2 Sar Buland siyasat daan – Mujeeb Ur Rehman Shami

24

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی سیاست دو ایسے افراد سے محروم ہو گئی، جنہوں نے اس کے وقار اور اعتبار میں اضافہ کیا تھا۔ دونوں کے خیالات اور نظریات میں بعدالمشرقین تھا، لیکن کردار کی پختگی نے دونوں کا قد اونچا رکھا۔ دونوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا، ان سے اختلاف کرنے والے بھی اُن کا احترام کرتے رہے، دونوں مرحومین نے نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ ایم حمزہ اپنے شہر گوجرہ میں ابدی نیند سو گئے، تو سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنے آبائی علاقے وڈھ میں مٹی کی چادر اوڑھ لی۔ ایم حمزہ لدھیانہ کے ممتاز علما گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، مجلسِ احرار اسلام کے شہرہ آفاق صدر مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے بھتیجے تھے، قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے گوجرہ کو اپنا مسکن بنایا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، لیکن لاہور میں رہائش اختیار نہیں کی۔ گوجرہ ہی سے جڑے رہے، اور وہیں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ پاکستان کے انتہائی سینئر ایڈیٹر برادرم جمیل اطہر کہ ان کے والدِ محترم قاضی سراج الدین سرہندی سے ان کا برادرانہ تعلق استوار تھا، اور دونوں نے پچاس کی دہائی میں پنجاب اسمبلی کیلئے مفتی عبدالحمید لدھیانوی کی انتخابی مہم مل کر چلائی تھی، بتاتے ہیں کہ ایم حمزہ پولیس میں بھرتی ہونا چاہتے تھے، انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس بھی کر لیا تھا، لیکن پھر خفیہ اداروں کی اس رپورٹ پرکہ ان کے خاندان کا تعلق مجلسِ احرار اسلام سے ہے، ان کو پروانۂ تقرری نہ مل سکا۔ لدھیانہ کے مذکورہ علما خاندان کے منفرد رکن مفتی عبدالحمید لدھیانوی تھے، جو تحریک پاکستان میں پیش پیش رہے، اور ہجرت کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم ہوگئے۔ مفتی صاحب کو مسلم لیگی جاگیرداروں نے ٹکٹ نہ دیا تو اہلیانِ شہر نے انہیں آزاد امیدوار کے طور پرمیدان میں اُتار دیا۔ ایم حمزہ اور قاضی سراج الدین اس معرکے میں ایک دوسرے کی طاقت تھے، مفتی صاحب اسمبلی میں تونہ پہنچ سکے، لیکن حمزہ صاحب نے کوچۂ سیاست میں اس طرح قدم رکھاکہ پھر مڑکر نہیں دیکھا۔ وہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سربکف رہتے، ان سے رشوت کی رقوم متاثرین کو واپس دلاتے، ان کی یہ انوکھی ادا انہیں مرجع خلائق بناتی چلی گئی۔ ایوب خان کے دور میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے، اور ان کے دم سے اپوزیشن بنچوں کے وقار میں اضافہ ہوا۔ نپے تلے الفاظ میں دِل کوزبان دیتے اور دِلوں میں گھرکر لیتے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، چودھری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا، اور بعدازاں وہ نورالامین اور نواب زادہ نصراللہ خان کی پاکستان جمہوری پارٹی کا حصہ بن گئے۔ پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو پنجاب میں اس کی سربراہی ان کو سونپی گئی۔ گوجرہ میں آٹے کی چکی ان کا ذریعہ معاش تھی، لاہور آتے تو سائیکل پرشہر بھرمیں پھرتے۔ گھر سے پراٹھے پکوا کر لے آتے، اور انہی سے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ اکثر پارٹی دفتر میں بسیرا کرتے۔ رانا نذرالرحمن سے دوستی ہوئی تو ان کے گھر بھی ٹھہرنے لگے۔ انہیں ہوٹل میں کھانے کی دعوت دی جاتی تو مسکرا کرٹال جاتے۔ اصرار کرتے کہ اس ”عیاشی‘‘ سے بہتر ہے کہ یہ رقم کسی ضرورت مند کودے دی جائے۔ 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد جس دورِ سیاست کا آغاز ہوا، حمزہ صاحب اس میں مسلم لیگ(ن) کا حصہ بن گئے۔ قومی اسمبلی کے رکن رہے، پھر سینیٹ میں رونق افروز ہوئے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ ان کے بیٹے اسامہ نے کاروبار کو کچھ وسعت دی، لیکن حمزہ صاحب کا اسلوب نہ بدلا، کفایت اور قناعت کے ساتھ زندگی گزارتے، دیانت کی تصویر بنے رہے۔ ان کے بیٹے کو مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ نہ ملا، تو وہ تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ یوں حمزہ صاحب اور مسلم لیگ(ن) میں بھی فاصلہ پیدا ہوا، لیکن اب ان میں توانائی نہیں رہی تھی۔ وہ گھر تک محدود ہوکر رہ گئے، ذوالفقار علی بھٹو دور میں انہیں گرفتارکیا گیا توجیل میں آٹھ دوسرے رہنمائوں کے ساتھ ایک الگ بیرک میں مسلسل 13 دن جگائے رکھا گیا۔ رانا نذرالرحمن کے بقول اس تیرہ روزہ بیداری نے صحت کو اس بری طرح متاثر کیاکہ ہم نو افراد سات چپاتیاں بھی ہضم نہیں کرسکتے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خواجہ صمدانی کے حکم پر ان کی یہ خصوصی قید ختم ہوئی، اور انہیں قومی اتحاد کے دوسرے اسیروں کے پاس جانا نصیب ہوا۔

