نئے انتخاب کے منتظر ’’ذہن ساز‘‘ By Nusrat Javed

23

جہانگیر ترین کے وفادار اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی ایک علیحدہ گروپ کی صورت منظر عام پر آگئے ہیں۔ عمران حکو مت کو عدم استحکام سے دو چارکرنے میں یہ گروپ یقینا اہم کردار ادا کرے گا۔ انجام اس کا بھی تاہم ’’کمال کی ہٹی‘‘ جیسا ہوگا۔یہ ہٹی ایم کیو ایم کے کئی برسوں تک جانثار رہے مصطفیٰ کمال نے ’’پاک سرزمین‘‘ سے محبت کے دعویٰ کے ساتھ چلانے کی کوشش کی تھی۔ لندن میں بیٹھا ’’بانی‘‘ اس کا نشانہ تھا۔ وہ بے نقاب اور کمزور ہوگیا تو مصطفیٰ کمال کی ضرورت باقی نہ رہی۔ 2018کے انتخابات کی بدولت تحریک انصاف کراچی کی ’’نمائندہ‘‘ جماعت بن گئی۔مصطفیٰ کمال کے ساتھ ’’دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں‘‘ والا معاملہ ہوگیا۔

1990کے ابتدائی سالوں میں نواز شریف کی پہلی حکومت سے ناراض ہوئے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔اگست 1990میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت برطرف کردینے کے بعد اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ ایسے بندوبست کی توقع کررہے تھے جو غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم کو وزیر اعظم کے منصب تک پہنچانے میں مددگار ہو۔1985سے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے نواز شریف نے مگر پانسہ پلٹ دیا۔انہیں بددلی سے وزیر اعظم کا منصب سونپا گیا۔

وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوتے ہی نواز شریف نے ’’خودمختاری‘‘ دکھانا شروع کردی۔صدام حسین نے کویت پر قبضہ کیا تو اسلم بیگ سامراج مخالف بیانات دینا شروع ہوگئے۔ عراق میں ’’امریکہ کا ویتنام‘‘ ابھرنے کے خواب دکھانے لگے۔نواز شریف تاہم ’’امن مشن‘‘ میں مشغول ہوگئے۔ اگست 1999میں جنرل اسلم بیگ کی معیادِ ملازمت بھی ختم ہونا تھی۔ وہ مگر قوم کی مزید خدمت کے خواہاں تھے۔ نواز شریف تاہم ان کا حوصلہ بڑھانے سے گریز کرتے رہے۔ کمال مہارت سے بلکہ انہوں نے بیگ صاحب کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی جون 1991میں آصف نواز جنجوعہ کو آرمی چیف کے عہدے کے لئے نامزد کردیا۔

بیگ صاحب کی رخصت نے نواز شریف کو مزید پراعتماد بنادیا۔وہ موٹروے جیسے میگا پراجیکٹس کی تعمیر میں جت گئے۔عوام میں ’’پیلی ٹیکسیاں‘‘بانٹنے کا منصوبہ بھی متعارف کروایا۔لاہور سے اُبھرے صنعت کار کے متعارف کردہ منصوبے ان کی نگاہ میں قومی وسائل کا زیاں کرنے والے ’’اللے تللے‘‘ تھے۔دور حاضر کے ’’تاج محل‘‘۔

غلام اسحاق خان مگر ان دنوں کے آئین میں موجود آٹھویں ترمیم کے تحت میسر ہوئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی ایک وزیر اعظم کوفارغ کرچکے تھے۔ایک اور وزیر اعظم کو گھر بھیجنے سے گھبراتے رہے۔ ان کی آسانی کے لئے ہمارے ہاں سیاسی بساط تیار کرنے والوں نے ’’اِن ہائوس تبدیلی‘‘ کا منصوبہ بنایا۔ فیصل آباد کے ایک پرانے مسلم لیگی میاں زاہد سرفراز نے اسمبلی میں باغیانہ تقاریرفرمانا شروع کردیں۔سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے گھر رونق لگنا شروع ہوگئی۔ سوچ مگر یہ بھی چلی کہ پنجاب سے ابھرے نسبتاََ جوان وزیر اعظم کا پنجاب ہی سے متبادل ڈھونڈا جائے۔حامد ناصر چٹھہ لہٰذا ان دنوں کے جہانگیر ترین ہوگئے۔ فاروق لغاری، آفتاب شیر پائو اور چوہدری الطاف حسین کے ذریعے پیپلز پارٹی سے بھی روابط استوار ہوئے۔ حکمران جماعت میں ہوئی ’’بغاوت‘‘ نے اپریل 1993میں غلام اسحاق خان کو نواز شریف کی پہلی حکومت برطرف کرنے کے قابل بنایا۔ جسٹس نسیم شاہ کے سپریم کورٹ نے مگر اسے بحال کردیا۔ یہ ’’بحالی‘‘ مگر نواز شریف کے کام نہیں آئی۔نئے انتخابات کے سوا ’’سیاسی بحران‘‘ کا کوئی اور حل موجود ہی نہیں تھا۔ 1993میں انتخابات ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹ آئیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو 1996میں فارغ کرتے ہوئے صدر فاروق لغاری کے ارادے بھی کچھ اور تھے۔ وہ اپنی سرپرستی میں قائم ہوئی ’’عبوری حکومت‘‘ کو 90دنوں کے بجائے کم از کم دو سال تک چلانا چاہ رہے تھے۔ نئے انتخابات کروانے کو لیکن وہ بھی مجبور ہوئے۔ ان کے نتیجے میں نواز شریف ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ وزیر اعظم کے دفتر واپس آگئے۔ ان سے ’’نجات‘‘ حاصل کرنے کے لئے بالآخر جنرل پرویز مشرف ہی کو اکتوبر 1999میں قدم بڑھانا پڑا۔

