کورونا، ماحولیات، انسان اور کرۂ ارض – Imtiaz Alam

19

صدر بائیڈن نے کورونا ویکسین سے متعلق دانشورانہ ملکیتی حقوق سے استثنیٰ کا محض اشارہ تو دیا، لیکن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) دسمبر تک محفوظ جملہ حقوق (TRIM) بارے کچھ نہ کرسکے گی۔ امریکہ اور یورپ کی اجارہ دار فارما کمپنیاں بھاری منافع خوری کے مفاد میں ترقی پذیر دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں ذرا سا عار بھی محسوس نہیں کررہیں۔ جب تک WTO کوئی فیصلہ اگر کرے گی بھی، پسماندہ ملکوں کے خدانخواستہ پندرہ کروڑ سے زیادہ لوگ کورونا کی نذر ہوجائیں گے اور 32 لاکھ سے زیادہ موت کی نیند سو جائیں گے۔ کوروناویکسین کی ایک خوراک کے لیے زیادہ تر کو طویل انتظار کرنا ہوگا۔ اب تک فارما ملٹی نیشنل کمپنیاں 15 ارب ڈالرز کا کاروبار کر چکی ہیں اور امریکی سرکار سے 12 ارب ڈالرز بٹور چکی ہیں۔ اور ان کا ارادہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہوئے 10 ارب ویکسین بنانے کا ہے جو ظاہر ہے عوامی گڈ کی بجائے بے تحاشہ منافع پر بیچی جائیں گی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے تحت کوویکس 20 فیصد مہیا ہوسکے گی اور اسے 23 ارب ڈالرز درکار ہیں جو مل نہیں رہے۔ کووڈ کی وبا سے جہاں امریکہ میں پانچ کروڑ لوگ روٹی کو ترس گئے او رکروڑوں بے روزگار ہوگئے وہاں ارب پتیوں کی دولت میں فقط 2020ء مارچ اور جون کے دوران 700 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ۔ سرکار نے بھی تقریباً 2.3 کھرب ڈالرز کا سرمایہ ان کی ایمپائرز کو بچانے پر لگادیا۔ نہ صرف امریکہ میں امیر اور غریب کا فرق تمام حدیں پھلانگ گیا، بلکہ دنیا میں امیر اور غریب ملکوں میں دولت کی خلیج بڑھ گئی۔ اس کے برعکس عوامی جمہوریہ چین نے اپنے 33کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک کو ویکسین بھی فراہم کی ہے اور اس کا فارمولہ بھی شیئر کیا ہے۔ روس بھی اپنی سپوتنک 5 دنیا سے شیئر کرنے کو تیار ہے لیکن ترقی یافتہ شمال کے لیے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ بھارت میں کورونا کی تباہی نے تمام عالمی ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور کورونا اپنی جون بدل رہا ہے ۔ اگر تمام دنیا کی بالغ آبادی کو ویکسین نہ لگائی گئی تو مغرب پھر سے کورونا کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

