کشمیر میں حکومت کون بنائے گا؟ – Imran Yaqub Khan

36

آزاد کشمیر میں حکومت کون بنائے گا؟ یہ سوال آج کا ملین ڈالر کویسچن بن چکا ہے۔ آج آزاد کشمیر کے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اگلے پانچ برسوں کے لیے، اقتدار کا ہما کس کے سر پر بٹھانا ہے۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی، پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ تینوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ووٹروں کے سامنے اپنا اپنا منشور رکھنے سے زیادہ ایک دوسرے پر طنز کے تیر برسانے پر زور دیا۔ پاکستان میں عمومی طور پر یہ تاثر زور پکڑ چکا ہے کہ جس سیاسی جماعت کی وفاق میں حکومت ہو‘ وہی جماعت آزاد کشمیر میں بھی حکومت بناتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یقینا فنڈز کی فراہمی ہے۔ ممکن ہے یہی وجہ ہو کہ حال میں ہونے والے گیلپ سروے میں بھی کشمیری عوام کی طرف سے وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے 45 حلقوں الیکشن ہو رہا ہے۔ 33 حلقے آزاد جموں و کشمیر میں ہیں‘ جہاں براہ راست ووٹنگ ہونے جا رہی ہے، جبکہ 12 حلقے کشمیری مہاجرین کے ہیں۔ ان میں سے 10 پنجاب میں، ایک سندھ اور ایک خیبر پختونخوا میں ہے۔ ان 12 حلقوں میں بھی آج ہی ووٹنگ ہو رہی ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابی میدان میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا جائزہ لیں تو ابتدا میں وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر علی امین گنڈا پور اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے جلسے کیے۔ دونوں وزرا کرپشن کے خلاف جنگ کا بیانیہ لیے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے رہے۔ ان کے تند و تیز بیانات کی وجہ سے انتخابی مہم میں کچھ بدمزگیاں بھی ہوئیں۔ جوتی اچھالنے سے پتھراؤ کرنے اور پھر ہوائی فائرنگ تک نوبت پہنچ گئی۔ بات زیادہ بڑھی تو آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور کو آزاد کشمیر الیکشن کی مہم چھوڑ کر علاقے سے نکل جانے کی ہدایت کر دی؛ تاہم اس ہدایت پر عمل نہ ہو سکا۔ مہم کے آخری دنوں میں وزیر اعظم عمران خان خود میدان میں اترے‘ اور سیاسی مخالفین کو جواب دئیے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور الیکشن کمیشن کی ہدایت کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان جلسوں میں موجود رہے اور عمران خان کے شانہ بشانہ نظر آئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا کہ ”کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم سے ہوگا۔ اس بات کا فیصلہ کشمیر کے لوگوں نے کرنا ہے کہ بھارت کے ساتھ جانا ہے یا پاکستان کے ساتھ۔ آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی بات کہاں سے آئی؟ ابھی تک اس کا علم نہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم ہوگا‘‘۔ اپوزیشن کی طرف سے ممکنہ دھاندلی کے الزامات کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ”اپوزیشن نے پہلے سے الیکشن میں دھاندلی کا واویلا شروع کردیا ہے، ہم انہیں ایک سال سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکشن اصلاحات کریں، لیکن کوئی نہیں آتا‘‘۔ دوسری طرف وزیر اعظم کے جلسوں میں کم کراؤڈ پر اپوزیشن والے تنقید کرتے نظر آئے۔
آزاد کشمیر میں تینوں بڑی جماعتوں کی انتخابی مہم کو سامنے رکھا جائے تو مریم نواز شریف نے خود کو ایک بار پھر کراؤڈ پُلر ثابت کیا۔ ان کے جلسوں اور ریلیوں میں عوام کا رش نظر آیا۔ کشمیری خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر مریم نواز نے اپنے جلسوں میں بھی کہا کہ کشمیر کی بیٹی کشمیر آئی ہے۔ جہاں انہوں نے کشمیر کاز کے لیے اپنے والد نواز شریف اور اپنی جماعت مسلم لیگ ن کی کاوشیں گنوائیں، وہیں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا‘ عمران خان اور ان کی حکومت پر الزام لگایا کہ حکمرانوں نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا۔ کشمیرکو ممکنہ طور پر صوبہ بنانے کے خلاف نعرہ بھی بلند کیا۔ مریم نواز نے ‘ووٹ کو عزت دو‘ اور ‘ووٹ پر پہرہ دو‘ کا بیانیہ بھی اپنے جلسوں میں شدت کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے ووٹروں سے کہا کہ ووٹ پر پہرہ دینا ہو گا۔ پھر حکومت کو بھی یہ پیغام دیا کہ ووٹ چوری ہوا تو اس بار شاہراہ دستور پر کشمیریوں کا دھرنا ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی بات کریں تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی بنفس نفیس شریک رہے۔ بلاول بھٹو نے کشمیر کاز کے لیے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں کا تقریباً ہر تقریر میں حوالہ دیا۔ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر بھی خوب تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ”عمران خان نے مودی کے جیتنے کی دعا کی اور کشمیر کا سودا کیا۔ تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم کو اتناخوف ہے کہ آخری دن بھاگ بھاگ کر جلسہ کر رہے ہیں‘‘۔ تبدیلی سرکار پر تنقید کے ساتھ ساتھ بلاول اس اپوزیشن پر بھی طنز کے نشتر برسانا نہیں بھولے جس کے کبھی وہ حلیف رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کے حوالے سے اپنے ایک کالم میں پہلے بھی اس بات کا ذکر کر چکا ہوں کہ وہ اس وقت خود کو اس مقام پر لے آئے ہیں، جہاں ان کو حکمران جماعت کی اپوزیشن کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی بھی اپوزیشن کرنے کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ شاید اسی لیے اپوزیشن اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے کبھی آر پار کی بات کرتے ہیں تو کبھی پاؤں پکڑنے کی۔ کبھی عمران خان کا استعفیٰ چھیننے کی بات کرتے ہیں تو کبھی اپنے استعفے دینے کی۔
آزاد کشمیر میں حکومت کون بنائے گا؟ اب واپس آتے ہیں اسی سوال کی طرف۔ اس سوال کا جواب گیلپ نے آزاد کشمیر الیکشن سے دو دن پہلے اپنے ایک سروے میں کسی حد تک دینے کی کوشش کی ہے۔ گیلپ نے اپنے سروے میں سوال رکھا کہ آزاد کشمیر کا الیکشن کون سی جماعت جیتے گی؟ سروے کے مطابق آزاد کشمیر میں 44 فیصد عوام تحریک انصاف کے حامی ہیں۔ مسلم لیگ ن کو 12 فیصد اور پیپلز پارٹی کو 9 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق عمران خان آزاد کشمیر میں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام میں ان کی مقبولیت 67 فیصد ہے۔ بلاول بھٹو 49 فیصد مقبولیت کے ساتھ دوسرے اور شہباز شریف 48 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت 46 فیصد اور مریم نواز شریف 45 فیصد کے ساتھ سب سے کم مقبول لیڈر ہیں۔ آزاد کشمیر کے الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے؟ گیلپ سروے میں اس سوال کے جواب میں 53 فیصد عوام نے رائے دی کہ انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں گے۔ 30 فیصد عوام نے الیکشن غیر شفاف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ آزاد کشمیر کے 61 فیصد عوام نے راجا فاروق حیدر کی بطور وزیر اعظم کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی کارکردگی پر 44 فیصد عوام نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سروے میں 47 فیصد عوام نے ان کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ گیلپ سروے میں 24 فیصد عوام نے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو اپنے حلقے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ 13 فیصد عوام پینے کے پانی کی فراہمی اور 10 فیصد عوام نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو مسئلہ قرار دیا۔
3 سال پہلے 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات ہوئے تھے۔ تبدیلی کا وعدہ کر کے تحریک انصاف حکومت میں آئی تھی۔ 3 سال بعد بھی عوام کے بنیادی مسائل جو تب تھے وہی اب ہیں۔ سیاست دانوں کی سیاست بھی جو تھی وہی ہے۔ اب آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کے بعد دیکھتے ہیں کیا تبدیلی آتی ہے۔