میرے بچے By Habib Akram

37

میں ایک ایسے بیٹے کا باپ ہوں جس کی عمر تو بارہ سال ہے مگر اس کا ذہن تین مہینے کی عمر میں رک گیا ہے۔ وہ چل سکتا ہے نہ بیٹھ سکتا ہے اور نہ بغیر مدد کے کھا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے بقول اس بیماری کو سیریبرل پالسی کہتے ہیں جس میں بچوں کا دماغ پوری طرح نمو نہیں پاتا اس لیے ہاتھ پاؤں پر ان کا کنٹرول ختم ہوجاتا ہے۔ ہمارے اس بیٹے کا نام عبداللہ ہے۔ اپنی اس معذوری کے باوجود میرا یہ بیٹا ہمارے گھر کی رونق ہے۔ ہمارے لیے یہ بیٹا گھر کے نظام کی پرکار کا مرکز ہے اور ہم سب اس مرکز کا دائرہ۔ اس کے بڑے بہن بھائی اس سے بالکل اسی طرح محبت کرتے ہیں جس طرح انہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے گھر کی ساری آسائشیں دراصل اسی سے جڑی ہیں۔ ڈاکٹر نے جب ہمیں پہلی بار بتایا کہ اسے عام بچوں کی نسبت گرمی زیادہ لگتی ہے تو ہم اس قابل ہوئے کہ گھر میں اے سی لگوا سکیں۔ یہ کہیں اونچے بستر سے گر نہ جائے تو قدرت نے قالین کا بندوبست کردیا۔ اس کو ڈاکٹرکے پاس لانے لے جانے کے لیے گاڑی کی ضرورت پڑی تو اس کے لیے بھی وسائل مہیا ہوگئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہمیں پتا چلا کہ اس کا علاج ممکن نہیں تو اس کے بعد ہم سب گھر والے راضی برضا ہوکر اپنے اپنے فرض کی ادائیگی کیلئے تیار ہوگئے۔ پھر یہ بھی ہواکہ مجھے اس طرح کے سبھی بچے اپنے بچے لگنے لگے۔ معلوم نہیں یہ قدرت کا کارخانہ کیا ہے کہ ایک بار میں راولپنڈی جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی ایک تقریب میں گیا تو وہاں ایک شہید کا سولہ سالہ بیٹا بھی ملا جسے اس کی ماں اور دادا وہیل چیئر پرلائے تھے۔ وہ بچہ بھی اسی مرض کا شکار تھا جو میرے بیٹے کولاحق ہے، یعنی وہ بھی تین مہینے کی ذہنی عمر سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ پتا نہیں کیسے اس بچے کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ ہمکنے لگا، بالکل ایسے ہی جیسے میرا بیٹا مجھے دیکھ کر بے چین ہوتا ہے کہ اسے گود میں لے لوں۔ میں نے اس کی پیشانی چومی، اوراپنے بچے کی طرح پیار کیا تو وہ خوشی سے آوازیں نکالنے لگا۔ مجھے اس بچے میں محو دیکھ کر اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ حیران بھی تھی کہ آخر یہ بچہ مجھ سے اتنا مانوس کیوں ہوگیا ہے۔ جب میں نے اسے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا تو اس کے منہ سے بس اتنا نکلا، آج اس کے والد ہوتے تو شاید وہ بھی ایسا ہی کرتے۔ یہ سن کر بوڑھا دادا جو بیٹے کی شہادت تو ہنس کر سہہ چکا تھا میرے گلے لگ گیا۔ اور کیا کرتا، بہو سے آنسو جو چھپانے تھے۔
میرا بچہ ہو یا اس شہید کا بچہ، دونوں کے لیے قدرت نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ انہیں زندگی کا ہر سامان میسر ہے لیکن ایسا ہر بچہ اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا۔ میں نے اسی مرض کا شکار وہ بچے بھی دیکھے ہیں جن کے والدین کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ ان کے لیے ضروری دوا کا بندوبست ہی کر سکیں۔ ڈائپرز، مخصوص کھانے یا سردی گرمی سے بچاؤ کا انتظام تو بڑی دور کی بات ہے۔ غریب گھروں میں اس طرح کے بچے آخرکار نظر انداز کردیے جاتے ہیں اور یہ رویہ آخرکار ان کی جان لے جاتا ہے۔ بغیرکسی مدد کے جو بچہ کھا نہ سکے، خود کو صاف نہ رکھ سکے، کروٹ بدلنے کے لیے بھی وہ کسی کا محتاج ہو، اسے نظرانداز کردینا دراصل موت کے منہ میں ڈال دینے والی بات ہے۔ پھر یہ بھی سوچیے کہ وہ غریب جس کے گھر اس طرح کا بچہ پیدا ہوگیا اور وہ اپنے تندرست بچوں کو بھی ٹھیک طرح سے پالنے کے وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی کیا ہے؟
