پاک بھارت تعلقات کے مثبت اشارے ’By Nusrat Javed

20

23مارچ 2021کی صبح اُٹھ کر اس دن کے ’’نوائے وقت‘ ‘ میں چھپا یہ کالم سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لئے لیپ ٹاپ کھولنے کے بعد اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر گیا تو ایک ’’خبر‘‘ نے مجھے چونکادیا۔ مذکورہ خبر بھارت سے چلائی The Printکی ویب سائٹ پر موجود تھی۔بھارت کے ایک محنتی اور نامور صحافی شیکھرگپتا اس ادارے کے مدارالمہام ہیں۔ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ جیسے دھانسو روز نامے کے مدیر رہے ہیں۔انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد موصوف نے بتدریج دریافت کرلیا کہ پرنٹ صحافت کے دن تمام ہوئے۔’’اخبار‘‘ اب لیپ ٹاپ اور موبائل فونز پر ہی پڑھے جائیں گے۔سوشل میڈیا کے ذریعے فراہم ہوئی ’’خبریں‘‘ مگر یاوہ گوئی یا سازشی کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔حکومتی اور سیاسی جماعتیں ایسی ’’خبروں‘‘ کو اپنی پسند کے ’’بیانیے‘‘ کو فروغ دینے کے لئے ’’ایجاد‘‘ بھی کرتی ہیں۔ شیکھر نے نہایت لگن اور سنجیدگی سے نوجوان صحافیوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی۔انہیں روایتی صحافت کے اصولوں کی کامل پاسداری کرتے ہوئے خبروں کی تلاش میں لگادیا۔ان سب کی محنت سے بالآخر The Printاب ایسا ادارہ بن چکا ہے جو سوشل میڈیا کے تقاضوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بھی روایتی صحافت کے بنیادی اصولوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

 بہرحال جس خبر نے مجھے چونکا دیا وہ اس ادارے کے لئے دفاعی امور سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے Snehesh Alex Philipنے لکھی تھی۔اس میں دعویٰ ہوا کہ اس برس کے آخری مہینوں میں ایک ’’تاریخی‘‘ واقعہ ہوسکتا ہے۔ہمارے یار چین کی پیش قدمی سے رواں صدی کے آغاز میں ایک تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ شنگھائی تنظیم برائے تعاون (SCO)اس کا نام ہے۔ بنیادی مقصد اس تنظیم کا روس اور چین کو وسطی ایشیاء کے دیگر ممالک کے ساتھ ایک متحرک اتحاد کی صورت جمع کرنا تھا۔پاکستان اور بھارت کو جغرافیائی قربت اور تاریخی رابطوں کی وجہ

 سے اس تنظیم کے ابتدائی اجلاسوں میں بطور ’’مبصر‘‘ مدعو کیا جاتا رہا۔بعدازاں یہ دونوں ملک مذکورہ تنظیم کے باقاعدہ رکن بھی تسلیم کرلئے گئے۔

’’دہشت گردی‘‘ نے SCOکو بھی پریشان کررکھا تھا۔اس سے نبردآزما ہونے کے لئے فیصلہ ہوا کہ اس تنظیم کے تمام رکن ممالک اپنے دفاعی اور قومی سلامتی سے متعلق اداروں کی صلاحیتوں کو دہشت گردی کے مقابلے کے لئے یکجا کر نے کا بندوبست تلاش کریں۔ اس بندوبست کو بارآور بنانے کے لئے رکن ممالک کی افواج مشترکہ مشقوں میں بھی حصہ لیتی رہیں۔2018میں بھی ایسی ہی ایک مشق ہوئی تھی جس میں جنوبی ایشیاء کے دو ازلی دشمنوں کے فوجی دستے بھی شامل ہوئے تھے۔ اس مشق کے دوران پاکستان اور بھارت کے جوانوں نے بھنگڑا نما رقص بھی کیا تھاجو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوا۔

 تمہید میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اب 23مارچ 2021کی صبح چھپی خبر کی جانب لوٹتے ہیں۔ ’’دی پرنٹ‘‘ کے رپورٹر کا دعویٰ ہے کہ رواں برس کے آخری مہینوں میں SCOوالے بندوبست کے تحت پاکستان کی سرزمین پر اس تنظیم کے رکن ممالک کی افواج مشترکہ مشقوں میں حصہ لیں گی۔ بھارت کی بری،بحری اور فضائی افواج کے دستے اس میں شامل ہوکر ’’تاریخ‘‘ بناسکتے ہیں۔پاکستان کی سرزمین پر بھارت سے آئے فوجی دستوں کا جنگی مشقوں میں حصہ لینا واقعتا ’’تاریخ‘‘ بناسکتا ہے۔میں اس خبر پر اعتبارکرنے کو تاہم آمادہ نہیں ہوا۔

 5اگست 2019کے دن سے مودی سرکار مقبوضہ کشمیر پر جو عذاب مسلط کئے ہوئے ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھے ذاتی طورپر ایسی ’’تاریخ‘‘رونما ہونے کی امید نہیں تھی۔مذکورہ ’’خبر‘‘ دینے والے رپورٹر کا لیکن دعویٰ یہ بھی تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر طے ہوئی مشقوں کی ’’خبر‘‘ درحقیقت ہمارے یار چین کی سرکاری طورپر چلائی خبررساں ایجنسی نے دی ہے۔چینی ایجنسی ہی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ممکنہ مشقوں کا فیصلہ فروری 2021کے آخری ہفتے کے دوران ازبکستان کے تاریخی شہر تاشقند میں ہوئے SCOکی ایک ذیلی تنظیم کے اجلاس میں ہوا ہے۔پاکستان کے علاوہ چین،روس،کرغزستان،تاجکستان،بھارت اور ازبکستان کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔

