پانچ باتیں جو ہماری درسگاہوں میں سکھانی چاہئیں – Yasir Pirzada

26

پہلی مثال۔کسی جاننے والے کا فون آیا، اُنہوں نے بتایا کہ اُن کابیٹا بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، ڈگری حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی اچھی کمپنی میں انٹرن شپ بھی کرے سومیں یہ کام کروا دوں۔ میں نے کہا کہ آپ بیٹے کو میرے پاس بھیج دیں۔ نوجوان آیا تو میں نے اُس کا مختصر سا انٹرویو لینے کی کوشش کی،وہ ہنس کر کہنے لگا کہ مجھے سچ مچ کی انٹرن شپ نہیں کرنی، ایک سرٹیفکیٹ درکار ہے کہ میں نے فلاں کمپنی میں دو ماہ کام کیا ہے، بس اسی بنیاد پر ڈگری مل جائے گی۔ اب دوسری مثال سُن لیں۔ حال ہی میں تمام تعلیمی اداروں نے آن لائن امتحانات منعقد کیے ہیں۔ ان میں سے بہت سے طلبا نے ایماندار ی سے بغیر نقل کیے امتحان دیا ہوگا مگر کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے نقل کی زحمت بھی نہیں کی اور اپنی جگہ کسی اور شخص کو پیسے دے کر امتحان دینے کے لئے بٹھا دیا۔ ندامت کا تو ذکر ہی نہیں، اُلٹا اِن طلبا کو اپنی اِس حکمت عملی پر فخر ہے۔ یہ دو مثالیں ملک کے تمام نوجوانوں کے کردار کی غمازی کرتی ہیں اور نہ ہی اِس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے ملک میں صرف جھوٹ اور دغا بازی سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طلبا کی اکثریت اُس اخلاقی احساس سے عاری ہے جس کی مدد سے درست او ر غلط بات میں تمیز کی جاتی ہے۔ اخلاقیات یااقدار ہماری زندگیو ں کے ایجنڈے پر شاید سب سے نیچے ہیں اور بہت سی وجوہات میں سے اِس کی ایک وجہ ہمارے اسکول اور کالج ہیں جوعلم بانٹنے کی بجائے نوجوانوں میںمحض سندیں تقسیم کررہے ہیں۔جس کے نتیجے میں نوجوانوں کاحال یہ ہوگیا ہے کہ بنیادی اخلاقی تعلیم، زندگی جینے کا ڈھنگ اور باہر کی دنیا سے نمٹنے کے بارے میں اُن کی معلومات قریباً صفر ہیں۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش اِس ملک میں کوئی ایسی دانش گاہ ہو جیسی افلاطون نے یونان میں بنائی تھی،جہاںایف اے، بی اے کروانے کی بجائے نوجوانوں کو اخلاقی اقدار کی تعلیم دی جائے، حلال اور حرام میںتمیز سکھائی جائے، درست او ر غلط کا فرق سمجھایا جائے، قانون اور آئین کی عملداری سے روشناس کروایا جائے اور نوجوانوں میں شعور اور ہمت پیدا کی جائے کہ وہ باطل کے مقابلے میں حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب نوجوانوں کی سوچ فقط نوکری کے حصول تک محدود نہ رہے۔ اِس قسم کی دانش گاہ تو شاید نہ بن پائے البتہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہماری درسگاہوں میں سکھانی شروع کر دی جائیں تو کسی حد تک افاقہ ہو جائے گا۔ اِس کام کے لئے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور نہ نئے اساتذہ کی بھرتی کی، اِس کاعلیحد ہ سے کوئی امتحان ہوگا اور نہ کوئی نیا ٹائم ٹیبل بنانا پڑے گا۔ اِس کام کے لئے کالج کے پرنسپل کو کسی سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں، اُس کے ذمے صرف یہ ہوگا کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کامیاب لوگوں کو کالج میں مدعو کرے گا جو نوجوانوں سے مکالمہ کریں گے اور انہیں یہ باتیں سکھائیں گے۔ وہ باتیں کیا ہیں؟

سب سے پہلے تو نوجوانوں میں اخلاقی احساس جگانا ضروری ہے، یہ بات پہلے ہو چکی، دنیا میں یہ کام اسکول کی ابتدائی جماعتوں سے ہی شروع کروا دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں نصابی کتابوں میں اخلاقی موضوعات پر کچھ مضامین شامل توکیے جاتے ہیں مگر انہیں پڑھایا یوں جاتا ہے کہ لگتا ہے جیسے اِن مضامین کو یاد کرکے فقط نمبر حاصل کرنا ضروری ہے، عملاً اِن اخلاقیات کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنا ضروری نہیں۔ دوسری بات، محبت اور انسان دوستی۔ ہماری درسگاہوں سے نکلنے والے نہ جانے دل میں اتنی نفرتیں کیوں لے کر نکلتے ہیں، دنیا سے اُن کی یہ نفرت ختم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ حب الوطنی کا مطلب باقی دنیا کو نیست و نابود کرنا نہیں ہوتا،ہمیں اپنے ملک، ثقافت اور روایات سے محبت کرنی چاہئے مگر اِس کے لئے باقی تمام دنیا کے کلچر اور رسوم ورواج پر تبرا کرنا لازمی نہیں۔تیسری با ت مالی معاملات سے متعلق ہے اور یہ عملی زندگی میں بہت اہم ہے۔ہماری درسگاہیں نوجوانوں کو دنیا جہان کی کتابیں رٹا دیتی ہیں مگر یہ نہیں بتاتیں کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد انہو ں نے پیسہ کیوں کر کمانا ہے، سرمایہ کاری کس چڑیا کا نام ہے، محدود سرمائے سے کاروبار کیسے شروع کیا جا سکتا ہے، آمدن اور بچت میں کیا توازن ہونا چاہئے !ہمارا نصاب بھی اِس ضمن میں خاموش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ انہو ں نے اب کیا کرنا ہے۔ہمارے کالج اور جامعات اگر اِس موضوع پر سال میں چند لیکچر رکھوا دیں تو نوجوانوں کا بھلا ہو جائے گا۔ چوتھی بات، جذباتی تربیت۔ اسکول کالج کی عمر میں نوجوا ن لڑکے لڑکیوں میں جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں، ہارمونز کا نظام بدلتا ہے، نوجوان بہت جذباتی ہوجاتے ہیں،ہر کسی کو عشق بھی ضرور ہوتا ہے۔ یہ عمر بہت نازک ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں اِس عمر کی جذباتی تربیت کا کوئی انتظام نہیں، میرے علم میں ایسا کوئی اسکول یا کالج نہیں جہاں کسی پرنسپل نے اپنے طلبا کی اِس ضرورت کو مد نظر رکھ کر کوئی کام کیا ہو۔اصولاً تو نوجوانوں کو یہ سہولت میسر ہونی چاہئے کہ وہ اپنی الجھنوں کے بارے میں کسی ماہر نفسیات سے تنہائی میں بات کر سکیں لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوتو کم از کم اُن کے لئے کسی تربیتی سیشن کا اہتمام ہی کر دیا جائے، یہی غنیمت ہے۔ آخری بات، تعلقات کیسے نبھائے جائیں۔ جوانی میں کوئی نہیں بتاتا کہ انسانی تعلقات زندگی میں کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ انسانی زندگی کا سب سے اہم پہلو ہے، اِس میں نوجوانوں کو تعلقات بنانے، استوار کرنے اور نبھانے کے بارے میں بتانا چاہئے اور اگر کسی سے تعلقات ختم ہو جائیں تو بتانا چاہئے کہ اُس صورتحال کو کیسے قبول کیا جائے۔ یہ باتیں سیکھنا یا سکھانا کوئی مشکل کام نہیں۔ کالج کا پرنسپل اگر متحرک ہو تو اپنے طلبا کی زندگیوں میں انقلاب لا سکتا ہے، اِس پوری محنت کے نتیجے میں اگر ایک بھی نوجوان عملی زندگی میں کچھ سیکھ جائے تو سودا برا نہیں!