’’ہمارے نمائندوں‘‘ کی اصل ترجیح؟ ’By Nusrat Javed

14

الآخر منگل 6اپریل 2021کے روز میں نے کرونا سے تحفظ فراہم کرنے والا ٹیکہ لگوالیا ہے۔معاملہ ذاتی تھا تاہم 31مارچ سے اس کی بابت تسلسل سے لکھا۔ مقصد توجہ کا حصول نہیں تھا۔ سرکارکی خصوصی شفقت بھی درکار نہیں تھی۔ صحافیانہ تجسس کو بروئے کارلاتے ہوئے درحقیقت اس نظام کی خامیوں کی نشان دہی مقصود تھی جو حکومت نے کرونا سے تحفظ والی ویکسین کی فراہمی کے لئے اختیار کررکھا ہے۔ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ نظام لاہور جیسے شہروں میں بہت مؤثر نظر آیا۔ عمران حکومت کے شدید ناقد صحافیوں اور تبصرہ نگاروں نے بھی اس سے استفادہ کے بعد سوشل میڈیا پر تصویروں سمیت لگائے پیغامات کے ذریعے اسے سراہا۔ مجھے گماں تھا کہ پاکستان کے دیگر شہروں کے لئے ’’ماڈل‘‘ تصور ہوتے اسلام آباد میں یہ نظام مزید مؤثر انداز میں کارفرما ہوگا۔ ذاتی تجربے نے مایوس کیا تو ہر حوالے سے مفت ویکسین کے مستحق لاکھوں شہریوں کی بابت سوچنے کو مجبور ہوا۔
صحت عامہ سے جڑے مسائل پر توجہ دینا ’’صحافت‘‘ کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔1980کی دہائی میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ’’دی مسلم‘‘‘ کا جونیئر رپورٹر ہوتے ہوئے جرائم کے علاوہ اس شعبہ پر توجہ دینا بھی میری ذمہ داری تھی۔اس ضمن میں ہوئی مشقت کی بدولت میں نے سنسنی پھیلائے بغیر ا سلام آباد میں جاپان کی مدد سے تعمیر ہوئے جدید ترین ہسپتال میں میسر کئی ’’سہولتوں‘‘ کو بے نقاب کیا۔یہ ہسپتال بنیادی طور پر بچوں کے لئے تعمیر ہوا تھا۔بعدازاں اسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(PIMS) پکارتے ہوئے ’’جنرل ‘‘ ہسپتال بنادیا گیا۔1990کے وسط تک یہ ہر حوالے سے ایک ’’ماڈل‘‘ ہسپتال تھا۔ اس کے بعدمگر ’’چراغوں کی روشنی‘‘ مدھم ہونا شروع ہوگئی۔میں بھی بطور رپورٹر’’جونیئر‘‘ سے ’’سینئر‘‘ ہوگیا۔ پارلیمان اور خارجہ امور پر لکھتے ہوئے ’’صاحب بن گیا‘‘ ۔کاش میں ’’جونیئر‘‘ ہی رہتا اور صحت کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھتا۔

فقط ’’صحافت‘‘ کے تقاضوں کو نگاہ میں رکھیں تو اعتراف کرنا ہوگا کہ ’’ہر پل کی خبر‘‘ دینے کے دعوے دار ہمارے میڈیا نے بہت ہی ’’آزاد اور بے باک‘‘ ہونے کے باوجود آج سے کئی ماہ قبل نمودار ہوئی کرونا کی وباء کو وہ توجہ نہیں دی جس کی وہ مستحق تھی۔ ربّ کا لاکھ بار شکر کہ پاکستان میں اس وباء کی وجہ سے ویسی قیامت برپا نہیں ہوئی جس نے امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کو بھی بوکھلا دیا تھا۔ بھارت کی طرح ہمارے ہاں دیہاڑی دار افراد جنگ زدہ خطوں کے ممالک کی طرح مودی سرکار کی جانب سے ہوئے لاک ڈائون کے اعلان کے بعد قافلو ں کی صورت اپنے دیہات اور قصبوں کی جانب سفرکرتے بھی نظر نہیں آئے۔

کرونا کی اولین لہر سے ہماری بچت نے ہمیں اس گماں میں مبتلا کردیا کہ شا ید ہم پاکستانی اپنی ترکیب میں واقعتا کچھ ’’خاص‘‘ ہیں۔ربّ کریم کی مہربانی ہمیں وباء سے محفوظ رکھتی ہے۔عمران حکومت کے اسد عمر اور مراد سعید جیسے وزراء نے نہایت رعونت سے اپنے کپتان کی ’’فراست‘‘ کے ڈھول بھی بجانا شروع کردئیے۔اصرار کیا کہ عالمی سطح کے کئی رہ نما ہمارے وزیر اعظم کی کرونا کی بابت اپنائی حکمت عملی سے رجوع کررہے ہیں۔

اندھی نفرت وعقید ت کے جنون سے مغلوب ہوئے بغیر میں نے کئی مرتبہ اس کالم کے ذریعے خبردار کرنا چاہا کہ کرونا سے کامل تحفظ اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک ہمارے شہریوں کی اکثریت کو اس وباء کے مقابلے کی ویکسین میسر نہیں ہوجاتی۔دُنیا کے کئی ممالک میں اس ویکسین کی دریافت اور تیاری کے لئے جو تجربات ہورہے تھے ان کی بابت بھی اپنے قارئین کو آگاہ رکھنے کی کوشش کی۔آبادی کے اعتبار سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ان کوششوں میں لیکن حصہ لیتا نظر نہیں آیا۔عمومی طورپر یہ فرض کرلیا گیا کہ ہمارا قریب ترین دوست ہوئے عوامی جمہوریہ چین اپنی تیار کردہ ویکسین عالمی ادارہ صحت کی منظوری کے بعد ہمیں وافر مقدار میںفراہم کردے گا۔ اس کے علاوہ ایک عالمی نظام امریکہ جیسے ممالک کی نگہبانی میں تیار ہوا ہے۔ویکسین کی دوسری کھیپ وہاں سے میسر ہوجائے گی اور ہمارے ہاں ’’ستے خیراں‘‘ والی رونق برقرار رہے گی۔ کرونا کی تیسری لہر نے تاہم ہمارے امید بھرے اندازوں کو غلط ثابت کرنا شروع کردیا ہے۔

