کیا چین ناراض ہے؟ – Saleem Safi

25

ماضی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے ساتھ دو طرف تعلقات کو بیک وقت قائم رکھے لیکن تب چین امریکہ کے مقابلے میں نہیں آیا تھا اور اسے معاشی سپرپاور کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اسی طرح جب امریکہ اور سوویت یونین کی مخاصمت عروج پر تھی تو چین اس میں فریق نہیں تھا اور خود سوویت یونین کے ساتھ اس کے سرحدی تنازعات چل رہے تھے، اس لئے افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کے عمل میں چین کی ہمدردیاں بھی امریکہ اور پاکستان کےساتھ تھیں۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چند بڑی تبدیلیاں آئیں۔ ایک تو چین بڑی اقتصادی طاقت بن گیا اور اس میدان میں اس نے امریکہ کو چیلنج کیا۔ دوسرا روس اور چین نے سرحدی تنازعات ختم کئے اور مغرب کے مقابلے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی صورت میں ایک فورم پر ایک ساتھ بیٹھ گئے۔ ادھر نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا تو اس کے جواب میں امریکی قیادت نے یہ وعدہ کیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ تنازعات اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں پاکستان کی مدد کرے گا لیکن ایسا کچھ کرنے کے بجائے اس کی انڈیا کے ساتھ قربت بڑھتی رہی اور چین کے تناظر میں بھی اس کے ساتھ اسٹرٹیجک محاذوں پر تعاون بڑھتا رہا۔دوسری طرف امریکہ کی طرف سے سلالہ اور ایبٹ آباد آپریشن کے واقعات کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ امریکہ کے ساتھ ٹرانزیکشنل تعلقات کا یہ سلسلہ بھی زیادہ پائیدار نہیں رہے گا ۔ چنانچہ کیانی اور زرداری نے مل کر خارجہ پالیسی کا محور چین اور روس کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا۔ زرداری صاحب جب پہلی مرتبہ روس جارہے تھے تو امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے فون کرکے اس پر شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس دوران چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کا خیال بھی عمل کا روپ دھارنے لگا جس میں سی پیک اور گوادر کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ جنرل کیانی اور زرداری نے گوادر کی بندرگاہ سنگاپور کی کمپنی سے واپس لی۔ زرداری نے سنگاپور کی کمپنی کا جرمانہ بھی ملک ریاض جیسے دوستوں کی جیب سے ادا کیا اور گوادر پورٹ چینی کمپنی کے حوالے کردی۔ زرداری نے بطور صدر چین کے کئی دورے کئے اور انہی کے دور کے آخری ایام میں سی پیک کے ایم او یو پر دستخط ہوئے۔میاں نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے چین کے ساتھ اس نئے تعلق کے سلسلے کو مزید تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا اور ساتھ ہی روس کے ساتھ بھی قربت پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ ان کے دور میں تو صرف چین چین اور سی پیک سی پیک ہی ہوتا رہا ۔ تب امریکہ نے کھلے الفاظ میں کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن امریکہ اور انڈیا کو چین اور پاکستان کی یہ قربت ہر گز گوارا نہیں تھی۔ زرداری اور میاں نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا ، اس میں ان کی چین کے ساتھ اس قربت اور امریکہ کو ناراض کرنے کا بھی بڑا دخل تھا۔ جہاں زرداری اور نواز شریف چین کے موسٹ فیورٹ بن گئے، دوسری طرف وہاں تاثر یہ تھا کہ عمران خان کو چند وجوہات کی وجہ سے چین میں زیادہ پسند نہیں کیا جارہا تھا۔ ایک خیال تو یہ ہے کہ چینی کسی حد تک عمران خان کے بارے میں ان سازشی نظریات پر بھی یقین کررہے تھے جو مولانا فضل الرحمٰن اور حکیم سعید جیسے لوگوں کے ذہنوں میں تھے ۔ سی پیک کے بارے میں چینی بڑے حساس ہیں لیکن دوسری طرف میاں نواز شریف کی مخالفت میں عمران خان اور اسد عمر وغیرہ سی پیک کا مذاق اڑاتے رہے جبکہ دھرنوں کی وجہ سے چینی صدر کے دورہ پاکستان کے التوا کے بعد تو چینیوں کی ناراضی مزید بڑھ گئی یوں وزیراعظم بننے کے بعد خان صاحب کو پھونک پھونک کرچین کے حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھانا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اس احتیاط اور ذمہ داری سے کام نہیں لیا۔ رزاق دائود نے سی پیک پر ایک سال تک کام معطل کرنے کا غیرذمہ دارانہ بیان دیا ۔ ادھر دیگر وفاقی وزرا عمران خان کے ایما پر احسن اقبال کی دشمنی میں سی پیک کے سودوں میں کرپشن کے الزامات لگانے لگے ۔ اسد عمر جیسے لوگوں کو سی پیک کی ذمہ داری دی گئی جو ماضی میں اس منصوبے کے خلاف تقریریں کرچکے تھے ۔سی پیک کو فٹ بال بنا کر کبھی اسد عمر تو کبھی خسروبختیار کی طرف پھینکا جاتا رہا۔ اس صورتحال سے چینی نہایت نالاں ہوئے ۔ عسکری قیادت نے دوبارہ چین کے ساتھ معاملات طے کئے لیکن اس دوران عمران خان کے دورہ امریکہ کا پروگرام بن گیا اور وہ ٹرمپ کی محبت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ چینی ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔ پھر حفیظ شیخ جیسے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو کلیدی عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ایک بار پھر عسکری قیادت نے معاملات درست کرنے کی کوشش کی اور سی پیک اتھارٹی قائم کرکے جنرل عاصم سلیم باجوہ کو اس کا سربراہ بنایا، بدقسمتی سے چند ہی روز بعد جنرل عاصم باجوہ بھی ایک بڑے تنازعے کا شکار ہوئے ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ چینی سی پیک کی جلدازجلد تکمیل کے لئے بے چین ہیں لیکن سونامی سرکار کے دور میں سی پیک پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی۔ مزید یہ مکہ تبدیلی سرکار کے دور میں چینیوں کی سیکورٹی کا مسئلہ بھی سنگین ہوگیا ہے ۔ پہلے کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل میں خودکش دھماکہ ہوا اور اُس وقت چینی سفیر اسی شہر میں تھے ۔ اب داسو کا افسوسناک حادثہ ہوا لیکن تبدیلی سرکار کے نااہل وزیروں نے پہلے اس سے متعلق غلط بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ حادثہ ہے ۔ تبدیلی سرکار کی ان بچگانہ حرکتوں نے چینی دوستوں کو نہایت پریشان کررکھا ہے لیکن چونکہ چین کی سفارتکاری کا اپنا انداز ہے اور ہماری طرح ان کی زبانیں نہیں چلتیں ، اس لئے وہ سب برداشت کررہے ہیں تاہم اب وہ اس حد تک تنگ آگئے ہیں کہ مختلف اقدامات کے ذریعے اپنے مسیج دینے لگے ہیں ۔ مثلا رہائی کے بعد عمران خان نے میاں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا لیکن اگلے دن چینی سفیر نے انہیں کھانے پر مدعو کرکے اس کی ویڈیو کوریج بھی کروائی جو عام روایت کے بالکل منافی تھا۔ لیکن افغانستان کے محاذ پر ہونے والی پیش رفت کے بعد اب ان حرکتوں کی مزید گنجائش نہیں۔ سونامی سرکار نے امریکہ کی خاطر چین کو ناراض کیا لیکن اب امریکہ دشمنی پر اتر آئے گا ۔ جب امریکہ ہمارے ساتھ سختی کرے گا تو چین کی قربت ہی ہمارے کام آسکتی ہے لیکن موجودہ حکومت نے چین کے ساتھ اعتماد کو بھی کافی متاثر کیا ہے۔