25 Years Ago – Hassan Nisar

19

9؍ جنوری 2021ء ’’سلطان راہی کی 25ویں برسی آج منائی جائے گی‘‘

یہ چھوٹی سی خبر پڑھتے ہی میں چشم زدن میں پچیس سال پیچھے چلا گیا۔ یہ روزنامہ ’’صداقت‘‘ کا آفس تھا جسے میں نے صرف اس لئے جوائن کیا کہ اردو صحافت کے دو لیجنڈز اس اخبار سے وابستہ تھے۔ عباس اطہر ایڈیٹر انچیف اور منو بھائی ایڈیٹر جبکہ ادارتی صفحہ، سنڈے میگزین اور میرا کالم تو ظاہر ہے میری ذمہ داری تھا ہی۔ میں نے ان دونوں کو ’’مٹھے بابے‘‘ کا نام دیا جو مخصوص حلقہ میں زبان زد عام ہو گیا۔ دونوں مٹھے بابوں نے جب مجھے ’’صداقت‘‘ جوائن کرنے کی دعوت دی، میں نے فوراً قبول کر لی۔ یہ خوش خوش رخصت ہوئے تو میں نے دوستوں سے کہا ’’یہ اخبار ڈیڑھ دو سال بھی نکال گیا تو معجزہ ہی ہو گا‘‘۔ دوستوں نے حیران ہو کر وجہ پوچھی تو میں نے کہا ’’دونوں بابے فنکار ہیں، اخبار تو کاروبار بھی ہے‘‘ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر میں جانتا ہوں کہ اخبار بیٹھ جائے گا تو فوراً جوائن کیوں کر لیا؟ ’’صرف اس لئے کہ جتنا عرصہ ممکن ہو میں منو بھائی اور عباس اطہر کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل کر سکوں‘‘ میرا جواب میرے غیر صحافی دوستوں کو مطمئن نہ کر سکا۔ منو بھائی سے تو میرا بہت گہرا پیارا تعلق تھا۔ 81میں میری پہلی کتاب ’’آدھی ملاقات‘‘ کا دیباچہ بھی منو بھائی نے لکھا تھا لیکن عباس اطہر سے یہ میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور مجھے شاہ جی (عباس اطہر) کو قریب سے جاننے کا شوق تھا جسے پورا کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ میں ان کا اخبار جوائن کر لوں کیونکہ کام میں نے منو بھائی کے ساتھ بھی کبھی نہ کیا تھا۔ مختصراً یہ کہ میں ایک تیر سے دو خوبصورت ترین شکار کرنے میں کامیاب رہا کیونکہ جتنا بھی وقت میں نے ان دونوں کے ساتھ گزارا، یادگار اور حسین ترین وقت تھا کہ جب تک رہے ’’یک جان تین قالب‘‘ کی مانند رہے۔ مٹھے بابے ہی مجھے دغا دے گئے، ساتھ چھوڑ گئے جبکہ میں تو آج بھی ان کے ساتھ ہوں۔ یہاں ایک ’’تاریخی واقعہ‘‘ بھی ہوا۔ منو بھائی دو دن کے لئے شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، میں نے کہا اگر ایک دو دن سے زیادہ کالم کا ناغہ ہوا تو ’’گریبان‘‘ میں لکھوں گا۔ منو بھائی نے کہا ’’ناں بھئی ناں میں قلم سے تم کلہاڑے سے لکھتے ہو‘‘۔ بات ہنسی میں اڑ گئی۔ منو بھائی زیادہ دنوں کے لئے غائب ہوئے تو میں نے اپنے ’’چوراہا‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’گریبان‘‘ بھی لکھنا شروع کر دیا۔ پھر جو ہوا وہ بھی تاریخ ہے جس کی تفصیل اپنی آپ بیتی ’’لائل پور سے بیلی پور تک‘‘ میں لکھوں گا، اگر اللہ نے توفیق اور مہلت دی۔ منو بھائی کے ساتھ اک اور واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ہم دونوں ’’جنگ‘‘ میں پڑوسی تھے۔ دائیں ہاتھ میرا بائیں ہاتھ منو بھائی کا کالم ہوتا۔ میں منو بھائی کو پہلے پڑھتا تھا۔ اس روز پڑھا تو شدید قسم کا جھٹکا لگا۔ ہوا یوں کہ غلطی سے ’’لوگو‘‘ اپنے اپنے کالم ایک دوسرے کی جگہ چھپ گئے۔ میں نے منو بھائی کو فون کر کے اس دن کے ’’گریبان‘‘ کی تعریفوں کے انبار لگا دیئے اور شرارتاً کہا …..’’منو بھائی! تمہارے جیسا دوسرا ہو ہی نہیں سکتا‘‘۔ اصل میں تو وہ ’’چوراہا‘‘ تھا۔ کچھ دیر بعد منو بھائی کا فون آیا، ہنستے ہوئے بولے ’’او خبیثا ، بد معاشا! یہ تیری سازش تو نہیں؟‘‘

کہاں گئے وہ لوگ اور وہ دن….شہر ویران ہو گیا جیسے۔ ایک بار رات ذرا لیٹ عباس اطہر نے کہا ’’ڈرائیور کا فون آیا تھا گاڑی میں کوئی گڑبڑ ہے مجھے تاج پورہ ڈراپ کر دیں گے‘‘؟ میرے پاس ان دنوں بڑی خوبصورت مرسڈیز ہوتی تھی۔ میں شاہ جی کو ڈراپ کر کے نہر کی طرف آیا اور اپنی ترنگ میں میوزک سنتا ہوا بے دھیانی میں بائیں طرف مڑنے کی بجائے دائیں مڑ گیا۔ سردیوں کے دن، ہیٹر اور میوزک اون لیکن مال روڈ کی دور دور تک خبر نہیں۔ نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ کنفیوژ سا ہو گیا تو بائیں ہاتھ ٹرک کھڑا دکھائی دیا، لائیٹس جل رہی تھیں اور دو بندے بونٹ اٹھائے کچھ کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا ’’بھائی صاحب! مال روڈ کتنی دور ہو گی‘‘؟ تو انہوں نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ’’بائو جی! آپ تو واہگہ کی طرف جا رہے ہو، مال روڈ تو دسری طرف رہ گئی‘‘۔ گاڑی گھمائی اور خود کو کوستا ہوا گھر پہنچا۔ آخری بار شاہ جی کو ملنے ہسپتال گیا تو بے سدھ سے پڑے تھے۔ میرے ساتھ حفیظ اللہ نیازی اور صلو درانی تھے۔ بس دیکھ دیکھ آ گئے، ملاقات نہ ہو سکی۔ بات چلی تھی سلطان راہی کی برسی سے جس کے قاتل نہ مل سکے کہ یہاں قاتل نہیں ملتے مقتولوں کو قبریں مل جاتی ہیں اور یہ بھی غنیمت ہے۔

جس شام راہی قتل ہوا۔ شاہ جی میرے کمرے میں آئے اور کلپ بورڈ میرے سامنے رکھتے ہوئے بولے…..

’’کیسی ہے؟‘‘

جلی حروف میں شہہ سرخی تھی ’’راہی رستوں میں مارا گیا‘‘

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں