میاں صاحب کیلئے ایک مشورہ – Hassan Nisar

27

آزاد کشمیر میں جو کچھ ہوا، توقعات اور تخمینوں کے عین مطابق ہوا اور جو ماتم جاری ہے یہ بھی غیرمتوقع نہیں، ہماری روایات کے مطابق ہے، ہمارے نام نہاد جمہوری کلچر کا حصہ ہے جسے آپ چاہیں تو ’’جمہوریت کا حُسن‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات کہ جمہوریت کا یہ جمال و جلال ’’کاسمیٹک سرجری‘‘ کا مرہونِ منت ہے۔ ایک ن لیگیے کا کہنا ہے کہ ’’پیسا چلا‘‘۔ درست ہے کہ پیسا چلا اور چلتے چلتے خاندان سمیت لندن پہنچ گیا اور وہاں مسلسل ’’عوامی پذیرائی‘‘ سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ’’عزت افزائی‘‘ اور ’’عوامی پذیرائی‘‘ میں مزید اضافہ ہوگا۔

مریم نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو یہ بھی ہماری جمہوری اقدار کا حصہ ہے۔ مریم کے ابا جی بھی بہت سے حقائق اور سچائیوں سے انکاری ہیں لیکن کب تک؟ اس جمہوری دھوکہ منڈی میں مجھے تو ایک بھی ایسا الیکشن یاد نہیں جس میں دھاندلی کا شور نہ مچا ہو لیکن اس بار کے شور شرابے میں ایک خطرناک قسم کی قلمی مہم کچھ دب سی گئی ہے۔ کچھ مہربان میاں نواز شریف کو ضمیر، غیرت، عزت، قیادت کے واسطے دے کر وطن واپسی کے لئے اُکسا رہے ہیں۔ اُنہیں چُک چکا کر ’’ہیرو‘‘ بننے کے لئے موٹی ویٹ کر رہے ہیں۔ ’’شیر بن شیر‘‘ اور ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ جیسے محاورے، مقولے اور لطیفے سنا رہے ہیں۔ گو مجھے یقین ہے کہ میاں صاحب ان حضرات کے بہکاوے میں ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے اندر کا حسابی کتابی بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک دن کی زندگی کا سو سال کی زندگی سے مقابلہ اور موازنہ احمقانہ حرکت ہے جو صرف ٹیپو سلطان اور بھٹو جیسوں پر ہی جچتی ہے، لیکن سچی بات ہے میں ڈر سا گیا ہوں اور کوئی چانس لینے کے لئے تیار نہیں اس لئے میاں صاحب کو بروقت خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے پروپیگنڈے سے بچیں اور ’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘ جیسے مصرعوں پر مٹی ڈالیں کیونکہ ﷲ میاں نے ممولے کو شہباز کی خوراک کے طور پر ڈیزائن کیا ہے، اس کے ساتھ پنگے لینے کے لئے ممولا یا ممولی جتنی بھی سرپھری ہو، شہباز کے ایک ہلکے سے دھپے کی مار بھی نہیں۔ جس کے پاس کھربوں ڈالر ہوں وہ صرف ’’لکھپت‘‘ پر اکتفا کرلے؟ یہ ظلم اور زیادتی کی انتہا ہے۔ ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘۔ سو میاں صاحب کو اس طرح کی تجاویز اور مشوروں سے بچنا ہوگا۔ جان ہے تو جہان ہے، جہان ہے تو دستر خوان ہے۔ گھوڑی چڑھنے اور پھانسی چڑھنے میں بہت فرق ہے، میاں صاحب! سو ایسی لچھے دار تحریروں اور تقریروں سے بچیں کہ ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے؟ ابھی تو آپ نے پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی خوشیاں دیکھنی ہیں۔ کھدیں کھانی ہیں۔

غضب خدا کا اکرم چودھری نے تو حد ہی کردی۔ کالم کی سرخی ہی کسی سازش سے کم نہیں یعنی ’’میاں صاحب تشریف لائیں یہ آپ کا اپنا ملک ہے‘‘۔ جہاں قدم قدم پر احتساب کے پھندے ہوں، وہاں تو ’’دی ٹریپ‘‘ کا ہیرو اولیور ریڈ ہی جا سکتا ہے۔ اور یہ جو شعر ہے ناں ؎

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامتی رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

صرف تحریروں، تقریروں میں استعمال ہونے کے لئے ہے۔

حقیقی زندگی اور زمینی حقائق کے تقاضے کچھ اور ہیں جنہیں آپ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی میں ڈر رہا ہوں۔

جس دھج سے کوئی محلوں میں گیا وہ شان سلامتی رہتی ہے

یہ عزت آنی جانی ہے، عزت کی تو کوئی بات نہیں

چھوٹے چودھری صاحب کی بھٹو اور بےنظیر بھٹو جیسی مثالوں کے چکر میں نہ آئیں۔ ’’شیر‘‘ بطور انتخابی نشان ہی ٹھیک ہے باقی ہیر پھیر ہے۔ ’’چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا‘‘ والے فلسفہ پر غور کریں اور اس طرح کی لغویات پر ہرگز ہرگز کان نہ دھریں۔

“LESS IS SOMETIMES MORE: HONOR IS MORE THAN HONORS.”

یا . . . . GROVERکا یہ جملہ

“FROM OUR ANCESTORS COME OUR NAMES; FROM OUR VIRTUES, OUR HONORS.”

مر کے امر ہونا بیوقوفوں کا کام ہے۔

وہ لوگ احمق ہیں جو زندگی میں ’’وجہ مرگ‘‘ اور ’’جگہ مرگ‘‘ کے چکروں میں پڑے رہتے ہیں۔ اس لئے جب تک وہاں ٹکے رہ سکتے ہیں، ٹکے رہیے۔ رہ گئی سڑکوں، ریستورانوں پر چھوٹی موٹی توتکار، ہلکی پھلکی گالم گلوچ تو خیر ہے کیونکہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، اور کوئلوں کے کاروبار میں تھوڑی بہت کالک ملی بھی جائے تو صابن کس مرض کی دوا ہے۔ دو چار عابد شیر علی ساتھ رکھ لیں اور یوں بھی قانونِ قدرت ہے بندہ آہستہ آہستہ عادی ہو جاتا ہے۔

تم جیو ہزاروں سال۔ دیکھو دیکھو کون آیا؟