ملالہ کی تصویر والی کتاب – Yasir Pirzada

19

جس طرح بھارتی فلموں میں جب کوئی پاکستانی علاقہ دکھایا جاتا ہے تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر مرد کے سر پر ٹوپی ، چہرے پر داڑھی اور کندھے پر رومال ہوگا اور وہ بات بات پر ’’جناب ‘‘ کہتا پھرے گا، اسی طرح ہماری درسی کتب میں بھی یہ فرض کر لیا گیاہے کہ شرافت کا معیار دوپٹہ ہے ۔عورت کے لئے شرافت کا یہ معیار پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے طے کیا ہے۔ یہ وہی ٹیکسٹ بک بورڈ ہے جس نے پچھلے دنوں پولیس کی معیت میں شہر کی مختلف دکانوں پر چھاپے مارے اور وہاں سے ساتویں جماعت کے لئے شائع شدہ وہ کتاب ضبط کر لی جس میں ملالہ یوسفزئی کی تصویر تھی ۔اِس کے بعد ٹیکسٹ بک بورڈ نے اخبارات کو ایک حکم نامہ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ کتاب شائع کرنے والے غیر ملکی اشاعتی ادارے نے چونکہاجازت نامہ (این او سی ) نہیں لیا تھا اِس لئے قانون کے مطابق کتاب ضبط کر لی گئی ۔

یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ پہلا، این او سی دینا بورڈ کا کام ہے ، درجنوں کے حساب سے کتابیں بورڈ کی کمیٹیوں کے پاس جمع ہیں جن کا نہ این او سی جاری کیا جاتا ہے اور نہ انہیں کوئی جواب دیا جاتا ہے کہ آپ کی کتاب پر فلاں فلاں اعتراضات ہیں ، نتیجتاً ناشران بغیر این او سی کے وہ کتب چھاپ دیتے ہیں ، بورڈ اُس پر کوئی ایکشن نہیں لیتا ، کیونکہ بورڈ میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ہر کتاب کو تین مرتبہ مختلف کمیٹیوں کی چھلنی سے گزارے اور اُس کے بعد مکمل پڑتال کرکے این او سی جاری کرے۔اِس معاملے میں بھی اشاعتی ادارے کی این او سی کی درخواست بورڈ کے پاس 2019سے جمع تھی مگر بورڈ کے حکام دھنیا پی کر سوئے رہے اور اُس کے بعد یکایک جب کسی نے انہیں دو ہتڑ مار کر کہا کہ ملالہ کی تصویر والی کتابیں ضبط کرو تو انہو ں نےحکم کی تعمیل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ چھاپہ مار ٹیم کے اہلکاروں نے دکانوں پر جا کر کسی سے این او سی طلب نہیں کیا بلکہ سیدھا ملالہ کی تصویر والی کتاب مانگی اور بحق سرکار ضبط کرلی۔ دوسرا سوال، ایک لمحے کے لئے فرض کر لیں کہ اشاعتی ادارے نے این او سی نہیں لیا تو اِس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ یہ کتاب دکانوں سے ہی اٹھا لی جائے ، آپ قانوناً اسکولوں کو خط لکھ سکتے تھے کہ یہ کتاب اجازت کے بغیر شائع ہوئی ہے اِس لئے بچوں کو نہ پڑھائی جائے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ عام شہری کو کس قانون کی رُو سے یہ کتاب پڑھنے سے روک سکتا ہے ؟بورڈ نے کس ضابطے کے تحت شہر کی تمام دکانوں سے اِ س کتاب کی کاپیاں اٹھائیں ؟ تیسرا سوال، بورڈ کے پاس این او سی کی درخواست موجود ہے ، کیا ایک ہفتے کے اندر اندر بورڈ اِس درخواست کو نمٹا کر بتا دے گا کہ اِس کتاب میں کون سا مواد ایسا ہے جو نا قابلِ اشاعت ہے جس کی وجہ سے این او سی جاری نہیں کیا گیا؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا ۔کیونکہ کتاب کی ضبطی کی وجہ این او سی نہیں وجہ ملالہ کی تصویر ہے ، اگر اِس کتاب میں ملالہ کی تصویر نہ ہوتی تو کسی کے کا ن پر جوں بھی نہ رینگتی اور بورڈ کے خود ساختہ راست باز اہلکار یوں حرکت میں نہ آتے ۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا این او سی جاری کرنے کا طریقہ کار بھی نہایت پیچیدہ ہے ، تین کمیٹیاں ہیں جو مختلف مراحل پر کتابوں کی پڑتال کرتی ہیں اور اُن میں سے ایک متحدہ علما بورڈ بھی ہے۔ متحدہ علما بورڈ کا کام درسی کتب میں صرف یہ دیکھنا ہے کہ آیا کوئی مواد دین کے خلاف تو نہیں ۔ یہاں بھی دو سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ اول، یہ دائرہ کہاں کھینچا جائے گا کہ کوئی چیز دین کے خلاف ہے یا نہیں ، کیونکہ اگر حیاتیات کی کتابوں میں کلوننگ یا زندگی کے آغاز کے بارے میں سائنسی تحقیق پڑھائی جائے گی تو عین ممکن ہے کہ وہ مذہبی تعبیر کے عین مطابق نہ ہو بالکل ویسے جیسے گلیلیو نے کہا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو چرچ نے اسے خلافِ دین کہہ کر مقدمہ چلا دیا تھا۔دوسرا سوال ، کیا یہ حق صرف دائیں بازو کے ایک مخصوص طبقے کو ہی حاصل ہے کہ وہ اِس بات کا تعین کرے کہ اُن کی کس بات سے دل آزاری ہوتی ہے یا معاشرے کے دیگر طبقات بھی جان کی امان پا کر اپنی گزارشات پیش کر سکتے ہیں ؟اور اگر پیش کر سکتے ہیں تو کیا کوئی کمیٹی ایسے آزاد خیال لوگوں کی بھی موجود ہے جو اِ س زاویے سے درسی کتب کی پڑتال کرکے بتائے کہ اُن میں کون سا مواد انتہاپسندی کا سبب بن رہا ہے؟اور اگر ایسا ہے تو اب تک ایسی کتنی کتابیں بورڈ نے چھاپے مار کر دکانوں سے اٹھائی ہیں؟

