پاکستان کے ساتھ دھوکہ! – Irshad Bhatti

22

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلات

لو جی براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ بھی آگئی، بات ابتدا سے شروع کرتے ہیں، کچھ عرصہ قبل براڈ شیٹ کہانی سامنے آئی، شرمناک تفصیلات منظر عام پر آئیں، رولا پڑا، لے دے ہوئی، ایک دوسرے پر الزام تراشی بڑھی، مزید تحقیقات کا فیصلہ کیاگیا، 29جنوری کو حکومت نے شیخ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی براڈ شیٹ کمیشن قائم کیا، 9فروری 2021کو شیخ عظمت سعید کمیشن نے باقاعدہ تحقیقات کاآغاز کر دیا، 45 دن میں کمیشن نے رپورٹ دینا تھی اور 45 دنوں میں کمیشن نے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوادی، 5 سو صفحاتی تحقیقاتی رپورٹ، جس میں 62 صفحات کی انکوائری، 26 افراد کے بیانات قلمبند کئے گئے، کمیشن رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر برطانیہ میں سابق ہائی کمشنر اور سینئر سفارتکار عبدالباسط، حکومتی وکیل احمر بلال صوفی، وزارت قانون کے سابق جوائنٹ سیکرٹری غلام رسول اور نیب کے ڈیسک افسر حسن ثاقب کو 15لاکھ ڈالر حکومتی خزانے سے نکلوا کر غلط ہاتھوں میں دینے کا ذمہ دار قرار دیدیا گیا، کمیشن کے روبرو سب نے مانا ہم سے غلطی ہوگئی، کمیشن نے اس غلطی کو ناقابل یقین غلطی، فاش غلطی قرار دیا، کمیشن نے رپورٹ میں حکومتی اداروں کے عدم تعاون کا بھی ذکر کیا، کمیشن کو تحقیقات کے دوران جو مشکلات پیش آئیں وہ بھی انکوائری رپورٹ میں موجود۔

اب یہ سب کو معلوم کہ جون 2000 میں مشرف دور میں نیب نے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا تھا، معاہدے کے تحت براڈ شیٹ نے بے نظیر بھٹو اینڈ کمپنی، نوازشریف اینڈ کمپنی، سیاستدانوں، بیوروکریٹس، برنس مینوں کے ملک سے لوٹ کر باہر پڑے کالے دھن کا پتا چلا کر نیب کو بتانا تھا اور بتائے کالے دھن کا 20فیصد بطور کمیشن وصول کرنا تھا، اِدھر براڈ شیٹ نے کام شروع کیا، اُدھر صدر مشرف کو کرپٹ لوگوں کی ضرورت پڑگئی، مشرف حکومت نے کرپٹ لوگوں سے سمجھوتے کرنے شروع کردیئے، یہ صورتحال زیادہ دیر نہ چلی، 2003 میں نیب نے براڈ شیٹ سے معاہدہ یک طرفہ ختم کردیا، براڈ شیٹ نیب کے معاہدہ ختم کرنے کے خلاف لندن عدالت چلی گئی، کیس چلتا رہا، اس دوران 2007 میں حکومت پاکستان نے براڈ شیٹ کے ساتھ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کیلئے کوششیں شروع کیں، آخر کار براڈ شیٹ کے ساتھ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کا معاہدہ ہوا، اسی غرض سے پاکستان کی طرف سے معروف وکیل احمر بلال صوفی لندن گئے، لندن میں کاوے موسوی سے ملاقات کی، آخرکار براڈ شیٹ کو 15لاکھ ڈالر ادائیگی پر معاہد ہ ہوا، معاہدے کے تحت 15لاکھ ڈالر براڈ شیٹ کو ادا کر دیئے گئے، لیکن یہیں وہ مضحکہ خیز بلکہ مخولیا صورتحال پید اہوئی، 15لاکھ ڈالر کاوے موسوی کی اصل براڈ شیٹ کمپنی کی بجائے ڈاکٹر جیری جیمز کی براڈشیٹ کو ادا کر دیئے گئے، اصل براڈ شیٹ کمپنی پھر عدالت چلی گئی، کیس چلا، براڈ شیٹ کمپنی کیس جیتی، لندن ہائی کورٹ نے پاکستان کو اصل براڈ شیٹ کو سود اور اخراجات سمیت 33 ملین ڈالر ادائیگی کا حکم دیا، یاد رہے 33 ملین ڈالر ان 15لاکھ ڈالر کے علاوہ تھے جو نقلی براڈ شیٹ کو ادا کئے گئے تھے۔

