ہمارے لوکل سائنسدان – Gul e Nokhiaz Akhtar

59

مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہے کہ ساری ایجادات انگریز کر رہے ہیں، حالانکہ جس قسم کی ایجادات پاکستان میں ہو رہی ہیں ایسی انگریزوں کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ الحمدللہ ہمارے ہاں چٹے ان پڑھ لوگ بھی ایسی کمال کی چیزیں ایجاد کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہلدی سالن میں ڈالی جاتی ہے یا زخموں پر لگائی جاتی ہے لیکن ہم وہ واحد جینئس لوگ ہیں جو ہلدی کے ذریعے گاڑی کے ریڈی ایٹر کی لیکیج بھی کنٹرول کر لیتے ہیں۔ ویٹ لفٹنگ کے شوقین افراد کیلئے دنیا بھر میں ایسے ویٹ بنائے جاتے ہیں جن کے دونوں کناروں پر لوہے کی پلیٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، ہمارے ہاں اس کا سستا ترین طریقہ یہ ہے کہ لکڑی یا لوہے کا کوئی مضبوط ڈنڈا لے کر اس کے دونوں کنارے گھی کے خالی ڈبوں میں ڈال کر ڈبوں کو سیمنٹ اور بجری سے بھر دیں، لیجئے ویٹ لفٹر تیار ہے۔ فریج کے دروازے کا ربڑ خراب ہو جائے اور دروازہ ٹھیک سے بند نہ ہو رہا ہو تو اس کا حل بھی پاکستانیوں نے نکال لیا ہے، دروازے کے باہر والی طرف بچوں کے سینڈلوں والی ’’چپ‘‘ لگا دیں۔ دروازہ بہترین طریقے سے کام کرنے لگے گا۔ شیمپو اور کنڈیشنر بالوں میں چمک پیدا کرتے ہیں لیکن کل ایک دوست نے ان کا نیا استعمال بتایا جسے میں آزما چکا ہوں اور رزلٹ نہایت شاندار نکلا ہے۔ گاڑی کو سرف کی بجائے شیمپو سے دھوئیں اور بعد میں اس پرپالش کی بجائے کنڈیشنر لگائیں تو گاڑی نہ صرف چمک اٹھے گی بلکہ ایسی ملائم ہو جائے گی کہ جگہ جگہ ہاتھ پھیرنے کو دل کرے گا۔ شادی سے پہلے جس فلیٹ میں ہم ’’چھڑے‘‘ رہتے تھے وہاں دو کمرے تھے اور ایئر کولر ایک تھا، ہم چاہتے تھے کہ دونوں کمروں میں ہوا جائے، اس کا طریقہ ایک دوست نے یہ نکالا کہ اپنی ایک شلوار کولر کے پنکھے کے آگے باندھ دی، کولر چلتا تھا تو دونوں پائنچوں میں ہوا بھرجاتی تھی اور دونوں کمرے فیض یاب ہو جاتے تھے۔ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اس لحاظ سے پاکستانیوں کو ایجاد کا باپ کہنا چاہیے۔ کولڈ ڈرنکس کی پلاسٹک کی خالی بوتلوں کا استعمال جتنا اچھا ہمارے ہاں ہوتا ہے شائد ہی کہیں ہوتا ہو۔ چھوٹے ہوٹلوں کے باتھ رومز میں یہی بوتلیں بطور لوٹا استعمال ہوتی ہیں۔ بوتل کا اوپر والا تنگ سِرا کاٹ دیا جائے تو اس سے گملے کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ میرے ایک محلے دار نے ایسی ہی ایک ڈیڑھ لٹر کی بوتل ’’ڈور کلوزر‘‘ کے طور پر مٹی بھر کے دروازے کے ساتھ لٹکا رکھی ہے، جونہی دروازہ کھلتا ہے، بوتل کے زور سے خودبخود بند ہو جاتا ہے۔ ایک سائنسی دماغ کے صاحب نے پونے دو لٹر کی بوتل میں کمپیوٹر والا پنکھا فٹ کر رکھا ہے، موصوف بوتل میں برف جما لیتے ہیں اور پھر پنکھا چلا کر بوتل اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں اور ڈیڑھ دو گھنٹے اے سی کے مزے لوٹتے ہیں۔ انہوں نے منرل واٹر کی 19لٹر والی بڑی بوتل کو ٹونٹی لگوا کر واٹر کولر بھی بنایا ہوا ہے۔ میں جب بھی سائنسدان قسم کے پاکستانیوں سے ملتا ہوں‘ میرا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے۔ کیا آپ بغیر سیٹ کے گاڑی چلانے کا تصور کر سکتے ہیں؟ میرے ایک دوست کی بہت پرانی گاڑی کی سیٹ خراب ہوگئی تو اس نے سیٹ نکلوا کر وہاں ’’موڑھا ‘‘ رکھوا لیا، خیر سے بہترین کام دے رہا ہے۔ میرے محلے کے دکاندار نے اپنی دوکان پر ٹی وی رکھا ہوا ہے، سامنے ایک حجام بیٹھتا ہے اور دکاندار کا ٹی وی بڑے شوق سے ٹی وی دیکھتا ہے۔ایک دفعہ دکاندار اورحجام کی لڑائی ہو گئی جس کے بعد حجام نے قسم کھا لی کہ وہ دکاندار کی طرف منہ نہیں کرے گا، موصوف نے اپنی کرسی کا رخ بدل کر اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور آج کل اپنے شیشے میں سے دکاندار کا ٹی وی دیکھتے ہیں۔