سائنسدان اب کورونا کا سراغ عالمی ماحولیاتی بحران میں ڈھونڈ رہے ہیں اور سیاسی معیشت کے اساتذہ اسے سرمایہ دارانہ نظام کی تباہی کا شاخسانہ بتارہے ہیں۔ ’’تباہ کن سرمایہ داری‘‘ کے اجزائے ترکیبی میں (1) خطہ ارض کا ماحولیاتی یا ایکا لوجیکل بحران (2) مہاماری وبائی بحران اور (3) نہ ختم ہونے والے عالمی معاشی بحران، کو شامل کیا جارہا ہے۔ ارضیاتی و ماحولیاتی ماہرین اب خطہ ارض کو انسانی ہاتھوں سے تباہی کا دور (Anthroprocene) قرار دے رہے ہیں۔ اگر کاربن کا اخراج اگلی چند دہائیوں میں صفر نہ ہوا تو اس کے باعث صنعتی تہذیب تباہ اور کرہ ارض پہ زندگی اور انسانی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ بحران فقط ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی تک محدود نہیں بلکہ سیاروں کی حدود بھی کراس کررہا ہے۔ جس کے باعث ارتھ سسٹم میں ایکالوجیکل دراڑ پڑنے سے یہ دنیا انسان کے لیے ناقابل رہائش ہوکررہ جائے گی۔ اس میں سمندروں میں زہر رسانی، جینیاتی کثرت کا خاتمہ، جنگلات کا خاتمہ، زہریلے و تابکاری عناصر کا پھیلائو اور جینیاتی طور پر تبدیل کردہ خوراک وغیرہ شامل ہیں۔ سیاسی معیشت اورماحولیات کے ماہرین اسے قدرت اور انسان کے مابین غیر نامیاتی تصادم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں سرمایہ داری نہ صرف محنت کش عوام کا خون چوس چوس کر ان کی زائد قدر پہ پھلتی پھولتی ہے بلکہ ویسے ہی قدرت کی پامالی بھی کرتی ہے۔ سرمایہ دار کو غرض نہیں کہ محنت کی قوت کے استحصال سے حقیقی پیداواری طبقے پہ کیا بیتتی ہے۔ اسے صرف اپنے منافع سے غرض ہے اور یہی غرض اسے ماحولیات، زمین، ہوا، قدرتی ذرائع، آبی ذرائع، دریائوں، سمندروں، جنگلات اور قدرت کے تمام خزانوں کو اندھا دھند خرچ کر ڈالنے پر مجبور کرتی ہے۔ غرض انسان ہو یا حیاتیات، ارضیات ہو یا نباتات اور ماحول ہو یا قدرت کا اپنا توازن سب سرمائے کی بھینٹ چڑھے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ سائنسدانوں، ماہرین، محققین، فنکاروں، لکھاریوں اور دانشوروں کی ایجادات و تحقیقات، تخلیقات اور مہارت بھی سرمائے کے عالمی ارتکاز کے کام آتی ہیں۔ انسانی نجات، فلاح، علاج، تعلیم و تربیت اور قدرت و انسانی محنت کا نامیاتی تال میل عالمی سرمایہ داری کا سر درد نہیں۔ دوسروں کی قوت، محنت کی طرح، قدرت بھی سرمائے کے استحصال کی بھینٹ چڑھتی جا رہی ہے۔

سرمایہ داری میں محنت کی بیگانگی، قدرت سے بیگانگی سے علیحدہ نہیں۔ اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی محنت کے استحصال کو دو چند کرنے میں استعمال ہوتی ہے اور سائنس کو قدرت کو سرمائے کے مفاد میں مطیع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرت پہ ڈاکہ قدرت اور انسان کے مابین نامیاتی رشتے کو توڑ دیتا ہے۔ اسے کارل مارکس کے بقول میٹا بالک رفٹ (Metabolic Rift) کہا جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ ارتکاز کی دین ہے۔ دنیا بھر کے سیاسی معیشت دان اور سماجی و ماحولیاتی مفکرین اور ماہرین اب ایکو سوشلزم (Eco Socialism)کو انسانیت اور قدرت کی بقا کے لیے لازم قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں قدرت ہو یا معیشت انسانی مفاد اسی میں ہے کہ اجتماعی پیداواری عمل کو سماجی ڈھانچے میں ڈھالتے ہوئے قدرت کے ساتھ ہم آہنگ رہ کر ایک پائیدار انسانی ترقی اور قدرت سے ہم آہنگی برقرار رکھی جائے ۔

ماحول کو محفوظ کرنے کی تحریک کا ابھار بیسویں صدی کی ساتویں اور آٹھویں دہائی میں شروع ہوا تھا۔ بیشتر تحریکوں، ماحولیاتی اور قدرت کے تحفظ کی سبز تحریکوں نے گزشتہ چار دہائیوں میں یہ سیکھا ہے کہ فقط ماحولیات کے تحفظ کی جہد سے قدرت کی بقا ممکن نہیں کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ایسا ممکن نہیں۔ لہٰذا اب ایکوسوشلزم یاماحولیاتی اشتراکیت ایک نئے مکتب فکر کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ اس کی جڑیں کارل مارکس کے محنت کی بیگانگی اورقدرت سے بیگانگی کے نظریہ میں تلاش کی جارہی ہیں۔ مارکس کا ایکالوجیکل حل اب ایکوسوشلزم کو فکری بالیدگی فراہم کررہا ہے۔ بار آور محنت کا پراسیس ہو یا پھر قدرت سے انسان کی نامیاتی ہم آہنگی اس کا ایک ہمہ نوحل اب ماحولیاتی اشتراکیت سے ہی ممکن ہے۔ یا تو دنیا بھر کے غریب اور محنت کش طبقات کرہ ارض کے وارث ہوں گے یا پھر انسان کی وراثت کے لیے کرہ ارض ناپید ہوجائے گا۔