جہانگیر ترین کی حمایت میں کھڑا ہوا گروپ ہماری ’’تاریخ‘‘ کو دہراتا نظر آرہا ہے۔2021کا پاکستان مگر 1993اور 1996کے پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ صدرِ پاکستان کو مثال کے طورپر اب قومی اسمبلی برطرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ وزیر اعظم کو فقط تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہی فارغ کیا جاسکتا ہے۔

جہانگیر ترین کی حمایت میں کھڑے ہوئے اراکین قومی اسمبلی کی معاونت سے ایوان زیریں میں موجود تمام اپوزیشن جماعتیں باہم مل کر عمران خان صاحب کو و زارت عظمیٰ کے منصب سے ممکنہ طورپر فارغ کرسکتی ہیں۔اس کے بعد مگر کیا ہوگا؟ اس سوال پر ہمارے ’’ذہن ساز‘‘ غور کی زحمت ہی نہیں کررہے۔

عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد نیا وزیر اعظم بھی منتخب کرنا ہوگا۔اس حوالے سے کئی نام زیر بحث ہیں۔ میرا جھکی ذہن تاہم انہیں یاوہ گوئی شمار کرتا ہے۔ فرض کیا اگر شہبازشریف بھی نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے تو انہیں ’’قومی حکومت‘‘ جیسی کوئی شے بنانا ہوگی۔ یہ حکومت مگر ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘‘ جمع کرتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت سے بھی کہیں زیادہ کمزور نظر آئے گی۔اس میں شامل افراد اپنے جثے سے کہیں بڑھ کر حصہ لینے کو بے چین رہیں گے۔نئے انتخاب کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی باقی نہیں رہے گااور حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج واضح انداز میں بیان کررہے ہیں کہ ’’قبل از وقت ‘‘ انتخاب کی بازی کونسی جماعت جیتے گی۔مجھے اس کا نام لینے کی ضرورت نہیں ۔ یہ دعویٰ کرنے کو اگرچہ مجبور ہوں کہ جہانگیر ترین سے وابستہ گروپ ’’قبل از وقت‘‘انتخاب کے بعد 1990کی دہائی میں حامد ناصر چٹھہ کے گرد جمع ہوئے گروپ کی طرح ہی نظر آئے گا۔

گزشتہ چند دنوں سے عمران خان صاحب تواتر سے ’’حکومت جاتی ہے تو جائے میں مافیاکے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گا‘‘والا فقرہ دہرائے چلے جارہے ہیں۔ان کی تکرار کو ذہن میں رکھتے ہوئے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے بجائے موجودہ قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ کرلیں۔اس فیصلے کے بعد مگر 90دنوں میں آئندہ انتخاب کے لئے ایک ’’عبوری حکومت‘ ‘بھی بنانا ہوگی۔ آئین کے مطابق وزیر اعظم کو قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت سے یہ حکومت بنانا ہے۔عمران خان صاحب مگر شہباز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کرتے۔’’عبوری حکومت‘ ‘لہٰذا کچھ ’’اور‘‘ لوگوں کو بنانا ہوگی۔فاروق لغاری کی بنائی عبوری حکومت کی طرح یہ حکومت بھی نوے دنوں میں نئے انتخابات کروانے کے بجائے ’’سنگین قومی بحران‘‘سے کماحقہ انداز میں نبردآزما ہونے کے لئے ’’کم از کم دو برس‘‘ کی طلب گار ہوگی۔یہ خواہش ’’سیاسی بحران‘‘ کو مزید گھمبیر بنادے گی۔سپریم کورٹ نے مطلوبہ مہلت فراہم کرنے سے انکار کردیا تو ’’قدم بڑھانا‘‘ ہوگا وگرنہ نوے دنوں کے دوران انتخاب کروانے کے سوا کوئی اور راستہ ہی موجود نہیں رہے گا۔نئے انتخاب کے منتظر ’’ذہن ساز‘‘ ایک اور اہم ترین پہلو پر بھی توجہ نہیں دے رہے۔مثال کے طورپر وزیر اعظم کو فقط قومی اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ دینے کا اختیار میسر ہے۔ صوبائی اسمبلیاں اس مشورے کی زد میں نہیں آتی۔ فرض کرلیتے ہیں کہ عمران خان صاحب کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب بھی نئے انتخابات کو تیار ہوجائیں تب بھی آئینی اور قانونی اعتبار سے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صوبائی اسمبلی تحلیل کا فیصلہ کریں۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔اس صورت میں قبل از وقت انتخاب فقط نئی قومی اور پنجاب اسمبلی کی تشکیل کے لئے منعقد کروانا پڑیں گے۔ سندھ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومتیں اپنی جگہ قائم رہیں گی۔ہماری سیاسی تاریخ میں ایسا قضیہ پہلی بار نمودار ہوا نظر آئے گا۔ ’’سیاسی بحران‘‘ اس کی بدولت گھمبیر ترہوجائے گا۔میرے مرحوم دوست فاروق قیصر نے ایک بار ’’افراتفریح‘‘ کی ترکیب ایجاد کی تھی۔ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہوا میں سنجیدگی سے محسوس کررہا ہوں کہ جہانگیر ترین کے وفاداروں نے عمران خان صاحب سے جدائی کا اعلان کرتے ہوئے ’’افراتفریح‘‘ کا ماحول بنا دیا ہے۔یہ ماحول میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کی پریشانیوں کا ازالہ نہیں۔اک تماشہ ہوگا جو شاید ہمارا جی بہلانے میں مدد گار ثابت ہو۔