پچھلے دنوں اِس بات کا بھی خاصا واویلا ہوا کہ نصابی کتابوں کی پڑتال کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں کسی نے نیوٹن کو عورت سمجھ کر کہا کہ اُس کی تصویر کو دوپٹے میں دکھایا جائے اور ایک دوسرے اجلاس میں متحدہ علما بورڈ نے کہا کہ بیالوجی کی کتابوں سے انسانی جسم کی تصاویر نکال دی جائیں ۔پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا اِس بارے میں کہنا ہے کہ درسی کتب کی پڑتال کے وقت ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ، نہ کوئی تحریری حکم جاری کیا گیا اور نہ ہی کسی فائل پر یہ بات لکھی گئی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ کمیٹی کے اجلاس میں درسی کتب کے ناشران بھی موجود ہوتے ہیں اور انہیں زبانی کہا جاتا ہے کہ اپنی کتاب سے فلاں فلاں چیزیں حذف کردیں ، تحریری حکم نہیں دیا جاتا ۔ مجبوراً ناشران کو وہ باتیں ماننی پڑتی ہیں اور اجلاس کی کارروائی انہی لوگوں کے ذریعے اخبارات میں رپورٹ ہوتی ہے۔ بیالوجی سے انسانی جسم کی تصاویر حذف کرنے والے اجلاس کی کارروائی ’’بک پبلشرز ایسوسی ایشن ‘‘کے صدر کے حوالے سے ایک موقر انگریزی روزنامے میں شائع ہوئی اور آج کی تاریخ تک اِس خبر کی تردید کی زحمت کسی متعلقہ فرد یا ادارے نے نہیں کی ۔

رہی بات ملالہ کی تو میری رائے میں ملالہ کوئی فلاسفر یا دانشور نہیں اور نہ ہی اُس نے کوئی ایسا نظریہ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے اسے جینئس مان لیا جائے ۔ملالہ ایک استعارہ ہے انتہا پسندی کے خلاف ۔ جس طرح ہماری پاک فوج میں میجر عزیز بھٹی شہید سے کہیں زیادہ قابل افسر ہوں گے مگر عزیز بھٹی بہادری کا ایک سمبل بن گئے ،بالکل اسی طرح لاکھوں بچیاں ملالہ سے زیادہ ذہین ہوں گی مگر ملالہ انتہا پسندی کے خلاف ایک سمبل بن گئی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی ملالہ کو ہیرو مانتا ہے یا نہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ آپ انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں یا اُن کے مخالف ہیں؟