یوم شہدائے کشمیر: تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل – Mohd Abdullah Hameed Gul

34

جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ13 جولائی 1931ء کو سینٹرل جیل سرینگر کے سامنے 22 کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جس تحریکِ آزادیٔ کشمیرکی بنیادرکھی تھی اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جموں وکشمیرکے عوام کسی قسم کی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ماضی کے ان عظیم مجاہدوں کو اس بے مثال قربانی پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے ہوتے ہیں اور مختلف ریلیوں‘ جلسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ آج سے ٹھیک90 سال قبل‘ 13 جولائی 1931ء وہ دن تھا جب بائیس کشمیریوں کو ڈوگرہ سامراج کے سپاہیوں نے شہید کر دیا تھا جو لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ہمت اور قربانی کی ایک عظیم داستان کے طور پر آج بھی زندہ ہیں۔ ان بائیس افراد کو نمازِ ظہر کے وقت اذان دینے کی پاداش میں شہید کیا گیا تھا۔ اذان دینے کے دوران جذبۂ ایمانی سے لبریز کشمیری ایک ایک کرکے شہید ہوتے گئے مگر اذان مکمل کرنے کے فریضے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 13 جولائی 1931ء تاریخ کا یقینا ایک سیاہ ترین دن تھا۔ آج ہٹلر کے جانشین، تحریک آزادی کے دشمن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ٹولے نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر رکھی ہے۔ مودی سن لے کہ آزادکشمیر کے عوام اور حکومت افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔مرد و زن، بچے، بوڑھے اور جوان پاک فوج کے ساتھ ہیں اور بھارتی فوج کو ہر جگہ شکست فاش سے دوچار کریں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت بزورِ طاقت ریاست جموں وکشمیر کو اپنا غلام نہیں رکھ سکتی۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے گی اور ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہے گا۔
یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا کے دیگر ممالک میں کشمیریوں کی جانب سے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اس موقع پر مکمل ہڑتال ہوتی ہے۔ بلا شبہ پاکستان کشمیریوں کے استصوابِ رائے کے حق کے لیے ثابت قدمی سے کھڑا ہے اور مقبوضہ کشمیرکی بھارت سے آزادی تک کشمیریوں کی جائز جدوجہدکی حمایت جاری رکھے گا۔ ان شاء اللہ مقبوضہ کشمیرکی آزادی کا دن دور نہیں، کشمیریوں کے آبائو اجداد نسل درنسل آزادی کے لیے جانیں قربان کرتے آئے ہیں، آج کشمیری جرأتمندی سے ہندوتوا کی بالادستی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ مودی کے ہندوتوا فلسفے کا مطلب مقبوضہ کشمیر میں آبادی میں تناسب تبدیل کرکے کشمیریوں کا صفایا کرنا ہے، کشمیریوں کی شناخت مٹانا ہے اور اس مقصد کے لیے بھارت بھر سے ہندوئوں کو لا کر کشمیر میں بسایا جا رہا ہے اور کشمیری مسلمانوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دینے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔
یوم شہدائے کشمیر درحقیقت بھارتی قبضے کے خلاف بہادری سے لڑنے والے کشمیریوں کی جدوجہد کوسلام پیش کرنے کا دن ہے۔ موجودہ کشمیری مزاحمت 13 جولائی 1931ء کے شہدا کی جدوجہدکا تسلسل ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد، ایثار اور قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔بھارت کی جانب سے ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے‘ نت نئے پیکیجز اور قوانین لائے گئے، ڈر، خوف، جبر اور مختلف ترغیبات کے ذریعے بھی کشمیریوں کو پھانسنے کی کوششیں کی گئیں مگر کشمیری ڈٹے رہے۔1931ء سے 2021 ء تک‘ نو دہائیوں میں اس بے مثال جدوجہد میں اتار چڑھائو بھی آئے لیکن کشمیریوں کے جذبے ماند نہیں پڑے، بھارت کی مکار لیڈرشپ کی جانب سے کشمیری قیادت کو خریدنے کی کوششیں بھی کی گئیں مگر کشمیری قیادت غیر متزلزل رہی اور بھارت کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں آج کشمیریوں کو‘ بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کو اس دن کے حوالے سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ آپ مسلسل تکالیف اٹھا رہے ہیں لیکن آپ تنہا نہیں ہیں۔ آج پاکستان کا بچہ بچہ، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سمیت پوری قوم آپ کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہے اور ان شاء اللہ آزادی کی صبح تک ہم آپ کا ساتھ نبھائیں گے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر، کھل کر کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی اور کشمیریوں کا مقدمہ بطورِ سفیرِ کشمیر احسن انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ سربیا میں ہزاروں بے گناہ لوگ مارے گئے لیکن دنیا خاموش رہی‘ کیا دنیا پھر یہ غلطی دہرائے گی؟ کیا مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اقوامِ عالم اپنی نظریں بند رکھیں گی؟ دنیا کو ماضی کے واقعات سے سبق سیکھنا ہو گا۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں صرف جغرافیائی تبدیلیاں ہی نہیں لا رہا ہے بلکہ وہ کشمیریوں کو اُن کے ماضی اور اُن کی تاریخ سے بھی دور کرنا چاہتا ہے۔ 1931ء میں 22 مسلمانوں کی شہادت سے شروع ہونے والی تحریک کے نتیجے میں 1947 ء میں ڈوگرہ راجا کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب کشمیر آزادی کی منزل کے قریب تھا تو بھارت نے حملہ کر کے اسے جبراً اپنی کالونی بنا لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور وہاں پر ہونے والے مظالم کے واقعات پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت جان بوجھ کر دہشت گردی اور شر انگیز کارروائیاں کرواتا رہتا ہے ۔
گزشتہ دنوں دہلی میںہند نواز جماعتوں کی بیٹھک، گفتند، نشستند، برخاستند کی ایک عمدہ مثال تھی کیونکہ نریندر مودی نے اپنی خفت مٹانے کے لئے جو ڈرامہ کیا‘وہ مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے۔جموں و کشمیرکے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم نے یہ بیان دے کر کہ ”کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال نہیں کی جائے گی، ریاست میں پہلے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور نئی حد بندی کے بعد اسمبلی انتخابات منقعد کرائے جائیں گے جبکہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کے بارے میں غور انتخابات کے بعد کیا جائے گا‘‘،ایک مرتبہ پھر جارحانہ عزائم آشکار کر دیے ہیں۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے تقریباً2برس بعد مودی سے کشمیری رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی جس میں سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔ اس میٹنگ کا سب سے متنازع پہلو یہ تھا کہ حریت پسند قیادت کو اس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا جبکہ ان میں سے بیشتر رہنما یا تو جیلوں میں ہیں یا نظربند‘ لہٰذا ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ ہند نواز جماعتیں ریاست کے اختیارات اور خودمختاری کی نہیں بلکہ اپنی کھوئی ہوئی مراعات کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے” کٹھ پتلی لیڈران‘‘ کی آل پارٹیز کاتھیٹر لگاکر اپنی جارحیت و درندگی پر پردہ ڈالنے کی جو ناکام کوشش کی اس سے آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے کیونکہ کشمیری عوام کو گھروں میں یرغمال بنا کر اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کے اصل وارثوں کو تشدد کا نشانہ بناکراس تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ وادیٔ جموں وکشمیر 2 برس سے مکمل محاصرے میں ہے، ماورائے عدالت قتل عام جاری ہے، انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ نریندر مودی کی جارحیت اور درندگی سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحت برباد ہو گئی، عوام کا بے پناہ مالی نقصان ہوا، 50 فیصد سے زائد کشمیر کی صنعتیں بند ہو گئیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ بیشتر ممالک کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم بند کرانے کے بجائے مودی سے معاشی پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ثالثی کے بارے میں بات تو کی تھی لیکن عملاً اس سلسلے میں مودی پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالاگیا۔ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی باعث ناکام کیا اور ہمیشہ راہِ فرار اختیارکرتے ہوئے ناجائز قبضے کو طوالت بخشی۔ بھارتی قیادت کی تنگ نظری اور کوتاہ اندیشی کے باعث بھارت آج تک کشمیریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ نہتے شہریوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کی وجہ سے اس کا تشخص دنیا بھر میں بری طرح مجروح ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہئے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی ظلم و ستم کوفوری روکنے کیلئے ہنگامی بنیادی پر اقدامات کرے تاکہ خطے میں قیا م امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