ان بچوں سے جڑا ایک اہم ترین مسئلہ سماجی ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ ایک دن میں اپنے بیٹے کو وہیل چیئر پر ڈال کر باہر نکلا تو اسے دیکھ کر سامنے سے آنے والا شخص کانوں کو ہاتھ لگانے لگا۔ مجھے اور میری بیوی کو جب اردگرد کے لوگ جب ترس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو یقین مانیے ہمیں اس رویے پر افسوس ہوتا ہے۔ اپنی طرف سے جب لوگ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے دلوں سے مٹ جانے والے زخم کو کھرچ کھرچ کر تازہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ہم دونوں اس طرح کی باتیں سن کر سب کے سامنے تو مسکرا دیتے ہیں یا حسب موقع اداس سا منہ بھی بنا لیتے ہیں، لیکن گھر آکر ایک دوسرے سے بات کرکے اپنا غصہ نکالتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ آپ کو یاد دلادوں کی جب پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے ایسے بچوں کو عذاب قرار دیا تھا تو ان بچوں کے والدین کے دلوں پر کیا گزری ہوگی؟ میرا دکھ اس لیے نہیں تھا کہ کسی نے ہمارے پھول جیسے بچوں کے بارے میں فضول بات کہی تھی، ہم جیسے والدین اس طرح کی واہیات باتیں سنتے ہی رہتے ہیں۔ میرا دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا ایک وزیر یہ بات کررہا تھا۔ دنیا کے مہذب ملکوں میں حکومتیں ایسے بچوں اور ان کے والدین کو مہمانِ خصوصی کا درجہ دیتی ہیں، ان بچوں کی وجہ سے والدین کو وظائف ملتے ہیں تاکہ ایسے بچوں کو کوئی بوجھ نہ سمجھے۔ دوسری طرف ہمارا وزیر… خیر چھوڑیے اس بات کو۔ جو حکومتیں آج تک اپنے ملک میں تندرست بچوں کا خیال نہیں رکھ سکیں ان سے اس طرح کے بچوں کی تو کیا امید ہی کیا؟
عبداللہ کا باپ ہونے کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنی حد تک اس طرح کے سبھی بچوں کا باپ بن کر دکھانا چاہیے۔ تین چار سال تک اس احساس کی شدت اتنی تھی کہ میں جس اعلیٰ حکومتی عہدیدار سے ملتا اسے توجہ دلاتا کہ اس طرح کے بچوں کا حکومتی سطح پر وظیفہ مقرر کیا جائے تاکہ ان بچوں کے والدین کو احساس ہو کہ کوئی ان کے ساتھ بھی کھڑا ہے‘ لیکن کبھی کچھ نہیں ہوا۔ ایک دن ایک اعلیٰ عہدیدار کو میں نے یہی مشورہ دیا تو مجھے اس کے رویے سے ایسا لگا جیسے میں اپنے بیٹے کے لیے وظیفہ لگوانا چاہتا ہوں۔ یہ دیکھ کر مجھے اپنی توہین کا اتنا شدید احساس ہوا کہ میں گاڑی میں بیٹھ کر غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش بھی کرتا رہا اور آنسو بھی بہاتا رہا۔ اس کے بعد میں نے اس طرح کی ہر کوشش ختم کردی۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان‘ جو اس طرح کے بچوں کے بڑے معروف ڈاکٹر ہیں، مجھے طویل عرصے سے ان بچوں کے لیے کچھ کرنے کے لیے مجبور کرتے رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد میں نے ان کی ترغیب کا جواب دینا بھی چھوڑ دیا اور کبھی کسی حکومتی عہدیدار سے اس معاملے میں کوئی بات نہیں کی۔ یوں بھی پاکستان کے نظام حکومت کے بارے میں میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے لے کر تادم تحریر اس میں چند ایک کو چھوڑ کر چن چن کر نالائق اور نکمے بھرے جارہے ہیں، اس لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھائی کی توقع رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے اتنا خوبصورت ملک برباد کرکے رکھ دیا، ان سے ایسے بچوں کی بات کرنا بھی اب جرم لگتا ہے۔ عرض کیا تھا کہ قدرت کا کارخانہ بھی عجب ہے۔ ان بچوں کے بارے میں کچھ اچھا بھی ہوا تو کہاں۔ سندھ میں، جی ہاں سندھ میں۔ بجٹ پیش کرنے کے اگلے روز وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ صوبائی حکومت سندھ میں رہنے والے اس طرح کے بچوں کو ایک لاکھ روپے سالانہ تک کا وظیفہ دے گی۔ مجھے لگا‘ پاکستان کا کوئی تو حصہ ایسا ہے جہاں کوئی میرے بیٹے کی طرح کے بچوں کیلئے سوچ رہا ہے۔ شاید سندھ میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جن کے بچے میرے بیٹے جیسے ہیں اور انہیں انکی پرورش کیلئے کسی مالی مدد کی ضرورت نہیں، لیکن ایسے بچوں کو معاشرے کا حصہ بنا دینے کیلئے اس مالی مدد کی بہت ضرورت ہے۔ میں اپنے اللہ کی مہربانی سے اپنے بچے کیلئے کسی مدد کا طلبگار نہیں لیکن میں اگر سندھ میں ہوتا تو اپنے بچے کیلئے یہ پیسے ضرور لیتا۔ اس لیے نہیں کہ مجھے ان کی ضرورت ہے، صرف اس لیے کہ ہماری ریاست کی ایک حکومت نے ہی سہی‘ ماں بن کے سوچا ہے۔ ماں کی طرف سے ملے پیسوں کی اہمیت صرف مادی ہی نہیں بلکہ ان پیسوں سے ان بچوں کو حیثیت اور شناخت بھی تو ملتی ہے۔ پیسے کم زیادہ کی بحث نہیں۔ سندھ کی حد تک ہی سہی میرے بچوں کو حیثیت، شناخت اور عزت تو ملی ہے۔ مراد علی شاہ نے کم سے کم اتنا تو کیا ہے۔