Agli Bari Kis Ki Hai | Hamid Mir

76

Hamid mir Senior Journalist Latest column in Jang Newspaper .

یہ2008کے انتخابات سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے باعث پورے ملک کی فضا سوگوار تھی۔ مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ا ور جماعت اسلامی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا تھا۔ مشرف حکومت نے مجھ پر پابندی لگا رکھی تھی۔ میں ٹی وی پر کیپٹل ٹاک نہیں کرسکتا تھا لیکن کبھی اسلام آباد کی میلوڈی مارکیٹ اور کبھی جناح ایونیو کے فٹ پاتھ پر کیپٹل ٹاک کی محفل سجالیتا تھا جس میں عمران خان اور جاوید ہاشمی کی جوشیلی گفتگو کے دوران مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکن بڑے زوردار انداز میں’’گومشرف گو‘‘ کا نعرہ لگایا کرتے۔ کیپٹل ٹاک ٹی وی شو سے اسٹریٹ شو میں بدل چکا تھا۔ ایک دن سی این این پر اس اسٹریٹ شو کی کچھ جھلکیاں دکھائی گئیں جس میں عمران خان کہہ رے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات کا کوئی امکان نہیں اس لئے اپوزیشن جماعتیں آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی۔ آصف زرداری ان دنوں لاڑکانہ میں تھے اور دنیا بھر سے تعزیت کے لئے آنے والوں میں گھرے ہوئے تھے۔ سی این این پر میرے اسٹریٹ شو کی جھلکی دیکھ کر انہوں نے ایک دن فون کیا اور مجھے کہا عمران خان کو سمجھائو کہ انتخابات کا بائیکاٹ ختم کردے اور انتخابات میں حصہ ضرور لے۔ میں نے عذر پیش کیا کہ جناب میں تو ایک صحافی ہوں میں کس حیثیت میں عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دوں؟ زرداری صاحب نے بڑے پیار سے کہا کہ تم ایک پاکستانی بھی تو ہو، جمہوریت پر یقین رکھتے ہو، یہ جو سڑکوں اور چوراہوں پر تھیٹر لگارہے ہو یہ بھی صحافیوں کا کام نہیں لیکن تم جمہوریت کی خاطر یہ سب کررہے ہو،اگر سڑک پر تھیٹر لگاسکتے ہو تو عمران خان کو یہ سمجھانے میں کیا حرج ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کا فائدہ جمہوریت کے دشمن اٹھائیں گے۔ میں نے پوچھا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ صرف عمران خان کا نہیں بلکہ نواز شریف کا بھی ہے تو نواز شریف کو کون سمجھائے گا؟ زرداری صاحب نے فوراً جواب میں کہا کہ عمران کو بتادینا کہ نواز شریف بائیکاٹ نہیں کرے گا، مسلم لیگ(ن) انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکی ہے، مناسب وقت پر فیصلے کا اعلان کردے گی لیکن اس وقت تک عمران خان کے لئے بہت دیر ہوجائے گی۔ یہ خبر میرے لئے کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ میں کچھ دیر کے لئے گم سم ہوگیا۔ زرداری صاحب نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ بات سمجھ نہ آئے تو وقت نکال کر لاڑکانہ آجائو میں سب سمجھا دوںگا۔
اگلے دن میں عمران خان کو ملا اور ان سے کرید کرید کر پوچھا کہ کیا مسلم لیگ(ن) بائیکاٹ کے فیصلے پر پوری طرح قائم ہے؟ عمران خان سینے پر ہاتھ مارتے اور کہتے کہ نواز شریف نے ہمیں زبان دی ہے وہ اپنا وعدہ نہیں توڑ سکتے۔ میں بار بار پوچھتا تھا کہ کیا آپ لوگوں نے اس فیصلے پر نظرثانی کے لئے کوئی صلاح مشورہ کیا ہے؟ عمران خان اپنے مخصوص انداز میں کہتے کہ ہم لڑیں گے، ہم مشرف کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ اسی دن نواز شریف لاہور سے اسلام آباد پہنچے تو پنجاب ہائوس میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ انتخابات کے بائیکاٹ پر نظر ثانی کررہے ہیں؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ یہ جواب سن کر میں خاموش ہوگیا۔ ٹی وی سے فراغت کے باعث وقت کی فراوانی تھی۔ اگلے دن میں لاڑکانہ جاپہنچا۔ آصف زرداری صاحب کو بتایا کہ آپ کی خبر غلط ہے۔ انہوں نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ میں نے نواز شریف کو قائل کرلیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے ہم سب جمہوری عمل میں حصہ لیں گے اور جمہوریت کے ذریعہ مشرف سے انتقام لیں گے، میں چاہتا ہوں عمران خان بھی ہمارے ساتھ نظر آئے کیونکہ وہ بھی ایک سیاسی حقیقت ہے۔ اب مجھے ساری بات سمجھ آچکی تھی۔
میں واپس اسلام آباد آیا اور ایک سرد شام کو عمران خان سے ملاقات کی۔ میں نے عمران خان کو بتایا کہ مسلم لیگ(ن) انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکی ہے تو اس نے بڑی بے اعتنائی سے میری بریکنگ نیوز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ اور سنائو کیا حال ہے۔ جب میں نے بار بار اصرار کیا تو خان صاحب نے کہا کہ نواز شریف میرے ساتھ وعدہ خلافی کرسکتا ہے قاضی حسین احمد کے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کرسکتا۔عمران خان کو مجھ سے زیادہ نواز شریف پر اعتماد تھا۔ میں عمران خان کو خدا حافظ کہہ کر واپس لوٹا تو دعا کر رہا تھا کہ عمران خان سچا ثابت ہو۔ میں نے زرداری صاحب کو فون پر بتادیا کہ عمران خان اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرے گا۔ انہوں نے بھنائے ہوئے لہجے میں کہا اللہ نے شہرت تو دی ہے لیکن اسے عقل نہیں دی یہ بے وقوفی کی حد تک سادہ آدمی ہے۔ اس ساری کہانی کا دی اینڈ یہ ہوا کہ اگلے ہی دن مسلم لیگ(ن) نے انتخابات کا بائیکاٹ ختم کردیا۔ میری دعا قبول نہ ہوئی۔ عمران خان غلط ثابت ہو گیا اور یہیں سے عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) پر ملی بھگت کا الزام لگانا شروع کیا۔ تحریک انصاف 2008 کی قومی اسمبلی میں موجود ہوتی تو شاید پاکستان کی سیاست میں وہ تلخی پیدا نہ ہوتی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زہر بنتی جارہی ہے۔ 2009میں معزول ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کی کامیابی کا کریڈٹ بھی نواز شریف لے اڑے۔ عمران خان کے ہاتھ کچھ نہ آیا، پھر پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دلوانے کے لئے عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تو مسلم لیگ(ن) کے خواجہ آصف بھی درخواست لے کر پہنچ گئے۔ گیلانی نااہل قرار دئیے گئے تو یہ کریڈٹ بھی مسلم لیگ(ن) نے چھین لیا۔ 2013کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا گیا تو ایک دفعہ پھر مسلم لیگ(ن) سرخرو ہوئی۔2014میں عمران خان کا دھرنا بھی کامیاب نہ ہوسکا لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاناما کیس نے پاکستان کی سیاست بدل دی ہے۔ پہلے پیپلز پارٹی کی کوشش تھی کہ تحریک انصاف کو ساتھ لے کر چلے، آج تحریک انصاف دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ پہلے تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر سپریم کورٹ سے پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم نااہل کرایا تھا آج تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مل کر سپریم کورٹ سے نواز شریف کو نااہل کرانا چاہتے ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی جارہی ہے۔ مستقبل کی سیاست کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں، اگر نواز شریف نااہل قرار دیدئیے گئے تو اس کے بعد مسلم لیگ(ن) اور اس کے ہم نوا مل کر تحریک انصاف کی قیادت کو بھی نااہل قرار دلوائیں گے۔