کشمیر الیکشن اور گندے کپڑے؟ – Mohd Abdullah Hameed Gul

43

بھلا یہ بھی کوئی سوال پوچھنا بنتا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے آزاد جموں و کشمیر میں کون سی پارٹی برسرِ اقتدار چلی آئی ہے، اور آج کی تاریخ تک وہاں وزیر اعظم کون ہے، کس کا ہے؟ جبکہ اس سے بھی پہلے والے پانچ سال وہاں کس پارٹی نے حکومت کی تھی؟
توقع یہ کی جا رہی تھی کہ بھمبر سے لیپا تک لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بے رحم فوجی تشدد کا مقابلہ کرنے والے مظلوم مگر بہادر کشمیری مسلمانوں کے لیے یہ الیکشن نئی اُمید کا پیغام ثابت ہو گا۔ اس لئے کہ آزاد جموں و کشمیر کو آزادیٔ کشمیر کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے‘ مگر احساسِ زیاں جاتا رہا، کہنا بھی نہیں بنتا۔ اگر احساسِ زیاں نام کی کوئی چیز ہوتی تو کیا لیڈر شپ کی نئی نسل اتنے زیادہ گندے کپڑے آزاد کشمیر کی الیکشن مہم میں دھونے کیلئے اُنہیں جگہ جگہ پھیلاتی؟
اگلے سے اگلے اِتوار یعنی 25 جولائی کے دن اے جے کے جنرل الیکشن کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس لئے مفاد پرستانہ تقسیم در تقسیم پر مبنی سیاست کی Dirty Linen ابھی دو ہفتے اور برسرِ عام دھوئی جاتی رہے گی۔
آزاد کشمیر کی الیکشن 2021 کی مہم سُکڑ کر تین نکات کے گرد گھوم رہی ہے۔ پہلا نکتہ: پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو کچھ نہیں دیا۔ دوسرا نکتہ، پاکستانی وزیر اعظم بزدل ہیں، اور کشمیر پر بھارت سے سودے بازی ہو چکی ہے‘ جبکہ تیسرا نکتہ مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے چیختے چنگھاڑتے دعووں پر مبنی ہے۔
ناک تک منی لانڈرنگ میں ڈوبے ہوئے ملزموں اور مفروروں کی نئی پود قوم کو کیا پاگل سمجھتی ہے، یا خود کسی مرض میں مبتلا ہے؟ کون نہیں جانتا کہ نون لیگ اگلے الیکشن کے نتائج تک آزاد کشمیر میں برسرِ اقتدار ہے۔ اِس کُھلی حقیقت کو بھی سب جانتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر میں پی پی پی چار بار برسرِ اقتدار رہ چکی ہے۔ اِن دونوں پارٹیوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے پچھلی بار الیکشن میں حصہ لیا، مگر جمود توڑ قسم کی تبدیلی لانے میں کامیابی نہ ہوئی‘ اس لئے پچھلے پانچ سال سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں چھوٹی سے اپوزیشن کا حصہ رہی۔
پی ٹی آئی کے لیے آزاد جموں و کشمیر کا موجودہ الیکشن دوسری ٹرم کہا جا سکتا ہے، جس میں پی ٹی آئی حصہ لے رہی ہے۔ ظاہری طور پر یہ ایک ٹرائی اینگولر فائٹ ہے۔ چند چھوٹی جماعتوں اور برادریوں کے کچھ امیدوار بھی 45 سیٹوں کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اتنا لمبا عرصہ اقتدار میں رہنے والی دونوں جماعتیں اگر آزاد کشمیر کے لوگوں کی ناز برداریاں کرتی آئی ہیں، تو اُن کی زبانیں اپنے کارنامے گنتے گنتے نہیں تھکنی چاہئے تھیں‘ لیکن لگتا ہے کہ پچھلی دونوں حکومتوں کا نامۂ اعمال ایک ایسا وائٹ پیپر ہے، جس پر لکھنے کے لیے کچھ موجود نہیں۔ اسی لیے اس بار کشمیر الیکشن بھی جی بی الیکشن کا ری پلے لگ رہا ہے‘ جہاں پچھلے پانچ سال پی ایم ایل این کی حکومت تھی، اور اس سے پچھلے پانچ سال پی پی پی برسرِ اقتدار رہی۔ شاید اسی خدشے کے پیشِ نظر وہاں برسرِ اقتدار رہنے والی دونوں پارٹیاں سخت مایوس ہو کر، حسرت و یاس کی سیاست پر مہم چلا رہی ہیں۔
اب ذرا آئیے انتخابی مہم کے اُن تین نکات کا جائزہ لیں، جو کشمیر الیکشن 2021 کا مرکزِ نگاہ ہیں۔