ہماری آزاد اور بے باک ’’صحافت‘‘ نے صحت عامہ سے جڑے سوالات کی اہمیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرونا کو مطلوبہ توجہ اس لئے بھی نہیں دی کیونکہ ہمارے جی کو بہلانے کے لئے ’’ذرائع‘‘ہیں۔یہ سیاست دانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے جعلی اکائونٹس کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔سکرینوں پر مزید رونق لگانے کے لئے PDMکے نام سے اپوزیشن جماعتوں کا ایک اتحاد بھی قائم ہوگیا۔ دریں اثناء سینٹ کی خالی ہوئی 48نشستوں پر انتخاب ہوا۔یوسف رضا گیلانی طویل گوشہ نشینی کے بعد انگڑائی لے کر بیدار ہوئے اور عمران حکومت کے نامزد کردہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو شکست سے دو چار کیا۔وزیر اعظم صاحب کو اس کی وجہ سے قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنا پڑی۔تہیہ کرلیا کہ صادق سنجرانی کو ’’’ہر حربہ‘‘‘ استعمال کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ منتخب کروایا جائے گا۔وہ اس ضمن میں کامیاب رہے تو گیلانی صاحب ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف تسلیم کئے جانے کی وجہ سے مطمئن ہوگئے۔ان کے اطمینان نے اگرچہ پی ڈی ایم کے انتقال پرملال کو یقینی بنادیا۔آئندہ چند دن ہم اس انتقال کی ’’وجوہات‘‘ تلاش کرنے میں گزاردیں گے۔صحت عامہ جیسے ’’بور‘‘موضوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔

کرونا کے حوالے سے ہمیں یہ حقیقت ہر صورت نگاہ میں رکھنا ہوگی کہ ہم پاکستانیوں کی اکثریت اس وباء سے فقط اس وقت ’’محفوظ تصور کی جاسکتی ہے جب ہماری آبادی کے کم از کم 75فی صد افراد کو ویکسین لگانے کا عمل اپنی تکمیل کو پہنچے۔ ہم 22کروڑ آبادی والا ملک ہیں۔ کرونا کی تیسری لہر نمودار ہونے سے قبل یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ محض ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد ہی اس کی زد میں آکر مایوس کن حالات سے دو چار ہوتے ہیں۔تیسری لہر نے مگر نوجوانوں ہی کو نہیں کم سن بچوں کو بھی بدحال بنانا شروع کردیا ہے۔

ہماری پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن بھاری بھر کم تعداد میں موجود ہے۔حال ہی میں قومی اسمبلی کا جو چند روزہ اجلاس ہوا اس کے دوران سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایک سے زیادہ مرتبہ انتہائی دردمندی سے حکومت سے دریافت کرنا چاہا کہ اس نے پاکستانی شہریوں کو ویکسین فراہم کرنے کا کیا منصوبہ بنارکھا ہے۔حکومت نے انہیں جواب فراہم کرنے کا تردد ہی نہیں کیا۔اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ان کے دیگر ساتھی بھی اس ضمن میں خاموش ہی رہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس روز راجہ پرویز اشرف نے ویکسین کی بابت سوالات اٹھائے اسی دن وقفہ سوالات کے کم از کم 20منٹ ’’ہمارے نمائندوں‘‘ نے یہ جاننے میں صرف کردئیے کہ پاکستان میں جو گاڑیاں تیار ہوتی ہیں ان کے سپیئر پارٹس ابھی تک دیگر ممالک سے درآمد کیوں ہوتے ہیں۔انڈسٹری کی پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ ملک صاحبہ نسبتاََ کم عمر ہونے کے باوجود بہت تیاری کے بعد سوالات کے جواب دیتی ہیں۔ٹھوس اعدادوشمار کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ عمران حکومت کی پالیسیو ںکی بدولت کاریں تیار کرنے والی سات عالمی کمپنیاں اب پاکستان میں نئے کارخانے لگانے کو تیار ہیں۔اس حوالے سے حیران کن تعداد میں نئی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔جلد ہی پاکستان کی سڑکوں پر ایسی گاڑیوں کی ریل پیل ہوگی جو نہ صرف ابھی تک معروف ہوئے Brandsکے مقابلے میں سستی ہوں گی بلکہ وہ ماحول کومحفوظ رکھنے کے علاوہ حادثات سے تحفظ بھی یقینی بنائیں گی۔

سستی اور محفوظ گاڑیوں کا حصول ’’ہمارے نمائندوں‘‘ کی اصل ترجیح تھی۔کرونا سے تحفظ کو یقینی بنانے والی ویکسین کی فراہمی نہیں۔ایسے ’’نمائندوں‘‘ کے ہوتے ہوئے عمران حکومت کرونا سے تحفظ کو یقینی بنانے والی ویکسین کی وسیع تربنیادوں پر فراہمی کے منصوبے تیار کرنے کی ضرورت محسوس کیوں کرے؟!