یہ بھی یاد رہے ان 33 ملین ڈالر میں سے ساڑھے 4ارب کی ادائیگی ہوچکی ہے، باقی رقم دینی ہے، براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ کے مطابق پندرہ لاکھ ڈالر کی رقم دے کر جو سیٹلمنٹ کی گئی، وہ سیٹلمنٹ ریکارڈ بھی غائب کر دیا گیا یا چوری ہوگیا، تمام ڈیل پاکستان کے لندن ہائی کمیشن میں ہوئی، کمیشن رپورٹ بتائے لندن ہائی کمیشن میں فائل کی ایک کاپی رکھی گئی تھی وہ بھی چوری ہوگئی، براڈ شیٹ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ آصف زرداری کے سربمہر سوئس مقدمات کھولے جائیں، سوئس مقدمات کا وہ ریکارڈ جو 12ڈپلومیٹک بیگز میں پاکستان پہنچایا گیا، جو نیب کے اسٹور روم میں ہے اسکو کھول کر دیکھا جائے اور جائزہ لیا جائے کہ اس کا کیا کرنا ہے، کمیشن رپورٹ بتائے ’’کیا دنیا میں کوئی سفارتی معاہدہ ایسا ہوتا ہے کہ جس میں جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہو، سیکرٹری خزانہ بھی عوام اور حکومت کو جوابدہ ہیں، کاوے موسوی ایک ناقابل اعتبار شخص ہے، کاوے موسوی کے الزامات براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز سے باہر ہیں، ان الزامات پر تحقیقات حکومت کی صوابدید، اتنی بڑی رقم غلط شخص کو ادا کرنا ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ، وزارت خزانہ، وزارت قانون، اٹارنی جنرل آفس سے بھی ریکارڈ چوری ہوا جبکہ لندن ہائی کمیشن سے متعلقہ فائل سے بھی متعلقہ کاغذات نہ ملے‘‘۔

براڈ شیٹ قصہ کیا تھا، شریف الدین پیرزادہ، جیری جیمز، ڈاکٹر پیپر، کاوے موسوی کا کیا کردار تھا، یہ میں پچھلے کالم میں بتاچکا، پرویز مشرف، جنرل امجد، فاروق آدم خان، جنرل خالد مقبول، جنرل منیر حفیظ، طلعت گھمن اور طارق فواد ملک نے کیا کیا، یہ کہانی بھی آپ کو سنا چکا، پی پی، مسلم لیگ، تحریک انصاف حکومتوں نے کہاں کہاں غفلت برتی یہ دکھ بھی آپ تک پہنچا چکا، لطیف کھوسہ کا بحیثیت اٹارنی جنرل اور بحیثیت وکیل کیا کردار یہ بھی لکھ چکا، دو سو افراد جن سے لٹا دھن واپس لانا تھا، ان کا کیا بنا، شیرپاؤ، فیصل صالح حیات، فوزی علی کاظمی، ایڈمرل منصور الحق، زاہد علی اکبر سمیت سیاستدانوں، تاجروں، بیوروکریٹ کس پر کیا الزام اس حوالے سے بھی آپکو آگاہ کرچکا، یہ کہانیاں آج کا موضوع نہیں، آج براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ کا خلاصہ سامنے رکھ کر بتانا یہ کہ ملاحظہ فرمائیں، یہ کیسا ملک بلکہ کیسا بنانا ریپبلک کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ہمارے ارسطو لندن جاکر ایک کمپنی سے ڈیل کریں، آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کریں اور 15 لاکھ ڈالر ایک غلط مطلب جعلی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر وطن واپس تشریف لے آئیں، نہ صرف یہ پندرہ لاکھ ڈالر ضائع ہوئے بلکہ بلنڈر کا خمیازہ بعد میں اربوں روپے سود سمیت ادا کر کے جان چھڑانا پڑے، کیوں کیسا ہے، کیا کبھی کسی ملک میں ایسا سنا یا دیکھا، نہیں سنا نہیں دیکھا نا، مزید مزے کی بات بھی سنتے جائیے، ملک کا اربوں کا نقصان کروانے والے بقول شیخ عظمت سعید پاکستان کے ساتھ دھوکہ کرنے والے سب کے سب معزز، سب کے سب باعزت اور سب کے سب آزاد موجیں کررہے