یومِ اعلانِ آزادی مبارک – Dr Ramesh Kumar

23

آج تین جون ہے، ہر سال کی طرح آج یہ دن بھی پاکستان میں خاموشی سے گزر جائے گا اور ہماری نئی نسل کوتو بالکل ہی علم نہیں کہ تین جون کی ہماری قومی تاریخ میں کتنی زیادہ اہمیت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر چودہ اگست کو ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے تو تین جون بلاشبہ ہمارا یومِ اعلان آزادی ہے، آج سے 74برس پہلے تین جون 1947کو قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں تحریکِ پاکستان کی کامیابی میں فیصلہ کُن مرحلہ آیا جب انگریز سامراج نے برصغیر کی آزادی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے قیام پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔ اس حوالے سے آخری انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تین جون کوبرصغیر کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے ملاقات کے بعد آل انڈیا ریڈیو پر اپنے نشرکردہ خطاب میں تقسیمِ ہند کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے واپسی کا اعلان کیا،تاریخ میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے مذکورہ منصوبے کو تین جون پلان کانام دیاجاتا ہے، ریڈیو پروائسرائے کے خطاب کے بعد قائداعظم کی تقریر بھی نشر کی گئی جس کے اختتام پر انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کیا، قائداعظم کا نعرہ اس امر کی نشاندہی تھا کہ اب آزادی کی منزل زیادہ دور نہیں، انگریز سامراج نے آخرکار قبول کرلیا ہے کہ اب اقتداردو آزاد خودمختار ممالک کے عوامی نمائندوں کے حوالے کرکے برصغیر سے ہمیشہ کیلئے جانے کا وقت آگیا ہے۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انگریزایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں برصغیر میں تجارت کی غرض سے آیا لیکن مغل سلطنت کی کمزوری اور مقامی راجوں، نوابوں کی چپقلش کے باعث پورے ہندوستان پر قابض ہو گیا، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حمایت میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف 1857کی جنگ آزادی میں ہندوستان کے تمام مقامی حریت پسندوں بشمول ہندو اور مسلمان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،اس حوالے سے میں اپنے گزشتہ مختلف کالموں میں بھی تذکرہ کرچکا ہوں کہ برصغیر کے مقامی باشندے ہندو اور مسلمان برطانوی سامراج کے خلاف عظیم جدوجہد کی مشترکہ تاریخ کے حامل ہیں، دونوں نے باہمی طور پر انگریز کو برصغیر سے جانےپر مجبور کیا، ایک طرف ترکی میں قائم مسلمانوں کی خلافت عثمانیہ کی مہاتما گاندھی جی نے بھرپور حمایت کی تو دوسری طرف قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہاجاتا تھا، دونوں عظیم رہنماؤں کے مابین ہمیشہ دوستی اور احترام کا رشتہ قائم رہا۔برصغیر کے باشندوں کی انتھک جدوجہد آزادی کے اعتراف میں آخرکار فروری 1947ء میں برطانوی وزیراعظم لارڈ ایٹلی کی طرف سے برصغیر سے واپسی کا اعلان کیا گیا اور اقتدار برصغیر کے عوامی نمائندوں کو منتقل کرنے کیلئے جون 1948ء تک کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی، برطانیہ نے وائسرائے لارڈ ویول کو واپس طلب کر لیا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بطورنیا وائسرائے بنا کرہندوستان بھیجا گیاجنہوں نے مارچ 1947ء کو برطانوی ہندوستان کے انتیسویں اور آخری گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد مقامی بااثر اور اہم سیاسی شخصیات سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا، ایک طرف انڈین کانگریس کا مطالبہ تھا کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر اقتدار اکثریت کے حوالے کرد ے تو قائداعظم کی زیرقیادت آل انڈیا مسلم لیگ الگ وطن پاکستان قائم کرنے پر ڈٹی ہوئی تھی، خود وائسرائے کی اپنی دلچسپی ہندوستان کو متحد رکھنے میں تھی جس کا اظہار اس نے بھارت اور پاکستان کے مشترکہ گورنر جنرل کی خواہش کی صورت میں بھی کیا، تاہم قائداعظم نے وائسرائے کو باور کرادیاکہ ہندوستان کو مزید انتشار سے بچانے کیلئے واحد حل تقسیم ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا موقف جاننے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیمِ ہند کے منصوبے پر کام شروع کردیا جس کے تحت دو آزاد ریاستوں کا قیام عمل میں لانا تھا،وائسرائے اپنے منصوبے کی حتمی منظوری کیلئے مئی 1947میں لندن روانہ ہوگیا جہاں برطانوی کابینہ نے دس دن تک مذکورہ منصوبے کے ہر پہلو کا اچھی طرح جائزہ لیا، مئی کے اختتام تک برطانوی حکومت نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کو منظور کرلیا، لارڈ بیٹن فوری طور پر ہندوستان پہنچا اور پھر تین جون1947کو تقسیمِ ہند کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کردیا کہ برصغیر کو دو الگ مملکتوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کو مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کی طرف سے سند قبولیت مل گئی۔ برطانوی حکومت نےتقسیمِ ہند کیلئے تیس جون 1948کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی لیکن وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک سال قبل ہی اپنی ذمہ د ا ر یو ں سے پیچھا چھڑا لیا۔بالآخرچودہ اگست1947کو ہمارا پیارا وطن پاکستان معرض وجود میں آگیا، بانی پاکستان قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر میں پاک سرزمین میں بسنے والی غیرمسلم ہندو اقلیتی کمیونٹی سے پاکستان سے ہجرت نہ کرنے کی اپیل کی گئی جس کے جواب میں بے شمار ہندو گھرانوں نے پاکستان کو اپنی دھرتی ماتا بنالیا۔ تاہم افسوس کا مقام ہے کہ تین جون کےمنصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیاجس کا بھیانک نتیجہ لاکھوں معصوم انسانوں کی قربانی کی صورت میں سامنے آیا، ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب میں بیس لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ دو کروڑ پنجاب کے باشندوں نے اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کی جو آج بھی عالمی تاریخ کی مختصر ترین وقت میں سب سے بڑی نقل مکانی قرار دی جاتی ہے،اسی طرح ریڈکلف ایوارڈ کو بھی دونوں ممالک کی حدبندی کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قائداعظم کی جانب سے تین جون منصوبے کو قبول کرنا بہت دانشمندانہ فیصلہ تھابصورت دیگربرطانیہ اگر برصغیر کو تقسیمکئے بغیر واپس چلا جاتا تو ہمارا حال بھی فلسطین جیسا ہونا تھا جہاں عالمی طاقتوں کے ایماء پر اسرائیل تو قائم ہوگیا لیکن فلسطینی عوام آج بھی اپنی آزاد ریاست کے خواب آنکھوں میں سجائے ہولناک مظالم کا شکار ہیں۔ ہموطنوں کو یومِ اعلان آزادی مبارک!