حمزہ صاحب کی وفات کے تین دن بعد سردار عطاء اللہ مینگل نے بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ وہ بلوچستان کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ تھے۔ اس علاقے کو باقاعدہ صوبائی حیثیت جنرل یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ملی تھی۔ ون یونٹ ٹوٹا تو مغربی پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا، قلات، اس کے قرب و جوار کی ریاستوں برطانوی بلوچستان اور گوادر کو ملا کر ایک نیا صوبہ تشکیل دیا گیا، جس کا نام بلوچستان رکھا گیا تھا۔ 1970ء کے انتخابات میں یہاں سے نیشنل عوامی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تو اسے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا موقع ملا۔ عطاء اللہ مینگل ایوب خان کے دور میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، غوث بخش بزنجو کے ساتھ ان کی دوستی انہیں نیشنل عوامی پارٹی میں لے آئی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک بھر کے دورے کرکے پاکستان زندہ باد کا نعرہ پوری سج دھج سے لگاتے رہے۔ وہ لاہور آئے تو بے ساختہ کہہ گزرے کہ اگر باقی ماندہ پاکستان کو کچھ ہوا تو وہ بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیںگے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی منہ زوری ان کے درپے ہوگئی۔ مینگل حکومت کو برطرف کرکے شورش اور ہنگامے کے دروازے کھول دیئے گئے۔ عطاء اللہ مینگل اپنی برطرفی کا زخم دِل میں لئے 1973ء کے متفقہ آئین کی منظوری کیلئے کوشاں رہے اور جب محترم الطاف حسن قریشی اور مصطفی صادق مرحوم یہ درخواست لے کر ان کے پاس کوئٹہ پہنچے کہ بلوچستان کے ارکان قومی اسمبلی کو آئین کے مسودے پر دستخط کرنے کیلئے آمادہ کریں تو انہوں نے اس سے فی الفور اتفاق کیا، بلوچستان کے سات ارکان قومی اسمبلی میں سے چھ کے دستخط 1973ء کے آئینی بل پر ثبت ہو گئے۔ یہی ایک بات وفاق پاکستان سے ان کے تعلق کا ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔ بھٹو صاحب یہاں تک گئے کہ سردار صاحب پر نیپ کے دوسرے رہنمائوں کے ساتھ غداری کا مقدمہ قائم کرکے انہیں حیدر آباد جیل میں بند کر دیا، مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی ٹریبونل تشکیل دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے ختم کیا۔ عطاء اللہ مینگل کا جواں سال بیٹا اسداللہ مینگل بھی بھٹو دور میں نامعلوم افراد نے غائب کر دیا تھا۔ اس کی یاد ان کے دِل کا زخم بنی رہی، لیکن ان کے بیٹے اختر مینگل نے جمہوری جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کیا۔ اپنے والد سے رہنمائی حاصل کرتے اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے، لیکن گروہی سیاست نے انہیں بھی ٹرم پوری کرنے نہیں دی۔ وہ آج بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اور اپنے والد کی طرح سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے ساتھ بے رحم سیاست نے انصاف نہیں کیا۔ انہیں دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن انہوں نے شائستگی اور وقار سے رشتہ برقرار رکھا۔ ان کا لہجہ پختہ تو تھا مگر دھیما رہا۔ وہ دلیل سے بات کرتے، اور دلیل کی بات سننے پر آمادہ رہتے۔ وہ پاکستانی سیاست میں خود داری اور وضع داری کا حسین امتزاج تھے۔

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے