’’نام لینے میں احتیاط کرو‘‘- Hassan Nisar

18

چشم بددور، حکومت بچوں کو عربی پڑھانے چلی ہے تو بندہ سوچتا ہے کہ صدیوں سے جن کی مادری زبان ہی عربی ہے، وہ کہاں کھڑے ہیں اور بین الاقوامی برادری میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ بندہ پرور! زبان تو ایک میڈیم ہے۔ اصل کہانی تو اعمال سے شروع ہو کر اعمال پر ختم ہوتی ہے اور دوسری طرف عربی زبان رٹانے والے تو ٹھیک، عربی پڑھانے والے آئیں گے کہاں سے؟ سستی شہرت کے ان شوقینوں کو علم بھی ہے کہ یہ زبان ہے کیا؟

ان نابغوں میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ عربی زبان میں شہد کے لئے 80 الفاظ، سانپ کے لئے 200، شیر کےلئے 500، تلوار کے لئے 1000، اور اونٹ کے لئے 5744 الفاظ موجود تھے جبکہ ہندی یورپی (INDO- EUROPEAN) زبانوں میں جس قدر الفاظ مروج ہیں ان کے تصوراتی مشتقات (ROOT CONCEPTS) کی تعداد زیادہ سے زیادہ 121 تک پہنچتی ہے۔ اور تو اور جس زمانہ میں سنسکرت ایک زندہ زبان تھی اور سورج، آگ کو دیوتا مانا جاتا تھا، اس زمانہ میں اس زبان میں سورج کے لئے کل 37 الفاظ تھے اور آگ کے لئے 35۔ یہ جاننا بھی شاید باعث حیرت ہو کہ قرآن کریم نثر کی سب سے پہلی کتاب ہے جو اس زبان میں لکھی گئی (بحوالہ لغات القرآن) لیکن فی الوقت میرا فوکس اس بات پر ہے کہ اس عالیشان زبان کو پڑھانے کا حق ادا کرنے والے لوگ لائو گے کہاں سے؟ ٹوپی ڈرامہ کرنا ہے تو شوق سے کرو۔

دوسری طرف میں اپنا ایک ذاتی تجربہ قارئین کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ میرے بچے، بیٹی محمدہ، بیٹے حاتم اور ہاشم بچپن سے آج تک جن حافظ قرآن قاری صاحب سے قرآنِ کریم پڑھ رہے ہیں وہ ہمارے گھر کا ریگولر فیچر ہیں جبکہ بچے ماشا ﷲ یونیورسٹی کالج تک پہنچ چکے۔ کچھ عرصہ پہلے جب میں نے قاری صاحب کو بتایا کہ اردو ترجمہ بار بار پڑھنے کے بعد اب میں بچوں کو انگریزی تراجم بھی پڑھائوں گا تو قاری صاحب نے ذرا برا سا منہ بنایا تو میں نے بات بدلنے کے لئے یملا بن کر عربی کے چند روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کے معنی پوچھے مثلاً صبر، احسان، امیر، شریعہ، خمر، زکوٰۃ وغیرہ کے لغوی معنی کیا ہیں؟حافظ قرآن قاری صاحب کو چالو قسم کے غلط العام معنی کے سوا کچھ معلوم نہ تھا جس میں ان کا قطعاً کوئی قصور نہ تھا کہ ہماری علمی فضا میں بھی اتنی ہی آلودگی ہے جتنی باقی قسم کی فضائوں میں پائی جاتی ہے۔

اپنے ارد گرد دیکھیں۔ لاعلمی کی انتہائوں پہ شرم بھی آتی ہے، دکھ بھی ہوتا لیکن آدمی کیا کرے؟ کہاں جائے؟ کس دیورسے سر ٹکرائے کہ ہر پڑھا لکھا اللہ پاک کے ننانوے (99) صفاتی ناموں، اسماء الحسنےٰ سے واقف ہے۔ یہ اسمائے حسنیٰ قرآن کریم میں موجود ہیں۔

کون نہیں جانتا کہ الرحمٰن (بے پایاں رحم کرنے والا) الرحیم(بڑا ہی رحم کرنے والا) الملک(جو تمام کائناتوں کا واحد مالک ہے) القدوس (غلطیوں اور عیوب سے پاک اور نقائص سے مبرا) السلام (امن و سلامتی کا سرچشمہ) المومن(آفات و عذاب سے امن و امان میں رکھنے والا) العزیز (بڑے اقتدار والا) الجبار (زبردست غلبہ رکھنے والا) الخالق (وجود بخشنے، پیدا کرنے والا)، الباری (ہر شے کو عدم سے وجود میں لانے والا)، الغفار (بڑا درگزر کرنے والا )، الوہاب (بے غرض بخشش اور سخاوت کرنے والا)، الرزاق (حاجت روا)، العلیم (ہر بات،چیز کا علم رکھنے والا)، الباسط (وسعت دینے والا)، الرافع(جو بلندیاں عطا کرتا ہے)، السمیع (بندوں کی سننے والا )، الغفور (بڑابخشش کرنے والا)، الحفیظ (سب کا محافظ، حفاظت کرنے والا)، المجید (بڑی بزرگی والا)، القوی (بڑی طاقت و قوت والا)، ﷲ رب العزت کے مبارک ناموں میں سے کچھ ہیں لیکن ذرا حال ملاحظہ فرمائیں کہ لاعلمی، بے خبری کے کوہ ہمالیہ پر براجمان اسلامی معاشرہ میں چلن کیا ہے؟

ﷲ معاف فرمائے عبدالرحمٰن کو رحمٰن، عبدالرحیم کو رحیم، عبدالقدوس کو قدوس، عبدالعزیز کو عزیز، عبدالجبار کو جبار، عبدالخالق کو خالق، عبدالغفار کو غفار، عبدالرزاق کو رزاق، عبدالرافع کو رافع، عبدالقوی کو قوی کہہ کر پکارا جاتا ہے جبکہ عبدﷲ کو پورا نام لے کر بلاتے ہیں کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جسے پکارا جا رہا ہے وہ ﷲ کا عبد ہے، نعوذ باللہ، ﷲ نہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ DEFINE تو کریں کہ کس حد تک کتنی عربی پڑھانی ہے کہ ادب آداب تو سیکھ جائیں، باقی یہ زبان پڑھنا پڑھانا کم ہی لوگوں کے بس کی بات ہوگی۔

پوری زندگی میں صرف ایک شخص دیکھا جو اپنا ادھورا نام لئے جانے پر سرزنش کرتا اور لوگوں کو سمجھاتا کہ وہ بے خبری میں بے ادبی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور یہ صاحب تھے مولانا عبدالستار نیازی مرحوم و مغفور جو ستار نیازی کہنے پر ڈانٹ دیتے اور سمجھاتے کہ میں ’’ستار‘‘ نہیں، اس کا عبد یعنی بندہ ہوں۔

آج کی اس ساری ایکسر سائز کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اگر یہ کالم پڑھ کر چند ہزار لوگ بھی نام لینے میں احتیاط کرنے لگیں تو سمجھوں گا معمول کی جھک نہیں ماری جو شاید میرے رب کو بھی پسند آئے۔

سوچو سمجھو تو کوئی بات کرو

نام لینے میں احتیاط کرو

عربی زبان سیکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)