پہلا نکتہ: یہ نعرہ کہ پی ٹی آئی نے آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو کچھ نہیں دیا۔ یہ الزام یوں غلط ثابت ہو جاتا ہے کہ تحریک انصاف ابھی تک اس خطے میں کبھی برسرِ اقتدار ہی نہیں آئی۔ ہاں مگر مرکز میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کے بجٹ میں گلگت بلتستان کی طرح لینڈ مارک اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ علیحدہ سے سوشل ویلفیئر پیکیج کا پلان بھی دیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے بی آئی ایس پی فنڈ سرکاری افسروں اور غیر مستحق لوگوں میں بانٹا جاتا رہا‘ جن میں سے 8 لاکھ فراڈیے ڈیٹا کے ذریعے شناخت کر کے نکال باہر کیے گئے، اور احساس کیش پروگرام سے براہِ راست 12 ہزار روپے فی کَس بغیر کسی اشتہار، نعرے اور فوٹو کے لاتعداد ضرورت مندوں کو براہِ راست اُن کے گھروں میں بھجوائے گئے۔
اس کے مقابلے میں پی ایم ایل( این) کی یکے اَز مالکان اور پی پی پی کے جدّی سربراہ اپنے اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت کے کارنامے کیوں نہیں بیان کر رہے؟ اگر اُن کی جھولی میں ٹھیکے داروں پر نوازشات، سرکاری خرچ پر پروٹوکول کی ہٹو بچو‘ بیرون ملک کے شاہانہ دوروں، غریبوں کے مال سے برپا ہونے والی سرکاری ضیافتوں‘ بار بار کوہالہ روڈ کی تعمیر کے علاوہ بھی کچھ ہے تو وہ اپنے ووٹروں کو کیوں نہیں بتا رہے؟ اِس خاتون اور حضرت کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے اُن کے دور میں لوگوں کی ایک ہتھیلی پہ سورج اور دوسرے ہاتھ پہ چاند رکھ دیا گیا تھا‘ جو پی ٹی آئی کی الیکشن مہم نے اُٹھا کر پھر آسمان پر واپس بھجوا دیئے ہیں۔
دوسرا نکتہ جُرأتِ رندانہ، اور ہمتِ مردانہ والی بہادری پر مبنی ہے۔ شملہ معاہدے کے بعد پہلی بار وزیر اعظم عمران خان نے صرف تین سال کے عرصے میں مسئلہ کشمیر کو یو این جنرل اسمبلی، یو این ایس سی اور ہر بین الاقوامی فورَم پر اُٹھایا۔ اس کے نتیجے میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ بجٹ سیشن کے دوران اپنے تازہ اسمبلی خطاب میں پی ایم عمران خان نے کشمیر کا محاصرہ اُٹھائے جانے تک بھارت سے تعلقات کی بحالی پر کھل کر ناں‘ کہہ دی۔ یو ایس اے بہادر کے لیے کسی بھی کانفلکٹ میں کرائے کے گوریلا بن کر لڑنے پر ”Absolutely not‘‘ کہا۔ امن کے لیے پاکستان کو عالمی شراکت دار اور سہولت کار کا کردار سونپا۔ اسی دور حکومت میں مودی کو مخاطب کر کے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا‘ اگر پاکستان میں دَر اندازی کی تو اُس کا جواب سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے۔ اسی کے نتیجے میں ساری دنیا کے سامنے بالا کوٹ کا 8 جگہ بدلہ بھی لیا گیا اور انڈین ایئر فورس کو ” فنٹاسٹک پاکستانی چائے‘‘ کا مزہ بھی چکھا دیا گیا۔
مریم صاحبہ کے والد صاحب کے سیاسی ماضی میں کارگِل کی جیتی ہوئی جنگ کو مس ایڈونچر ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کرنا‘ ساڑھی ڈپلومیسی، مودی سے وَن آن وَن سرگوشی والی ملاقاتیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم پر چُپ کا روزہ۔ کلبھوشن یادیو کا نام تک نہ لینا، سجن جندال کو وزیر اعظم ہائوس کی گاڑیوں میں بٹھا کر سرکاری ہیلی کاپٹرز کی سکیورٹی میں مری لے جانا جیسی کُھلی بہادری کی رپورٹڈ داستانوں کے علاوہ اور رکھا ہی کیا ہے؟
تیسرا نکتہ: وہ تقریری ویڈیو کلپ تو آپ دیکھ چکے ہیں، جس میں پی ایم ایل این کی خاتون لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس کشمیر کا سودا ہو جانے کی تصدیق شدہ اطلاع موجود ہے۔ اگر یہ اطلاع کیلبری فونٹ کی طرح تصدیق شدہ اور کشمیر سے پرانا رشتہ نامی فوٹو شاپ پکچِر والی ٹویٹ کی طرح سے مصدقہ ہے تو پھر اس خبر کے ذرائع اور وسائل کھول کر رکھ دینے میں حرج ہی کیا ہے۔
پیرِ مغاں کی ریشِ حنائی کی خیر ہو!
خوفِ خُدا حوالۂ اَصنام ہو گیا