 پاکستان کی سرزمین پر SCOکے زیر اہتمام جس جنگی مشق کا فیصلہ ہوا ہے اسے Pabbi Anti Terror 2021کا عنوان دیا گیا ہے۔پبی ہمارے خیبرپختونخواہ کے نوشہرہ کے قریب ایک مشہور مقام ہے۔جنرل راحیل شریف جب پاک فوج کے سربراہ تھے تو وہاں National Anti Terrorism Center(NATC)نامی ادارہ بنایا گیا تھا۔اس کی بدولت فراہم ہوئی تربیت نے پاک فوج کو فاٹا اور سوات میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے تیار کیا۔2021کے آخری مہینوں کے لئے تجویز کردہ مشق کا عنوان ایک حوالے سے NATCکی قابل رشک کامیابی کا اعتراف بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔

چینی ایجنسی میں شائع ہوئی خبر دیکھنے کے بعد ’’دی پرنٹ‘‘ کے رپورٹر نے تصدیق کے لئے بھارت کے دفاعی اداروں سے رابطہ کیا۔اسے بتایا گیا کہ پاکستان کی سرزمین پر SCOکے تحت مشترکہ جنگی مشقوں کا فیصلہ تو یقینا ہوا ہے۔بھارت نے مگر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس کے فوجی دستے مجوزہ مشق میں شریک ہوں گے یا نہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ برس کے اختتام میں ایسی ہی ایک مشق روس میں بھی ہوئی تھی۔روس کیساتھ پرانے تعلقات ہوتے ہوئے بھی بھارت کے فوجی دستوں نے مگر اس میں حصہ نہیں لیا۔ لداخ کے محاذ پر چین کے ساتھ رونما ہوئی سنگین کشیدگی اس کی عدم شرکت کی وجہ بتائی گئی۔

پاکستان کے ساتھ بھارت کی ان دنوں ویسی کشیدگی موجود نہیں۔چند ہفتے قبل بلکہ دونوں ممالک نے یہ اعلان کرتے ہوئے ہم سب کو حیران کردیا کہ کشمیر کی سرحد پر قائم لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے اس معاہدے کا کامل احترام ہوگا جو 2003کے آغاز میں واجپائی اور جنرل مشرف کے درمیان طے ہواتھا۔آج تک پاکستان اور بھارت کاایک رپورٹر بھی پتہ نہیں لگاپایا کہ فروری 2021کے آخری ہفتے میں ہوا یہ اعلان کیسے مرتب ہوا۔محض جبلی تجربہ ہی رپورٹروں کو یہ سوچنے کو مجبور کررہا ہے کہ ایسے اعلان ’’اچانک‘‘ نہیں ہوا کرتے۔بیک ڈور ڈپلومیسی یا خفیہ سفارت کاری کے نام پر ہوئی ملاقاتوں کا طویل سلسلہ ا یسے اعلان کا حقیقی سبب ہوا کرتا ہے۔

خفیہ سفارت کاری کا ذکر چلا تو اندازہ یہ بھی لگایا گیا کہ پاک-بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی کاوشیں طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔’’سیز فائر‘‘ والا اعلان بیک ڈور ڈپلومیسی کی بدولت طے ہوئے بندوبست کا محض آغاز ہے۔مذکورہ قیافے کو گویا درست ثابت کرنے کے لئے چند دن قبل اسلام آباد میں دفاعی امور پر نگاہ رکھنے والے تھنک ٹینکس کی ایک کانفرنس کا انعقاد بھی ہوا۔وزیر اعظم عمران خان صاحب کے بعد ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے بھی اس سے خطاب کیا اور اس کے ذریعے ماضی کو بھلاکر آگے بڑھنے کا پیغام دیتے ہوئے ہمیں مزید حیران کردیا۔

اس خطاب کے بعد خبریہ بھی آئی کہ 30مارچ کے روز سے تاجکستان کے شہر دوشنبہ میں جو علاقائی کانفرنس ہونا ہے اس کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ دوطرفہ ملاقات بھی کرسکتے ہیں۔اس ملاقات کے بعد ان دو ممالک کے سفیر اسلام آباد اور نئی دہلی میں انپے منصب پر واپس لوٹ آئیں گے۔2019سے ان شہروں میں قائم سفارت خانے ان کی عدم موجودگی میں کام کررہے ہیں جو سفارتی تعلقات میں کشیدگی کی علامت تصور ہوتے ہیں۔

خفیہ سفارت کاری کے ذ ریعے پاک -بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کا جو بندوبست صحافیوں نے فرض کررکھا ہے اس کی ’’تصدیق‘‘ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے لکھے ایک ٹویٹ کی بدولت بھی ہوگئی جو موصوف نے اپنے پاکستانی ہم منصب کی کرونا سے جلد از جلد شفایابی کی تمنا کے اظہا ر کے لئے لکھا۔23مارچ کے دن نریندر مودی نے عمران خان صاحب کو ایک خط بھی لکھ دیا ہے۔اس کے ذریعے پاک-بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی خواہش کا اظہار ہوا۔ہمارے ایک بہت ہی طاقت ور اور بااثر وفاقی وزیر جناب اسد عمر صاحب نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مذکورہ خط میں بیان ہوئی خواہش کا گرم جوش خیرمقدم کیا ہے۔

مذکورہ بالاواقعات کے باوجود میں دو ٹکے کاریٹائر ہوا رپورٹر اس خواہش کا اظہار کرنے کو مجبور محسوس کررہا ہوں کہ تمام تر مثبت اشاروں کے ہوتے ہوئے بھی ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ بھارت کے فوجی دستے پاکستان کی سرزمین پر ہونے والی کسی جنگی مشق میں شامل ہوکر ’’تاریخ‘‘ بنائیں۔