ایک دور میں جب میرے پاس ایک چھوٹی سی گاڑی ہوتی تھی تو مجھے ہمیشہ ایسا لگتاتھا کہ عنقریب یہ چوری ہو جائے گی لہٰذا اس کا حل یہ نکالا کہ گاڑی کی ٹیپ کو ایک چور سوئچ کے ذریعے اگنشن سے منسلک کر دیا۔ رات کو گاڑی باہر کھڑی کرنا پڑتی تھی لہٰذا میں نے ایک کیسٹ اپنی آواز میں ریکارڈ کی جس میں دس منٹ تک میں پوری قوت سے چلایا، ’’چور چور…پکڑ لو…چور چور…‘‘ اور منہ سے پولیس کا سائرن بھی بجایا۔ یہ کیسٹ میں رات کو گاڑی پارک کرنے کے بعد ٹیپ میں لگا کر فل والیوم کھول دیتا۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ اگر کوئی چور گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرتا تو فوری طور پر ٹیپ چل پڑتی اور ’’چور چور‘‘ کی آوازیں مع سائرن‘‘ گونجنا شروع ہو جاتیں۔ تاہم بعد میں مجھے یہ سسٹم ختم کروانا پڑا کیونکہ ایک دفعہ رات کو 2 بجے میرے ہمسائے نبیل صاحب کی اہلیہ کی طبیعت خراب ہوگئی، ان کے پاس گاڑی نہیں تھی اور فوری طور پر ہسپتال بھی جانا تھا۔ نبیل صاحب نے میرے دروازے پر بیل دی۔ میں گہری نیند سویا ہوا تھا، اٹھ کر دروازہ کھولا، ان کا مسئلہ سنا اور جماہی لیتے ہوئے گاڑی کی چابی ان کے حوالے کر دی، غلطی یہ ہوگئی کہ انہیں چور سوئچ کا بتانا بھول گیا۔ نبیل صاحب نے میرا شکریہ ادا کیا، میں نے ویلکم کیا اور دروازہ بند کرکے واپس آکر لیٹ گیا۔ نبیل صاحب گاڑی میں بیٹھے، چابی لگائی اور گاڑی سٹارٹ کی…گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی ٹیپ بھی سٹارٹ ہو گئی اور قریب سے گزرتا ہوا چوکیدار بھی۔ ٹیپ کی آواز سنتے ہی مجھے اپنی بھیانک غلطی کا احساس ہوا، میں ننگے پائوں بھاگتا ہوا دروازے سے باہر نکلا، لیکن بہت دیر ہوچکی تھی، نبیل صاحب سٹیئرنگ پر گرے ہوئے تھے۔ ٹیپ پوری قوت سے چور چور چلا رہی تھی اور چوکیدار فخریہ انداز میں ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے ہوئے داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