Aala Tareekhi Kitab – Dr A Q Khan

18

پنجاب میں IGکی تبدیلی پر چند تاثرات بعد میں پیش کروں گا۔ سب سے پہلے ایک نہایت اعلیٰ کتاب، ایک جواہر پارے پر تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ یہ کتاب ہمارے نہایت معزز اور قابل دوست جناب ڈاکٹر صفدر محمود کی ہے۔ اِس کا نام کتاب کے مواد کی سچائی ظاہر کرتا ہے۔ کتاب کا نام ہے ’’سچ تو یہ ہے!‘‘۔ اس کو نہایت خوبصورت پیرایہ میں لاہور سے شائع کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود دنیائے ادب میں مشہور شخصیت کے مالک ہیں، آپ کی تمام تحریریں پاکستان و قائداعظم کی عزّت و احترام پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان اسٹڈیز پڑھتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب خزینہ معلومات ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے 18کتب تحریر فرمائی ہیں جو پاکستان، قائداعظم کے کسی نا کسی پہلو سے متعلق ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ان لاتعداد جعلی نقادوں کا منہ بند کردیا ہے جو پاکستان اور قائداعظم پر تنقید کرکے اپنا قد بڑھانا چاہتے ہیں۔ آپ نے ایک ایک اعتراض، ایک ایک تنقید کا نہایت مُدلّل انداز میں اُن جعلی نقادوں کو بھرپور جواب دیا ہے۔

ایک محقق اور کالم نگار کی حیثیت سے ڈاکٹر صفدر محمود پاکستانیت، قائداعظم اور روحانیت کے حوالے سے نہایت نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ آپ نے پاکستانیت، قائداعظم اور تحریک پاکستان کو تمام عمر اپنے مرکزی مطالعہ و تحریر کی حیثیت دی ہے۔ ایک سینئر سول سرونٹ کے حیثیت سے آپ کو پاکستان، قائداعظم کے بارے میں مطالعہ کرنے کا بہت اچھا موقع ملا۔ آپ نے امریکہ اور برطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں پاکستان کے تمام پہلوئوں پر لیکچرز دیے ہیں اور علمی حلقوں میں وہ اُمورِ پاکستان کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان اسٹڈیز اب ایک اہم مضمون بن گیا ہے، اس کے ماہرین میں برادرم ڈاکٹر صفدر محمود پہلے نمبر پر ہیں۔ آپ نے کئی تعلیمی اداروں میں پڑھایا ہے، یونیسکو کے عالمی ایجوکیشن کمیشن کے نائب صدر رہے ہیں، اسلامی ممالک کی تنظیم آئی سیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر بھی رہے ہیں۔ حکومت پاکستان (صدر مملکت) نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا حالانکہ ان کو کم از کم ہلالِ امتیاز دیا جانا چاہئے تھا۔ آپ کی کتابوں کا کئی غیرملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس اعلیٰ کتاب کی فہرست مضامین آپ کو اس کی اہمیت کا اِحساس دلائے گا۔

٭پس منظر

1۔ تحریکِ پاکستان سے قائداعظمؒ کے پاکستان تک2۔ خطبہ الٰہ آباد1930، قراردادِ پاکستان اور مخالفین کے بےبنیاد الزامات3۔ قائداعظمؒ اور سیکولرازم4۔ ستائیسویں رمضان، قیامِ پاکستان اور غلط بیانیاں5۔ قائداعظمؒ، لسانی مسئلہ، قومی زبان اور معترضین6۔ اقبالؒ، جناح ؒاور مذہبی کارڈ7۔ ریڈکلف ایوارڈ اور ایک مورخ کی موشگافیاں8۔ قائداعظم جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ، سب سے بڑا جھوٹ9۔ قائداعظمؒ، چند فکر انگیز یادیں10۔ قائداعظمؒ، روحانی شخصیات کی نظر میں11۔ تاریخی افسانے12۔ روشن خیالی کے شاخسانے13۔ قائداعظم ؒ اور عید14۔ واہ اقبالؒ، آہ اقبال15۔ ڈاکٹر مبارک علی کا قراردادِ پاکستان پر بہتان16۔ چوہدری رحمت علی کی برسی اور لفظ پاکستان17۔ قائداعظم، ختم نبوتﷺ اور عید میلاد النبیؐ18۔ دینا جناح ملاقات، خواہش سے خواب تک19۔ قائداعظمؒ کے آخری ایام اور سازشی افسانے20۔ سایۂ خدائے ذوالجلال21۔ مظلوم قائداعظمؒ22۔ قائداعظمؒ ثانی؟23۔ شیخ مجیب الرحمن، ایک عینی شاہد کے انکشافات24۔ علامہ اقبالؒ سے تصوراتی ملاقات25۔ اقبالؒ اور جناح26۔ قائداعظم ؒ کے آخری ایام اور نفسِ مطمئنہ!!27۔ پاکستانی تاریخ کے حیرت کدے28۔ علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد، نشانِ منزل29۔ قائداعظمؒ، پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی30۔ قائداعظمؒ کایومِ وفات11 ستمبر اور حیرت انگیز حقیقت31۔ اقبالؒ جناح ؒ اور پاکستان32۔ پاکستان کیسے ٹوٹا؟33۔ بصیرت کی آنکھ34۔ تاریخی شعور، پاکستان میں مارشل لاء کیوں لگے؟35۔ ناقابلِ فراموش36۔ دو دلچسپ اقتباسات؟37۔ پارس اور پتھر؟38۔ عروج سے زوال تک39۔ قائداعظمؒ اور سوشلزم40۔ جذبے سلامت، ضمیمہ، حیاتِ قائد، ایک نظر میں۔اس کتاب کی اہمیت لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس میں ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی روح، اپنا دل رکھ دیا ہے جو ان کی پاکستان و قائداعظم سے محبت کی عکاسی ہے۔ پاکستان اسٹڈیز کے طلباء کو یہ کتاب ضرور اپنے پاس رکھنا چاہئے کہ اس میں قائداعظم سے منسوب غلط بیانات کی نہایت اعلیٰ طریقے سے، صحیح ریفرنسز سے ان کی تردید کی ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود خوش قسمت ہیں کہ انہیں بین الاقوامی اداروں اور غیرملکی یونیورسٹیوں میں پڑھانے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنے خزینۂ معلومات سے پاکستان کی بہت اچھی مثبت تصویر پیش کی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین

(نوٹ) میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ پنجاب میں پولیس کے سربراہوں کو بار بار تبدیلی کے بارے میں کچھ لکھوں گا۔ پہلے ہی یہ خبریں گشت کرنے لگیں کہ سابق آئی جی جناب شعیب دستگیر کو تبدیل کیا جارہا ہے یعنی پورے طریقہ سے پُرانی روایت چل رہی ہے کہ ہر چند ماہ بعد پولیس چیف کو لال جھنڈا دکھا کر فارغ کردو۔ دوپہر کو حکومت نے اس کی تصدیق کردی اور دستگیر صاحب کو لال جھنڈا دکھا کر انعام غنی صاحب کو ہرا جھنڈا دکھا دیا۔