقریریں ہیں اور جہاں ساتھی معزز خواتین کو ’’ٹریکٹر ٹرالیاں ‘‘ قرار دیا جاتا ہے ۔ طویل داستان ہے جس کی تان اس سوال پر توڑتا ہوں کہ کیا یہ سب کچھ قائد اعظم کی توہین براستہ ان کی تصویر کی تعریف میں فٹ بیٹھتا ہے یا نہیں ؟

برسوں پہلے کسی سیانے نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ گلیوں سڑکوں میں لونڈوں لپاٹوں کے کرکٹ کھیلنے کو بین کیا جائے ۔فاضل عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست نمٹا دی کہ ایسے قوانین سے احتراز کیا جانا چاہئے جن پر عملدرآمد ممکن ہی نہ ہو۔ اس ملک میں تو ’’پتنگ بازی‘‘ ہی قیمتی جانیں لینے سے باز نہیں آ رہی تو تصویر کی توہین والے اس ڈرامے کا کیا ہو گا جو ایوانوں سے لیکر دکانوں تک کرپشن کی دلدل میں غرق ہے ۔

اوپر میں نے ایوانوں کی چند جھلکیاں پیش کیں جنہیں بڑے سے بڑا جھوٹا اور ڈھیٹ بھی جھٹلا نہیں سکتا تو کیا نیچے کا حال کسی سے ڈھکا چھپا ہے ؟ یہ جو رشوت کا لین دین، کمیشن، کک بیک، شادیوں کی شکل میں اربوں کا ’’حلال‘‘ میں ملفوف حرام سر عام جاری و ساری ہے، برتھ سرٹیفکیٹ سے لیکر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے نذرانے سکہ رائج الوقت ہیں تو کیا یہ سب ریزگاری کے ذریعہ ہوتا ہے ؟ نہیں یہ ان کرنسی نوٹوں کے ذریعہ ہوتا ہے جن پر بانی پاکستان، بابائے قوم، قائد اعظم محمد عل جناح صاحب کی تصویر ہوتی ہے تو کیا یہ سب قائد اعظم کی تصویر کی توہین نہیں؟

اس سے بھی نیچے ریڑھی چھابڑی والے غیور و باشعور کی طرف چلو جو اچھا دکھا کر برا بیچتا اور کم تولتا ہے تو کیا اس ’’رزق حلال ‘‘ اور ’’ہذا من فضل ربی ‘‘ کا تعلق بھی تو اس تصویر کے ساتھ نہیں ؟ 5000روپے کے نوٹ سے لیکر 50روپے کے نوٹ تک تو قائد موجود ہیں اور اس سے بھی بھیانک واردات پر غور فرمائیے جس میں ہر وہ حکومت براہ ر است ملوث ہے جس کی موجودگی میں ’’پاک روپی ‘‘ دھڑا دھڑ ’’ڈی ویلیو‘‘ ہوتا ہے ۔

کسی بھی عام آدمی کے ساتھ اس سے بڑی ٹھگی، دھوکہ، فریب، فراڈ کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی جیب میں پڑا 5000روپے کا نوٹ مسلسل پونے پانچ ، ساڑھے چار اور پھر 4000روپے کا رہ جائے؟ یعنی اس کی قوت خرید مسلسل گھٹتی چلی جائے تو کیا یہ قائد کی تصویر کےساتھ نوسربازی اور اس کی ’’توہین‘‘ نہیں تو بھلے مانسو ! خوامخواہ پنگے لینے کی کیا ضرورت ہے؟کیوں خوامخواہ قائد کو بیچ میں لاکر ان کے ساتھ بدتمیزی کے مرتکب ہو رہے ہو؟ کرپشن یہاں ’’وے آف لائف‘‘ اور پیارے ’’ اسلامی …جمہوریہ …پاکستان ‘‘ کی اصل اور حقیقی معیشت ہے جسے تبدیل کرنے کیلئے کلرک نما قائدین کے پلے کچھ بھی نہیں تو کم از کم اس قسم کے ڈراموں سے ہی باز رہو ورنہ میں ’’توہین ‘‘ کی ایسی تعریف DEFINITION پر مجبور ہو جائوں گا کہ معززین تمام تر ڈھٹائی کے باوجود کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

SOURCERoznama. Jang